Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 22  ستمبر 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پورا کراچی ڈوب گیا

ویب ڈیسک بدھ 26  اگست 2020
پورا کراچی ڈوب گیا

کراچی(کرائم رپورٹرOعارف اقبال)مون سون کے چھٹے اسپیل کے دوسرے دن طوفانی بارش سے کراچی کے معیشت ڈوب گئی۔ فرنیچر مارکیٹ اور دکانوں میں پانی گھس آیا گلستان جوہر پارکنگ میں مٹی کا تودہ گرنے سے گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں تباہ ہوگئیں۔ طوفانی بارشوں سے ریلوے کا نظام درہم برہم پٹریاں اکھڑ گئیں۔، ٹریک متاثر ہونے سے اپ اور ڈا?ن دونوں ٹریکس بلاک کرکے ٹرین آپریشن معطل کر دیا گیا کے الیکٹر ک کے 400 سے زائد فیڈر ٹرپ کرگئے۔ نیو کراچی میں 4 دن سے بجلی کی فراہمی معطل ‘ بادل برسنے سے شہر کے اہم بازار ‘مارکیٹیں اور تجارتی مراکز بند رہیں’ بلکہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ‘ ملیر ندی میں تیز رفتار سیلابی ریلے میں درجنوں دیہات میں تباہی مچادی ‘ فصلیں تباہ ہوگئیں’ جبکہ کئی دیہاتوں میں لوگوں نے گھر اور مسجدوں کی چھتوں پر پنا ہ لی۔ نقل مکانی شروع ہوگئی۔فوج کے جوان متاثرہ مقام پر پہنچ کر امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل رہے۔ لائف بورڈ سے ندی میں پھنسے ہزاروں افراد کی محفوظ مقام پر منتقلی ‘ جبکہ کرنٹ لگنے اور دیوار گرنے سے 10 سالہ بچہ سمیت 4 افراد جاں بحق ‘ خاتون زخمی ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق خلیج بنگال سے آنے والے مون سون سسٹم نے کراچی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ کراچی میں گزشتہ شام سے ہونے والی بارش کا سلسلہ منگل کو بھی جاری رہا۔ تیز ہوا?ں کے ساتھ موسلا دھار بارشوں سے اہم سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں۔کراچی میں شادمان، لانڈھی، کورنگی، ملیر، ڈیفنس، عائشہ منزل، ناظم آباد، گلشن اقبال، لیاری،صدر،برنس روڈ میں سڑکیں دریا کے مناظر پیش کرنے لگیں شاہراہ فیصل پر گاڑیاں بند ہونے سے لوگ شدید اذیت کا شکار ہوگئے۔شارعِ فیصل نرسری کے مقام پر تالاب بن گئی ہے۔ حسن اسکوئر سے محکمہ موسمیات جانے اور آنے والے مین یونیورسٹی روڈ پر بھی پانی جمع ہوگیا،طارق روڈ سے لبرٹی سگنل جانے والی سڑک پر بھی پانی جمع ہو گیا۔شاہراہِ پاکستان پر کریم آباد، عائشہ منزل، واٹر پمپ جانے والی سڑک پر بھی پانی جمع ہوگیا۔منگل کو ہونے والی مسلسل بارش کے نتیجے میں سہراب گوٹھ سے شفیق موڑ تک سڑک اور ناگن چورنگی اور اس کے اطراف کا علاقہ بھی زیرِ آب آگیا۔نارتھ ناظم آباد میں کے ڈی اے چورنگی سے حیدری اور سخی حسن سے ناگن چورنگی جانے والی سڑک بھی زیرِ آب آگئی۔لسبیلہ سے ناظم آباد ایک نمبر جانے والی سڑک بھی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی۔سب میرین چورنگی انڈر پاس کو بھی پانی بھر جانے کے سبب ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔مسلسل بارش کے باعث ملیر ندی کا پانی سڑک پر آنے کے بعد کورنگی کراسنگ اور کورنگی کازوے کو بھی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ڈرگ روڈ پر ناتھا خان پل کے مقام پر بھی پانی کئی کئی فٹ جمع ہوگیا۔