سندھ کے دس ہزار اسکول بند کیے جارہے ہیں ، حلیم عادل شیخ

اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ کے دس ہزار اسکول بند کیے جارہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے اسکولوں میں کہیں ٹیچر ہیں تو اسٹاف نہیں ہے اور کہیں دیواریں نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چھ ہزار کی ڈیسک 29 ہزار میں خرید کر چھ سے سات ارب کا ٹیکہ لگایا جارہا ہے ، یہ تعلیم کے دشمن ہیں ، مراد علی شاہ اینٹی پاکستان لائن لیکر چلتے ہیں ، وزیر ، چپڑاسی اور فیکٹری کے ملازم کے بچے کےلیے ایک نصاب تھا ، 50 فیصد انگریزی میں سلیبس تھا ، باقی سلیبس جس مرضی زبان میں پڑھائیں۔

اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا کہ یہ ہماری تعلیم کے مجرم ہیں ، یہ اسکول جو بند کیے جارہے ہیں ، یہ اسکول بنوائے کس نے تھے ، یہ اربوں روپے کے اسکول بنائے گئے تھے ، یہ کہتے ہیں اسکول بند کر دیں۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ مرادعلی شاہ سندھ اور پاکستان کے دشمن ہیں ، یہ نسلوں کے دشمن ہیں ، وزارت سے ایک ٹھیکدار جاتا ہے دوسرا ٹھیکے دار آتے ہیں ، 15 ارب کا ریکاڈ جلا دیا گیا ہے ، جعلی انٹری کی زمین کا ریکارڈ جلایا گیا ، ڈی سی ویسٹ نے جون میں جعلی کھاتے بنائے اور بعد میں ریکارڈ جلادیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ واردات پورے شہر میں چل رہا ہے ، اگر ڈی سی جعلی کام کررہا ہے تو کون ٹھیک کرے گا ، ایک سے چار گریڈ تک میرٹ پر نوکریاں ملنی چاہیں ، سندھ کی نوکریاں غریب اور عام آدمی کو نہیں مل رہی۔

اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا کہ نوکریوں کا ریٹ دس دس لاکھ تک پہنچ گیا ہے ، بلاول اور مراد علی شاہ کا ایجنڈا الگ ہے ، مراد علی شاہ پیپلز پارٹی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ، یہ قوم پرست کی صورت میں آنا چاہتے ہیں۔