Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعرات 16 جولائی 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کراچی میں عوام راشن پر ٹوٹ پڑے،ریکارڈ خریداری

قومی نیوز منگل 17 مارچ 2020
کراچی میں عوام راشن پر ٹوٹ پڑے،ریکارڈ خریداری

کراچی (ویب ڈیسک) کورونا وائرس کے خوف کے باعث شہریوں نے گھروں میں بڑے پیمانے پر راشن ذخیرہ کرنا شروع کردیا، شہر میں اشیاءخورد و نوش و ضروریہ کی دو روز میں ریکارڈ خرید و فرخت ہوئی، افواہوں کے باعث دکانوں، مارکیٹوں اور بازاروں میں خریداروں کا بے تحاشا رش دیکھنے میں آیا.

کورونا وائرس کے حوالے سے شہر کو لاک ڈاﺅن کرنے سمیت بہت سی افواہیں گردش کررہی ہیں،اتوار کی شب پولیس کی جانب سے چائے خانے، کیفے، مارکیٹوں اور دیگر دکانوں کو بند کرانے سے عوام میں کورونا وائرس کے حوالے شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگوں نے اچانک بڑے پیمانے پر راشن کی خریداری شروع کردی

لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت شہر کو لاک ڈاﺅن کرنے والی ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ پہلے سے راشن ذخیرہ کرلیا جائے، اتوار اور پیر کو بڑے پیمانے پر اشیا خوردونوش اور اشیا صرف کی خریداری ہوئی جبکہ حکومت کی جانب سے بار بار اعلان کیا جارہا ہے کہ شہری افواہوں پر کان نہ دھریں لیکن عوام میں کورونا وائرس کا خوف کم ہونے کی بجائے بڑھ رہا ہے

مسافر جہاز کا ٹکٹ واپس کرنے لگے

اس خوف میں اس وقت مزید اضافہ ہوگیا جب کہ علاقہ پولیس نے مارکیٹس، بازار، ریسٹورنٹ اور چائے خانے بند کرانے شروع کردیئے،کورونا وائرس کے خوف سے سبزی و فروٹ منڈی میں بھی اتوار اور پیر کی شب کاروباری سرگرمیاں متاثر رہیں جبکہ اندورن ملک سے سبزیوں و پھلوں کی آ مد بھی کم ہوگئی، جس سے سبزیوں و پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سندھ کے اعلامیہ میںکہا گیا ہے کہ صوبے میں گندم کی وافر مقدار موجود ہے ، جبکہ نئی فصل بھی مارکیٹ میں آ چکی ہے، اس صورتحال میں صوبے میں آ ٹے کی کوئی قلت نہیں ہے، شہری آ ٹے کی دستیابی کے حوالے سے اطمینان رکھیں

تھوک فوشوں و تاجروں نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق اشیاءکی خریداری کریں تاکہ شہر میں اشیاءکی قلت پیدا نہ ہو، کمشنر کراچی نے اشیاءخوردونوش کے ذخیرہ پر 144 کے تحت سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

ادھروزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ کورونا کے حوالے سے صورتحال تشویش ناک ضرورہے لیکن پریشان کن نہیں، کورونا وائرس کے پھیلنے کا خدشہ ہے لیکن کسی بھی صورت میں مارکیٹیں نہ بند کریں گے اورنہ ہی تجویزکریں گے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس وائرس کا ابھی تک علاج نہیں ہے کیونکہ اگریہ وائرس کسی کو ہوجائے تو ہوسکتا ہے اسے کچھ نہ ہو لیکن وہ کسی اورکو متاثرکرسکتا ہے۔ وزیراعلی سندھ نے واضح کیا کہ اس وقت صرف ان افراد کا ٹیسٹ کیا جارہا ہے جس کی ٹریول ہسٹری ہویا پھراس شخص کا کسی ایسے فرد سے کوئی رابطہ ہوا ہو۔

دنیا کا خاتمہ یا قیامت کی آمد؟

وزیراعلی سندھ مرادعلی شاہ نے کہا کہ 2 اسپتالوں کوآ ئسولیشن سینٹرمیں تبدیل کیا ہے، ہم کرونا وائرس کا مثبت اورمنفی ٹیسٹ آنے والے افراد کوالگ الگ رکھ رہے ہیں، کورونا وائرس کا مسئلہ قومی نہیں بین الاقوامی ہے جس سے بچائو کے لیے مل جل کرکام کرنا ہے

ڈرتھا کہ کیسزہوں گے تو فیصلہ کیا کہ ہرایک کا ٹیسٹ کریں گے جوبھی کیس آ ئے گا بتائیں گے کیونکہ چھپانے کا مقصد نقصان پہنچانا ہے تاہم چین سے صوبے میں آنے والے کسی بھی فرد میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔

(3186 بار دیکھا گیا)

تبصرے