اس نے اپنے بچوں کے لیے ایک ذلت آمیز مقابلے میں حصہ لیا اور جیت گئی

یہ ٹھیک ہے کہ دنیا نے خوب صورتی اور بد صورتی کے لیے ظاہری معیار قائم کیے ہوئے ہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت خوب صورت دکھائی دینے والی عورت کی بدمزاجی سے جب ہمارا سامنا ہوتا ہے تو پھر ہمیں اس کے حسن میں بھی بدصورتی نظر آنے لگتی ہے، یہی معاملہ ظاہری بدصورتی کا بھی ہے۔

دنیا میں ایک ایسی عورت بھی گزری ہے جس نے بدصورتی کا باقاعدہ ایوارڈ حاصل کیا، لیکن کیوں؟ یہ جان کر کچھ لوگوں کو چہرے مہرے سے بدصورت دکھائی دینے والی وہ عورت دنیا کی سب سے خوب صورت عورت نظر آنے لگتی ہے۔

پیشے سے نرس مَیری این بیون کا تعلق برطانیہ سے تھا، وہ مشرقی لندن کے ایک محنت کش گھرانے میں پیدا ہوئی، اس کے 8 بہن بھائی تھے، ایک وقت تھا جب وہ عام زندگی جی رہی تھی، اور پھر دنیا اسے بدصورت ترین عورت کے طور پر پہچاننے لگی، 32 سال کی عمر تک وہ نارمل تھی، پھر اس کی شادی ہو گئی، اور تب ایک دن وہ ایک نہایت کمیاب بیماری ایکرومیگالی (Acromegaly) کا شکار ہو گئی، جس نے اس کے چہرے مہرے کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی بھی بگاڑ دی۔

یری این بیون کی شادی 1903 میں تھامس بیون نامی شخص سے ہوئی، جس سے ان کے 4 بچے ہوئے، بیماری کی وجہ سے رفتہ رفتہ اس کا چہرہ مسخ ہو گیا، شدید سر درد رہنے لگا اور بینائی بھی ختم ہو گئی۔ 1914 میں شوہر کے انتقال کے بعد قرض واپس کرنے اور اپنے چار بچوں کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس نے ذلت آمیز مقابلے میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور “دنیا کی بدصورت ترین عورت” کا تلخ ترین خطاب جیت لیا، اسی بدصورتی وجہ سے ایک سرکس نے اسے ملازمت پر رکھ لیا۔

سرکس شو کے لیے وہ مختلف شہروں کا دورہ کرتی، جہاں لوگ اس پر ہنسنے کے لیے آتے، لیکن اس نے اپنے بچوں کی پرورش اور انھیں بہتر معیار زندگی دینے کے لیے دوسروں کے طنز اور ذلت کو برداشت کیا، اپنی زندگی کا بیش تر حصہ لوگوں کے طنزیہ رویے اور مذاق کا سامنا کرتے کرتے 1933 میں میری این بیون انتقال کر گئی۔

Acromegaly

یہ ایک کم یاب حالت ہے جس میں جسم بہت زیادہ گروتھ ہارمون (جسمانی اعضا بڑھانے والے ہارمون) پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سے جسم کے ٹشوز اور ہڈیاں زیادہ تیزی سے نشوونما کرنے لگتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ غیر معمولی طور پر بڑے ہاتھ اور پاؤں، اور اسی طرح کی دیگر علامات سامنے آتی ہیں۔ ایکرومیگالی عام طور پر 30 سے 50 سال کی عمر کے بالغوں میں تشخیص کی جاتی ہے، لیکن یہ کسی بھی عمر کے لوگوں کو متاثر کر سکتی ہے۔