سرکاری گاڑیوں کی تعداد میں50فیصد کمی کرنے کا فیصلہ

پنجاب حکومت نے سرکاری گاڑیوں کی تعداد میں 50 فیصد کمی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اسموگ پر قابوپانے کے لیے موثر اقدامات کا حکم جاری کرتےہوئے کہا ہے کہ اسموگ پر قابو پانے کے حوالے سے غفلت برداشت نہیں کروں گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت اسموگ پر قابو پانے کیلئے اقدامات کا جائزہ لینے کے متعلق اجلاس ہوا۔

ذرائع کے مطابق عثمان بزدارنے سرکاری گاڑیوں کی تعداد میں 50 فیصد تک کمی کی ہدایت بھی جاری کیں اور کہاکہ  محکموں کے سیکریٹریزگاڑیوں کی تعداد کم کرکے رپورٹ وزیر اعلیٰ آفس جمع کرائیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ متعلقہ محکمے ذمہ داری کے ساتھ فرائض ادا کریں، فیکٹریوں کے خلاف موثر انداز میں بلا امتیاز کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے۔

عثمان بزدار نے مزید ہدایت جاری کی کہ ٹائرجلانے والی فیکٹریوں کے خلاف قانون کے تحت ایکشن لیا جائے اور الیکٹرک بسوں کی خریداری کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

الیکٹرک بسوں کے حوالے سے جلد ازجلد حتمی پلان پیش کیا جائے، کوڑا کرکٹ کو جلانے کی پابندی کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے ہدایت کی کہ کرشنگ پلانٹس کو اینٹوں کے بھٹوں کی طرح جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جائے گا، کرشنگ پلانٹس کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے لیے جامع پلاننگ کی جائے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دھان کی کٹائی کیلئے ہارویسٹرکو ڈیوٹی فری کرنے کی تجویز وفاقی حکومت کو پیش کی جائے گی

واضح رہےکہ پنجاب بھر میں فضائی آلودگی کا زور برقرار ہے جبکہ  لاہور میں اسموگ نے ڈیرے ہی ڈال لئے۔

فضائی آلودگی کے اعتبار سے آج بھی لاہور دنیا کےآلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پرہے۔

ایئرکوالٹی انڈیکس کے مطابق لاہور کی فضاؤں میں آلودہ ذرات کی مقدار 501 جبکہ کراچی میں 154 پرٹیکیولیٹ میٹرز ریکارڈ کی گئی۔

ائیرکوالٹی انڈیکس کے مطابق دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں بھارت کا شہر دہلی دوسرے جبکہ کولکتہ تیسرے نمبر پر ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی میں فضائی آلودگی بڑھنے سے بچوں میں سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

فضائی آلودگی کی وجہ سے دہلی میں تعلیمی اداروں کو ایک ہفتے کے لیے بند کر دیا گیا ہے جبکہ بھارتی سپریم کورٹ نے بھی فضائی آلودگی کا نوٹس لیا ہے۔

دو روز قبل اسموگ کی روک تھام کے لیے ضلعی انتظامیہ لاہور کے انسداد اسموگ اسکواڈ نے سخت کاروائیاں کرتے ہوئے 43 انڈسٹریل یونٹس کو چیک کیا۔

فضا میں دھواں چھوڑنے اور آلودگی کی روک تھام کے لیے آلات نہ ہونے پر 21 انڈسٹریل یونٹس میں خلاف ورزی پائی گئی۔

اس موقع پر سخت ایکشن لیتے ہوئے 21 انڈسٹریل یونٹس کو سیل کر دیا گیا۔

ڈی سی لاہورعمر شیر چٹھہ کا کہنا ہےکہ شہر کے انڈسٹریل یونٹس کی چیکنگ کے لیے پانچ تحصیلوں میں انسداد اسموگ اسکواڈ ٹیمیں موجود ہیں۔

ایئرکوالٹی انڈیکس کی درجہ بندی

ایئرکوالٹی انڈیکس کی درجہ بندی کے مطابق 151 سے 200 درجے تک آلودگی مضرِ صحت ہے۔

201 سے 300 درجے تک کی آلودگی انتہائی مضرِ صحت ہوتی ہے جبکہ 301 سے زائد درجہ خطرناک آلودگی کو ظاہر کرتا ہے۔