دوسری جانب کئی علاقوں میں نالے اور گٹر بل پڑے جبکہ ناگن، پی ای ایس ایچ، نرسری اور ملحقہ علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہوگیاسندھ حکومت کے دعووں کے باوجود لیاقت آباد، یوپی موڑ، سرجانی، بلدیہ،حیدری، طارق روڈ،صدر، ملیر ،ایم اے جناح روڈ،لانڈھی،کورنگی،شاہ فیصل کالونی،معمار آباد کی دکانوں،جامع کلاتھ مارکیٹ،نرسری فرنیچر مارکیٹ،غریب آباد فرنیچر مارکیٹ سمیت دیگر علاقوں کی مارکیٹوں میں پانی داخل ہوگیا۔۔صدر، ٹاور، کے اطراف کے علاقوں میں دفاتر اور دکانوں میں پانی بھر گیا۔ صدر انجمن تاجران کراچی جاوید شمس نے کہا کہ کراچی کی تاجر برادری کا کوئی پرسان حال نہیں،لانڈھی،کورنگی،شاہ فیصل کالونی،معمار آبادسمیت بیشتر مارکیٹیوں میں پانی بھر نا المیہ ہے۔جاوید شمس نے کہا کہ شہر کی مضافات میں موجود بیشتر مارکیٹوں میں دو فٹ تک پانی آگیا اور ریسکیو کا کوئی انتظام نہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے ساتھ ساتھ سندھ کے دیگر شہروں خاص کر حیدرآباد،لطیف آباد،قاسم آباد کی مارکیٹوں میں بھی پانی آگیا،موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ اسی طرح رہا تو کراچی سمیت سندھ کی معیشت ڈوب جائے گی۔، سرجانی ٹا?ن، نارتھ کراچی اور اطراف کے علاقوں میں 3 سے 4 فٹ پانی کھڑاہوگیا۔ کئی علاقوں میں نالے اور گٹر بل پڑے جبکہ نیا ناظم آباد،عزیز آباد بلاک دو میں سیوریج اور بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ ناگن، پی ای ایس ایچ، نرسری اور ملحقہ علاقوں میں بھی گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔صدر، ٹاور، کے اطراف کے علاقوں میں دفاتر اور دکانوں میں پانی بھر گیا، سرجانی ٹا?ن، نارتھ کراچی اور اطراف کے علاقوں میں 3 سے 4 فٹ پانی کھڑاہوگیا جبکہ بارش کے باعث ملیر ندی میں طغیانی کے باعث کورنگی کازوے روڈ بند ہوگیا۔ملیر نری بھپرنے سے ملاعیسی گوٹھ، جام گوٹھ ،بروگوٹھ اولڈ تھانہ، اولڈ شفیع گوٹھ سمیت درجوں دیہات ،راستے اور کھڑی فصلیں زیر ا?ب ا?گئے دیہات خالی کرنے کے لئے مساجد سے اعلانات، بیشتر لوگوں گھروں سے نکل نہ سکے کہیں دیہاتوں میں لوگوں نے چھتوں میں پناہ لے لی سیلابی صورت حال کی پیشگی اطلاع بھی نہیں دی گئیں ملیر ندی کے اطراف کی آبادیوں میں لوگوں میں خوف و ہراس مقامی لوگوں کی اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیاں ملیر ندی کے قریب مگسی گوٹھ کی مکینوں کی نقل مکانی کیر تھر پہاڑی کی پہاڑوں پر گزشتہ روز سے جاری طوفانی بارشوں سے ملیر ندی میں پانی ا?نے سے طغیانی ا?گئی اس کے علاوہ کراچی کے بڑے اسپتالوں آغا خان، ضیائ الدین (ناظم آباد)میں بھی بارش کا پانی داخل ہوگیا جس کی وجہ سے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔صدر، برنس روڈ،آئی آئی چندریگرروڈ،پی ای سی ایچ ایس،طارق روڈ،بہادرآباد، ناگن چورنگی، ملیر، کورنگی، لانڈھی، شاہ فیصل کالونی، گلشن حدید، سعدی ٹا?ن، لیاقت آباد، فیڈرل بی ایریا، نارتھ کراچی سمیت مختلف علاقوں میں بادل برسے، شہر کے اہم بازار، مارکیٹیں اور تجارتی مراکز بند جب کہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ بھی نہ ہونے کے برابرتھی۔منگھوپیر روڈ پر نجی ہا?سنگ اسکیم میں برساتی پانی جمع ہوگیا، کئی کئی فٹ پانی جمع ہونے سے رہائشی گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔سندھ سیکریٹریٹ کے بیرک نمبر 20 میں واقع احتساب عدالت کی چھتیں ٹپکنا شروع ہوگئیں، جس کی وجہ سے سائلین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑاجبکہ سندھ سیکرٹریٹ کے اطراف کا علاقہ بھی تالاب بن گیا۔