Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعرات 04 جون 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ملک میں کورونا کے 25837 مصدقہ مریض، جاں بحق افراد کی تعداد 594 ہوگئی

ویب ڈیسک جمعه 08 مئی 2020
ملک میں کورونا کے 25837 مصدقہ مریض، جاں بحق افراد کی تعداد 594 ہوگئی

یشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری  اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں  گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 1764 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ 30 افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔ اس طرح  کورونا کے مصدقہ مریض 25 ہزار 837 ہوگئے ہیں جب کہ جاں بحق افراد کی تعداد 594 ہو گئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے مریضوں کی تعداد 25 ہزار 837 تک جا پہنچی ہے۔  پنجاب  میں 10033، سندھ میں 9093، خیبرپختونخوا 3956، بلوچستان 1725، اسلام آباد 558، آزاد کشمیر 78 اورگلگت بلتستان میں 394 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

 

کورونا بحران دوسری جنگ عظیم سے بھی بڑا ہو سکتا ہے

خیبر پختونخواسب سے خطرناک

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق ملک بھر میں کورونا سے جاں بحق افراد کی تعداد 594 ہو گئی ہے۔ خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ 209 اموات ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب میں 183، سندھ میں 171، بلوچستان 24، اسلام آباد میں 4 اور گلگت بلتستان میں کورونا سے 3 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جب کہ 163 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

کورونا وائرس اور احتیاطی تدابیر:

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

(76 بار دیکھا گیا)

تبصرے