نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ دورہ ری شیڈول کررہا ہے آئندہ ہفتے اچھی خبر ملے گی، رمیز راجہ

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین رمیز راجہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کرکٹ ٹیموں کے دورےِ منسوخ ہونے کے معاملے پر آگاہ کیا ہے کہ غیرملکی ٹیموں کے دورے منسوخ ہونے پر پاکستان کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا گیا اور کیویز کرکٹ بورڈ نے دورہِ پاکستان ری شیڈول کرنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔

اسلام آباد میں سینیٹر رضا ربانی کی زیر صدارت سینیٹ کی قائم کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین پی بی سی رمیز راجہ، ایتھلیٹ ارشد ندیم، طلحہ حبیب اور دیگر نے شرکت کی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے رمیز راجہ نے کہا کہ ’ہمارے دباؤ سے نیوزی لینڈ دورہ ری شیڈول کررہی ہے اگلے ہفتے اچھی خبر سامنے آئے گی‘۔

علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ نیوزی لینڈ نے سیکیورٹی خدشات کے باعث دورہ منسوخ کیا جبکہ مجھے سیکیورٹی خدشات بتانے سے انکار کیا گیا اور جب میں برطانیہ ہائی کشمنر کے پاس گیا تو ’فائیو آئیز‘ سے متعلق بتایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس میں ہماری غلطی نہیں ہے، ساری دنیا کو معلوم ہے کہ 10 برس سے ہماری نیت کرکٹ بحالی پر مرکوز ہے لیکن ہماری مدد کسی نے نہیں کی اور ہم دوسروں کے لیے بھٹکتے رہے اور کورونا کے دوران سفر کر کے میچز بھی کھیلے ہیں۔

رمیز راجہ نے کہا کہ آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کی آمد مارچ میں متوقع ہے۔

علاوہ ازیں چیئرمین پی سی بی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئےبتایا کہ اسکول کرکٹ بلکل ختم ہوگئی ہے جبکہ کلب اور فرسٹ کلاس میں غیر یقینی کی صورتحال ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری پالیسی واضح ہے جس کرکٹر نے میچ فکنسگ کی اسے دوبارہ ٹیم میں شامل نہیں کریں گے لیکن بدقسمتی سے ہماری سوسائٹی ایسے کرکٹرز کےساتھ ہو جاتی ہے۔

اس ضمن میں رمیز راجہ نے کہا کہ ماہرین کے مطابق آئی سی سی میں سیاست ہورہی ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ آئی سی سی ایونٹ مینجمنٹ کمپنی بن گئی ہے۔

علاوہ ازیں کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں ڈومسٹک کرکٹ کی بحالی کے لیے بہت سے سرمایہ کاروں سے مثبت ملاقاتیں ہوئی ہیں اور وہ سرمایہ کار پیسے دینے کو بھی آمادہ ہیں۔

رمیز راجہ نے کہا کہ ہماری پچز اور کوچنگ ٹھیک نہیں ہیں اور پورے سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لیے 180 نہیں محض 20 فیصد فیصد تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ڈومیسٹک کرکٹرز کی تنخواہ میں ایک لاکھ روپے تک کا اضافہ کیا گیا جبکہ ڈومیسٹک کرکٹرز کو سالانہ کم از کم 40 لاکھ روپے دیں گے۔