کراچی کی شیر شاہ مارکیٹ میں سیوریج کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے کراچی میں ہونے والی موسلادھار بارش کے سبب کے الیکٹرک کے 400 فیڈر، پی ایم ٹیز ٹرپ ہونے سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی جبکہ بیشترعلاقوں میں تار ٹوٹنے اور سب اسٹیشن بند ہونے سے بھی بجلی کی فراہمی کئی گھنٹوں سے معطل رہی۔اس کے علاوہ کراچی کے بڑے اسپتالوں آغا خان، ضیائ الدین (ناظم آباد)میں بھی بارش کا پانی داخل ہوگیا جس کی وجہ سے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بارش کے باعث ملیر ندی میں طغیانی کے باعث کورنگی کازوے روڈ بند ہوگیاملیر نری بھپرنے سے ملاعیسی گوٹھ، جام گوٹھ ،بروگوٹھ اولڈ تھانہ، اولڈ شفیع گوٹھ سمیت درجوں دیہات ،راستے اور کھڑی فصلیں زیر ا?ب ا?گئے دیہات خالی کرنے کے لئے مساجد سے اعلانات، بیشتر لوگوں گھروں سے نکل نہ سکے کہیں دیہاتوں میں لوگوں نے چھتوں میں پناہ لے لی سیلابی صورت حال کی پیشگی اطلاع بھی نہیں دی گئیں ملیر ندی کے اطراف کی آبادیوں میں لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گئی۔ ملیر ندی کے قریب مگسی گوٹھ کی مکینوں کی نقل مکانی کیر تھر پہاڑی کی پہاڑوں پر گزشتہ روز سے جاری طوفانی بارشوں سے ملیر ندی میں پانی ا?نے سے طغیانی آگئی قائد آبا دکے علاقے مدینہ ٹا?ن’ جدو ن ٹا?ن ‘ آفریدی کالونی ‘ کوہاٹ کالونی’ سی ایریا ‘ رضا ٹا?ن ‘ نیو ماروی ٹا?ن میں ملیر ندی کا بپھرا ہوا پانی داخل ہوگیا۔ جبکہ ندی میں موجود ثمر گارڈن ‘ یار محمد گوٹھ ‘ عباس ٹا?ن سمیت نصف درجن آبادیوں میں پہلے ہی پانی داخل ہوگیا’ آرمی کے دستے متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل رہیںاور لائف بورڈ کے ذریعے ندی میں پھنسے ہزاروں افراد کی محفوظ مقام پر منتقلی کی۔ ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق شہرمیں ہونے والے موسلادھار بارش کے باعث ملیر ندی میں طغیانی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جس کے پیش نظر کورنگی کازوے کو ایک بار پھر ٹریفک کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق ٹریفک کو گودام چورنگی سے جام صادق پل کی جانب موڑ دیا گیا جبکہ بلوچ کالونی سے جانے والوں کو قیوم آباد جام صادق پل پر بھیجا جارہا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز سے منگل کی دوپہر ایک بجے تک گلشن حدید میں سب سے زیادہ 177 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ لانڈھی میں 57، ناظم آباد میں 53.6، سرجانی ٹاون میں 28.2، ملی میٹر، یونیورسٹی روڈ پر 8.6 ، نارتھ کراچی میں 4.2، پی اے ایف بیس فیصل میں 11 اور، مسرور بیس پر 7 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی۔ادھر گلستان جوہر میں منور چورنگی کے قریب لینڈ سلائنڈنگ سے پارکنگ ایریا میں کھڑی 20گاڑیوں کو نقصان پہنچاہے۔اس ضمن میں ایس ایس پی ایسٹ ساجد امیر سدوزئی نے بتایاکہ منور چورنگی کے قریب لینڈ سلائیڈنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، پہاڑی تودا گرنے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ پہاڑی تودا گرنے سے متعدد گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں دب گئیں۔