Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 01 جون 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

سندھ میں گورنر راج پی ٹی آئی پھر سرگرم،مطالبہ محض شوشاہے، مرتضیٰ وہاب

ویب ڈیسک بدھ 20 مئی 2020
سندھ میں گورنر راج پی ٹی آئی  پھر سرگرم،مطالبہ محض شوشاہے، مرتضیٰ وہاب

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پی ٹی آئی سندھ کے رہنما ایک بار پھرسندھ میں گورنر راج کے لیے میدان میں نکل آئے ہیں تاہم ان کی جماعت کے مرکزی رہنما فواد چوہدری نے اسکی مخالف کردی ہے جبکہ سندھ حکومت نے اس کو شوشا قراردیا ہے۔تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے سندھ میں ایمرجنسی کے نفاذ کا مطالبہ کردیا۔ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے مطالبے کو شوشا قرار دے دیا اور کہا کہ آرٹیکل 235 میں نہیں، 234 میں ایمرجنسی کا ذکر ہے، سندھ کی اپوزیشن الزام تراشی کی سیاست کررہی ہے۔پریس کانفرنس کے دوران فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ آرٹیکل 235 کے تحت سندھ میں ایمرجنسی نافذ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کی صورتحال تیزی سے خراب ہورہی ہے، صوبے میں آئین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں اگر سندھ میں گورنر راج لگادیا جائے تو اس میں کوئی خرابی نہیں۔ دوسری طرف وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپنی ہی جماعت کے رہنما فردوس شمیم نقوی کے مطالبے کو غیرآ ئینی قرار دے دیا۔اپوزیشن لیڈر سندھ فردوس شمیم نقوی نے آج پریس کانفرنس کے دوران سندھ میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بارے میں بیان دیا تھا۔اس حوالے سے جیو نیوز کے پروگرام میں ’کیپٹل ٹاک‘ میں میزبان حامد میر کے ساتھ اظہار خیال کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ آ ئینی طور پر گورنر راج نہیں لگایا جاسکتا۔اس موقع پر وفاقی وزیر نے 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے میں گورنر راج لگائے جانے کے طریقہ کار پر تفصیل سے وضاحت دی۔پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی اور صدر سپریم کورٹ بار قلب حسن نے بھی قانون اور ا?ئین کے تحت گورنر راج کی نفی کی۔اس سے قبل فردوس شمیم نقوی کے مطالبے پر سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے اسے شوشا قرار دیا تھا۔ترجمان سندھ حکومت اور مشیر قانون و ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ بے روزگار سیاسی رہنما روزانہ کی بنیاد پر تنقید کے نشتر چلاتے ہیں پر یہ نہیں بتاتے ان کی وفاقی حکومت کیا کر رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سندھ اسمبلی بلڈنگ کے آڈیٹوریم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے 20 سال صرف اپوزیشن ہی کی ہے، ان سے کوئی خیر کی بات نہیں کی جاسکتی۔ ہر پریس کانفرنس میں ہماری کوشش ہوتی ہے کہ یہ وقت محاذ آرائیوں کا نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کا ہے۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ افسوس ہے ان تمام باتوں کے باوجود احساس کی جوں تک نہیں رینگتی۔ وہ جس غیر سیاسی انداز سے یہ گفتگو کرتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ ان چیزوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور ایک سیاسی لیڈر اس انداز سے بات نہیں کرسکتا اس طرح کی زبان استعمال کرنے سے گریز کریں۔انہوں نے کہا کہ چونکہ ان کا لیڈر اس طرح بات کرتا ہے تو انہوں نے بھی وہی طریقہ کار اپنایا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگار سیاسی رہنما نے آج پھر گورنر راج کا شوشہ چھوڑا ہے، پائپ پینے، ٹائی سوٹ پہننے اور انگریزی بولنے سے پڑھے لکھے نہیں ہوجاتے، آپ براہ کرم قانون کی کتاب پڑھ لیں، آرٹیکل 235 نہیں 234 میں گورنر راج کا ذکر ہے۔بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ 205 ارب روپے اس وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کو این ایف سی کی مد میں نہیں دیے اور اب کورونا کا بہانہ کریں گے، پچھلے سال بھی این ایف سی کا شارٹ فال تھا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر اعلان کرنا ہے اور علم بغاوت بلند کرنا ہے تو وفاق کے خلاف کریں۔ سندھ حکومت کو این ایف سی فنڈ نہیں دیا جارہا خدارا سچ نہیں بول سکتے تو غلط بیانی بھی نہ کریں۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ چینی کے بحران کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ہم تحقیقات کرنے کا کہتے رہے مگر کوئی انکوائری نہیں کی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ آج مراد علی شاہ اور بلاول بھٹو زرداری پر الزام لگائے گئے، ان کی کنفیوڑن کی وجہ سے معیشت کو نقصان سے دوچار ہونا پڑا کہ آئی ایم ایف کے پاس جائیں یا نہ جائیں اور ستم یہ ہے کہ ڈالر کی اڑان اور معیشت کو جو نقصان پہنچا اس کا خمیازہ آج عوام بھگت رہی ہے

(80 بار دیکھا گیا)

تبصرے