جنوری کے آخری ہفتے پھر آئی ایم ایف کے پاس جائیں گے، شوکت ترین

شوکت ترین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جنوری کے آخری ہفتے پھر جائیں گے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جنوری کے آخری ہفتے پھر جائیں گے ، کوشش ہوگی دونوں بلز جلد ازجلد پارلیمنٹ سے منظور کرالیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قانونی بلز پر اعتراضات اٹھانا اپوزیشن کا کام ہے ، اعتراضات اپوزیشن نہیں اٹھائے گی تو کون اٹھائے گا، گورنر اسٹیٹ بینک کی مدت ملازمت کے دورانیے پر آئی ایم ایف سے بات کریں گے۔

وزیر خزانہ نے گورنر اسٹیٹ بینک کی مدت ملازمت میں 5 سالہ توسیع نہ کرنے کا عندیہ دیدیا ہے ، ترمیمی بل کے تحت مدت ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کرنے کی تجویز ہے۔

اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں چیئرمین فیض اللہ کموکا کی سربراہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا تھا۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کمیٹی کے ارکان کو اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پر تفصیلی بریفنگ دی۔

شوکت ترین نے بتایا تھا کہ نئی قانون سازی سے اسٹیٹ بینک مادر پدر آزاد نہیں ہوگا ، اس پر حکومت پاکستان کا کنٹرول برقرار رہے گا، حکومت بورڈ آف ڈائریکٹرز کے نام نامزد کرے گی، بورڈ ارکان کے تقرر کی منظوری کا اختیار بھی حکومت کے پاس ہوگا۔

شوکت ترین نے بتایا تھا کہ آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ حکومت اسٹیٹ بینک سے قرضہ نہیں لیں گے، ہم نے ویسے بھی ڈھائی سال سے مرکزی بینک سے کوئی قرض نہیں لیا، البتہ پہلے سے 7 ہزار ارب روپے قرض ہم پر ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ گزشتہ برس مارچ میں 50 کروڑ ڈالر کے بدلے آئی ایم ایف کی بعض سخت شرائط مانی گئیں تاہم موجودہ بل اس سے بہت حد تک مختلف ہے۔

شوکت ترین نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط بھی مانی گئیں لیکن اپنی بھی منوائیں گئی ہیں، ہم خود مختار ملک ہیں یہ آخری آئی ایم ایف پروگرام ہوگا۔