انہوں نے کہاکہ احتیاطی تدابیر کے طور پر اطراف میں واقع گھروں کو خالی کرالیاگیاہے۔پولیس اور ریسکیو ادارے جائے وقوعہ پرپہنچ کرامدادی کاموں میں حصہ لیا۔کراچی کے علاقے مشرف کالونی 500 کواٹر کے قریب پانی کے جوہڑ میں گر کر 13 سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا، ایدھی کے رضاکارو ں نے لاش نکال کر مرشد ہسپتال میں منتقل کردی۔دوسرے حادثے میں پاک کالونی کے محلہ ہارون آباد میں کرنٹ لگنے سے 17 سالہ محمد آصف جاں بحق ہوگیا۔دریں اثنا بارش کے باعث گھر کی دیوار گرنے سے 10 سالہ بچہ جاں بحق جبکہ اس کی والدہ زخمی ہوگئیں۔پولیس حکام کے مطابق زخمی خاتون کو علاج کے لیے جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ بچے کی لاش بھی ہسپتال پہنچا دی گئی۔کراچی میں بارش کے باعث متعدد علاقوں میں بجلی فراہمی معطل ہوگئی۔ سرجانی ٹا?ن اور نیو کراچی کے مختلف علاقوں میں 4 دن بعد بھی بجلی کی فراہمی بحال نہیں ہو سکی، جس سے علاقہ مکین سخت اذیت سے دوچار ہیں۔ ملیر کے متعدد علاقوں میں صبح سے ہی بجلی غائب ہوگئی جبکہ گارڈن، ناظم آباد، نیوکراچی، سخی حسن، نارتھ کراچی، گلشن حدید میں طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ تاحال جارہی ہے۔کے الیکٹرک کے مطابق بارش کے باعث متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی ممکن نہیں۔ نارتھ ناظم آباد ، گلستان جوہر، گلشن اقبال اور اسکیم 33 میں بجلی بحال کر دی گئی ہے۔ بارش کے دوران بھی کے الیکٹرک کا مرمتی آپریشن جاری ہے۔ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق شہری بارش کی صورت میں احتیاط کریں، ٹوٹے ہوئے تاروں، بجلی کے کھمبوں اور پی ایم ٹیز سے دور رہیں، بارش اور کھڑے پانی میں برقی آلات کا غیر محفوظ استعمال حادثات کا سبب بن سکتا ہے اس کے علاوہ غیر قانونی ذرائع سے بجلی کا حصول جان لیوا ہے۔ترجمان کے الیکٹرک نے لوگوں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بجلی سے متعلق کسی بھی شکایت کی صورت میں 118 پر فوری رابطہ کریں۔سندھ میں طوفانی بارشوں سے ریلوے کا نظام بھی متاثر ہوا، کراچی سے حیدر آباد کے درمیان ٹریک کا کچھ حصہ بارش کے پانی میں بہہ گیا، ٹریک متاثر ہونے سے اپ اور ڈا?ن دونوں ٹریکس بلاک کرکے ٹرین آپریشن معطل کر دیا گیا،محکمہ ریلوے کے مطابق عوامی ایکسپریس کو کراچی سے جانے سے روک دیا گیا اور فرید ایکسپریس کو بولہاری کے مقام پر روک دیا گیا۔کراچی آنے والی رحمان بابا ایکسپریس کو بن قاسم کے مقام پر روک دیا گیا ہے۔ کراچی آنے والی گرین لائن ایکسپریس کو پڈعیدن اسٹیشن پر روکا گیا ہے۔ٹریک کی بحالی کا کام شروع نہیں ہوسکا جس کے باعث مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 400 فیڈرز ٹرپ ہو جانے کے بعد آدھے سے زیادہ شہر کو بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ بجلی کی صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ذرائع کے مطابق کراچی میں ہونے والی موسلادھار بارش کے سبب کے الیکٹرک کے 400 فیڈر، پی ایم ٹیز ٹرپ ہونے سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی جبکہ بیشترعلاقوں میں تار ٹوٹنے اور سب اسٹیشن بند ہونے سے بھی بجلی کی فراہمی کئی گھنٹوں سے معطل رہی۔ذرائع کے مطابق کراچی کے تیس فیصد حصے میں بجلی کی فراہمی بند رہی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی کے علاقے نارتھ کراچی، گلبرگ، شادمان ٹا?