آج کل ڈرامے میں جتنی بیہودگی ہوتی ہے اتنی ریٹنگ آتی ہے، انور مقصود

لیجنڈری ڈراما ساز، مزاح نگار اور مصنف انور مقصود نے کہا ہے کہ حالیہ دور میں کئی ایسے ڈرامے ہیں، جنہیں وہ دیکھنا تک پسند نہیں کرتے، انہیں مذکورہ ڈراموں پر اعتراض ہے مگر کیا کریں کہ آج کل ڈرامے میں جتنی بیہودگی ہوگی، اس کی اتنی ہی زیادہ ریٹنگ آتی ہے۔

انور مقصود نے نہ صرف حالیہ دور کے ڈراموں پر بات کی بلکہ انہوں نے ماضی کے کئی رازوں کو بھی فاش کیا اور بتایا کہ انہوں نے اپنے کئی مقبول ڈرامے اچانک کیوں بند کیے؟

انور مقصود نے بتایا کہ بہت سارے ڈرامے لکھنے کے باوجود آج تک انہوں نے کوئی کتاب نہیں لکھی اور نہ ہی ان کا کتاب لکھنے کا ارادہ ہے۔

ان کے مطابق ان کے پاس مقدس کتاب ’قرآن مجید‘ دیوان غالب، کلیات میر اور علامہ اقبال کی کتاب موجود ہیں اور ان ہی کتابوں کی وجہ سے انہیں کبھی کتاب لکھنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں ‘ریٹنگ‘ کے آنے سے کافی چیزیں تبدیل ہوئی ہیں، آج کل ڈرامے میں جتنی بیہودگی ہوگی، اتنی ہی زیادہ اس کی ’ریٹنگ‘ آئے گی، جتنا فضول جملہ ہوگا، اتنا اسے پسند کیا جائے گا اور کوئی ٹی وی میزبان اپنے مہمان کے ساتھ جتنی بدتمیزی کرے گا، اس پروگرام کی اتنی زیادہ ریٹنگ آئے گی۔