پیٹرولیم مصنوعات میں 9 روپے تک کا اضافہ متوقع

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین آج (جمعہ کو) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹلینا جیارجیوا سے ملاقات کریں گے۔

ایسے میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سمری کے مطابق حکومت کی جانب سے آئندہ 16 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9 روپے اضافے کا امکان ہے۔

 اوگرا کو قیمتوں کے حوالے سے اس کی تجاویز خفیہ رکھنے کی سختی سے ہدایت کی گئی ہے کیوں کہ قیمتوں میں اضافے کے لیے حکومت کو اس کے حساب سے آگے بڑھنا پڑ سکتا ہے تاکہ پیٹرولیم لیوی کو کم کرنے کی وجہ سے ہوئے آمدنی کے نقصان کو بتدریج پورا کیا جا سکے۔

ایک سرکاری عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ ٹیکس کی موجودہ شرح، درآمدی قیمت اور روپے کی قدر میں کمی کی بنیاد پر اوگرا نے پیٹرول کی قیمت میں ساڑھے 5 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 9 روپے فی لیٹر اضافے کا تخمینہ لگایا ہے۔

اس کے علاوہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں 3 سے 5 روپے اضافے کا امکان ہے۔

عہدیدار نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ایکسچینج ریٹ کا نقصان اور تیل کی بین الاقوامی قیمتوں کے معمولی اثرات ہیں۔

حکومت چھٹے جائزے کی کامیابی سے تکمیل اور تقریباً ایک ارب ڈالر کے حصول کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکس کی شرح میں تھوڑا سا اضافہ کرکے صارفین کے لیے قیمتوں میں زیادہ اضافہ کرسکتی ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت 122.04 روپے ہے کو بھاری ٹرانسپورٹ، ٹرینوں اور زرعی مشینوں مثلاً ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹرز، ٹیوب ویلز اور تھریشرز میں استعمال ہوتا ہے۔

دوسری جانب لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کی ایکس ڈپو فی لیٹر قیمت 99.51 روپے ہے اس کے بعد مٹی کا تیل 99.31 روپے فی لیٹر ہے۔