ن، ناگن چورنگی، ایف بی ایریا، بفرزون، کے بی آر اسکیم، ملیر، شاہ فیصل کالونی، کیماڑی، بلدیہ اور شیرشاہ میں بھی بجلی بند رہی۔علاوہ ازیں نیو کراچی، خواجہ اجمیر نگری، اختر کالونی، اورنگ آباد، گلشن اقبال، پاپوش نگر اور پی ای سی ایچ ایس، ڈی ایچ اے، کلفٹن سمیت جیکب لائنز، لیاقت آباد کے مختلف حصوں میں بھی بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق کراچی کے نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو رہا ہے، سیلابی صورتحال کے دوران بجلی بحال کرنا خطرناک ہوسکتا ہے، پانی کی سطح میں بتدریج بڑھنے سے کچھ مقامات پر حفاظتی طور پر بجلی بند کی جارہی ہے۔ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق نہایت مشکل صورتحال میں کے الیکٹرک انتظامیہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے۔ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ گلشن، گلستان جوہر، سوسائٹی اور بن قاسم میں بجلی کی تنصیبات میں پانی داخل ہوچکا ہے اور کھڑے پانی کی نکاسی کیساتھ کیالیکٹرک کی ٹیمیں بجلی بحالی کاکام تیزی سے کرسکتی ہیں۔گذشتہ روز سے ہونے والی بارشوں کے بعد کراچی کے تمام تجارتی علاقے پانی میں ڈوب گئے۔ سندھ حکومت کے دعووں کے باوجود لیاقت آباد، یوپی موڑ، سرجانی، بلدیہ،حیدری، طارق روڈ،صدر، ملیر ،ایم اے جناح روڈ،لانڈھی،کورنگی،شاہ فیصل کالونی،معمار آباد کی دکانوں،جامع کلاتھ مارکیٹ،نرسری فرنیچر مارکیٹ،غریب آباد فرنیچر مارکیٹ سمیت دیگر علاقوں کی مارکیٹوں میں پانی داخل ہوگیا۔ صدر انجمن تاجران کراچی جاوید شمس نے کہا کہ میئر کراچی کی فریادوں کے سوائے کراچی کی تاجر برادری کا کوی پرسان حال نہیں،لانڈھی،کورنگی،شاہ فیصل کالونی،معمار آبادسمیت بیشتر مارکیٹیوں میں پانی بھر نا المیہ ہے۔جاوید شمس نے کہا کہ شہر کی مضافات میں موجود بیشتر مارکیٹوں میں دو فٹ تک پانی آگیا اور ریسکیو کا کوئی انتظام نہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے ساتھ ساتھ سندھ کے دیگر شہروں خاص کر حیدرآباد،لطیف آباد،قاسم آباد کی مارکیٹوں میں بھی پانی آگیا،موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ اسی طرح رہا تو کراچی سمیت سندھ کی معیشت ڈوب جائے گی۔جاوید شمس نے مزید کہا کہ حکومت سندھ فوری اقدامات کرے،نالوں کی صفائ کے باوجود شہری علاقوں اور مارکیٹوں میں پنی بھر جانا افسوسناک بات ہے،انجمن تاجران سندھ حکومت سندھ اور دیگر ریسکیو اداروں سے فوری ریلیف اور ہنگامی حالات کے نفاذ کے اعلان کا مطالبہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوکانداروں کا کڑڑوں روپے کا نقصان ہوگیا، تاجر کرونا سے تباہی کے دھانے پر پہنچ چکے تھے اوراب بربادی کی طرف گامزن ہیں،ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک حفاظت فرمائے ،کراچی کی کئی علاقوں سے نقل مکانی کا سلسلہ جارہی ہے ان لوگوں کی رہائش اور کھانے پینے کے لیے اقدامات کئے جاہیں۔دریں اثنا ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ لوگوں کی مدد کے لیئے کراچی کور فلڈ ریلیف آپریشن کا فوری آغاز کرے۔۔۔ مشکل کی گھڑی میں فوجی دستے ہر صورت متاثرہ عوام تک پہنچیں۔۔۔آرمی چیف نے کہا ہے کہ کراچی کے متاثرہ عوام کا مکمل خیال رکھا جائے۔۔۔

(179 بار دیکھا گیا)

تبصرے