
قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی عماد وسیم نے اپنی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق کو قانونی نوٹس بھیج دیا۔
ایڈووکیٹ عالیہ زرین عباسی کے مطابق عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ کی جانب سے عائد کیے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور انہیں مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میڈیکل ریکارڈ حاصل کر لیا گیا ہے جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ زبردستی حمل ضائع کرانے کا دعویٰ درست نہیں، اسی سلسلے میں ثانیہ اشفاق کو باضابطہ قانونی نوٹس بھی ارسال کیا گیا ہے۔
وکیل کے مطابق نومبر 2023 میں ورلڈکپ میں شرکت کے لیے امریکا روانگی کا فیصلہ میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے کیا گیا تھا جس کی تصدیق متعلقہ ڈاکٹرز بھی کرسکتے ہیں، مزید یہ کہ نومبر 2023 میں متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے دوروں کا مکمل ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے جو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ نومبر 2024 میں باہمی اختلافات کے باعث دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی تھی، اس وقت ثانیہ اشفاق حاملہ تھیں لہٰذا بچے کی پیدائش تک انتظار کیا گیا۔
وکیل کا کہنا ہے کہ اس عرصے کے دوران بھی تمام اخراجات عماد وسیم ہی برداشت کرتے رہے، جولائی 2025 میں بیٹے کی ولادت ہوئی اور اس وقت تینوں بچوں کی تمام ذمے داریاں بھی عماد وسیم ہی ادا کر رہے ہیں۔
