کوئلے کی کانوں سے کالا سونا نکالنے کے دشوارمراحل

پنجاب میں کوئلے کی کان سے روزانہ کئی ٹن کوئلہ نکالا جاتا ہے۔ مزدوری کے دوران کوئی کان کن مرجائے تونہ معاوضہ ملتا ہےاورنہ ہی کسی اور قسم کی مالی مدد کی جاتی ہے۔

چکوال کے سرسبز پہاڑوں کے درمیان ہزاروں فٹ گہری کوئلے کی کانیں ہیں۔کوئلے کی کان میں مزدورں کی ہر سانس موت کے سائے تلے گزرتی ہے اور روزگار کمانے کےلیے انہیں روزانہ ان کانوں میں اترنا پڑتا ہے۔

کان میں موجود منوں وزنی پہاڑ کسی وقت بھی مزدروں پر گر سکتا ہے۔کان میں آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ راستہ تنگ ہوتا جاتا ہے اورکان کو لکڑيوں کے تختےکی مدد سے کھڑا کيا جاتا ہے۔

ان کانوں میں لیٹ کر کوئلے کا پہاڑ کاٹا جاتا ہے اور گردن تک سیدھی کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

مان میں موجود مزدور کو جب خطرہ محسوس ہوتا ہے تو وہ  رسی کو 3 بار کھینچتا ہے اور اس سے باہر لگی گھنٹی بجتی ہے۔ کان کنوں کو روزانہ کے صرف  1ہزار روپے ملتے ہیں