سندھ میں بادشاہت

کراچی(اسٹاف رپورٹر) پی ایس پی کے چیئرمین مصطفٰی کمال کا کہنا ہے کہ کراچی میں لاوا پک رہا ہے، شہری علاقوں میں مایوسی انتہا پر پہنچ چکی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ سندھ میں کوئی حکومت نہیں ہے، کوئی ذاتی بادشاہت ہے، غیر قانونی الاٹمنٹ ریفرنس میں پیشی کے بعد پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین نے پیپلز پارٹی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ستر فیصد ریونیو کما کر دینے والے شہر کے ساتھ ایسا ہورہا ہے، کورونا ایس او پیز کے نام پر ہزاروں نوکریاں ختم ہوگئی ہیں، لگتا ہے مذموم پلاننگ کے تحت سندھ کو تباہ کیا جارہا ہے، کراچی میں لاوا پک رہا ہے،شہری علاقوں میں مایوسی انتہا پر پہنچ چکی۔پیپلز پارٹی کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے،پی ایس پی نے اب مزاحمت کافیصلہ کیا ہے، مگر ہمارے پاس پیسے دیکر ووٹ خریدنے کی استطاعت نہیں۔سربراہ پی ایس پی نے تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کو جرائم میں پارٹنر قرار دیتے ہوئے کہا کہ کے فور منصوبہ وفاق نے لے لیا ایک انچ کام نہیں ہوا جبکہ گرین لائن منصوبے کاانفرا اسٹرکچر نواز شریف دور میں مکمل ہوگیا تھا۔مصطفیٰ کمال نے میڈیا سے گفتگو میں سوال کیا کہ کیا ریسٹورنٹ اور دکانیں بندہونے سے ہی کورونا پر احتیاط ہورہی ہے، عالمی وباء کے بہانے کاروباربند کیاجارہا ہے، کوشش ہے کہ کاروبار بند کرکے سندھ کو تباہ کیاجائے۔چیئرمین پی ایس پی نے مزید کہا کہ جو مینڈیٹ پر ناز کرتے پھر رہے ہیں وہ شہر میں آنہیں سکتے تھے، اس شہر میں 22،22افراد کی نعشیں ایک دن میں گرتی تھیں، شہرمیں امن ایسے ہی نہیں ہوگیا اس کیلئے ہم نے اپناخون دیاہے۔