Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 06 اپریل 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

پاکستان کیلئے ”غیبی امداد“

قومی نیوز منگل 10 مارچ 2020
پاکستان کیلئے ”غیبی امداد“

لندن / واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک طرف کورونا وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں تو دو سر ی جانب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 30 فیصد کم ہو گئیں جس کے باعث اسٹاک مارکیٹس کریش کرگئیں۔ سعودی عرب کی جانب سے پیداوار پر روس کے ساتھ تنازع کی وجہ سے تیل کی قیمت میں کمی کا اعلان کیا گیا۔

دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں ایک ہی روز میں 20 فیصد سے زائد کی کمی جبکہ دو روز میں 30 فیصد کے لگ بھگ کمی دیکھنے میں آئی جو کہ ایک ریکارڈ قرار دیا جارہا ہے تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے دنیا بھر کے بازار حصص(سٹاک مارکیٹ) بری طرح متاثر ہوئے ہیں، 2008 کے مالی بحران کے بعد شیئرز کی قیمتوں میں اتنی کمی واقع ہوئی ہے۔

کورونا نے روایتیں اور عادات بدل ڈالیں

نیو یارک اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار شروع ہونے کے کچھ منٹوں میں شیئرز کی قیمت سات فیصد تک گر گئی اور صرف پندرہ منٹ بعد ٹریڈنگ کو روک دیا گیا ہے۔ کئی ماہرین نے بازار حصص میں اس مندی کو بلیک منڈے ( سیاہ پیر ) قرار دیا۔دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس کی طرح پاکستان میں بھی پیر کے روز سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کے اثرات دیکھنے میں آئے۔

ایشیاکی تمام بڑی سٹاک مارکیٹس بھی گرگئیں، جاپان سٹاک مارکیٹ 7فیصد، چینی سٹاک مارکیٹ 3فیصد،ہانگ کانگ ساڑھے تین فیصد، جنوبی کوریا4فیصد،بھارت 3فیصد،سنگاپورسٹاک مارکیٹ 4فیصد، تھائی لینڈسٹاک مارکیٹ میں 6فیصد اور بنگلہ دیش میں 2.2فیصد کمی ہوئی،برطانوی اسٹاک ایکس چینج میں بھی شدید مندی دیکھنے میں آ ئی ،انڈیکس8فیصد تک گرگیا،اطالوی سٹاک مارکیٹ 11فیصد تک گرگئی۔

تجزیہ کار مائیکل ہیوسن کے مطابق سعودی فیصلہ روس کو بات چیت کیلئے مجبور کر سکتا ہے جس نے کورونا وائرس کی وجہ سے گرتی طلب کے پیش نظر اوپیک کی خام تیل کی پیداوار میں کمی کی تجویز مسترد کر دی تھی۔ تجزیہ کار نیل ولسن نے کہاہے کہ اس دن کو بلیک منڈے کے طور پر یادرکھا جائے گا۔

ڈالرز بھی کورونا پھیلانے کی وجہ

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں جب کاروبار کا آغاز ہوا تو ایک موقع پر انڈیکس میں 2106 پوائنٹس تک کی کمی ریکارڈ کی جا چکی تھی، مارکیٹ کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے 45 منٹ تک ٹریڈنگ روک دی گئی،تاہم دن کے اختتام پر اسٹاک مارکیٹ نے کچھ بہتری دکھائی اور کاروبار کے اختتام پر 1160 پوائنٹس کی کمی کے بعد انڈیکس 37 ہزار 58 پوائنٹس پر بند ہوا۔

انٹر بینک اور اوپن کرنسی مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر 3روپے تک بڑھ گئی، ادھر مقامی مارکیٹ میں سونا فی تولہ700روپے مہنگا ہو گیا۔ سینئر مارکیٹ تجزیہ کار جیفرے ہیلے کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ارادے روس کو سزا دینے کے لگتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتیں آئندہ چند ماہ تک ایسی ہی رہیں گی کیونکہ کورونا وائرس نے معاشی نمو روک دی ہے اور سعودی عرب نے اپنے پمپ کھول دئیے ہیں اور خام تیل پر بڑی ڈسکاو¿نٹ دے رہا ہے۔تحقیقی ادارے گائیتامے ڈاٹ کام کے تاکویا کاندا کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی اور کورونا وائرس کے پھیلنے کے خدشے نے عالمی معیشت گرنے کا خدشہ پیدا کردیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے خام تیل کی قیمت میں کمی کی جس سے عالمی انرجی مارکیٹ متاثر ہوئی، روس سمیت دیگر حریفوں کو ایک طرف کرنے کی ایک ایسی خطرناک چال ہے جو ولی شہزادہ محمد بن سلمان کیلئے ایک امتحان ثابت ہو گی۔

یہ سعودی بادشاہت کے وجود کیلئے خطرہ بن سکتی ہے کیونکہ یہ ایسا وقت ہے جب شاہ سلمان کا بھائی اور بیٹا بغاوت کے الزام میں گرفتار ہیں ، دوسری جانب کورونا وائرس کے خطرے کے تدارک کیلئے حکومت سخت اقدامات کر رہی ہے۔بظاہر سعودی عرب نے تیل کی مارکیٹ میں روسی شیئر ہتھیانے کیلئے کیا لیکن اگر دونوں ملکوں میں کوئی سمجھوتا نہ ہوا تو تیل کی قیمت مزید گر سکتی ہیں۔

ا یک سینئر بینکار کے مطابق سعودی اقدام روس کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش ہو سکتا ہے مگر مارکیٹ کے فوری مستحکم ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ ادھردنیا نیوز کے پروگرام “دنیا کامران خان کے ساتھ” میں بتایا گیا کہ وائرس کی پھیلتی ہوئی وبا کے پس منظر عالمی منڈیوں میں جو کچھ ہوا ہے وہ تہلکہ خیز اور ناقابل یقین ہے اگرچہ پچھلا ہفتہ عالمی منڈیوں میں بڑا تلاطم خیز تھا لیکن پچھلے 24 گھنٹوں میں جو کچھ ہوا اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا

زبان پر انگلی لگا کر نوٹ گننا نقصان دہ ہوسکتا ہے

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 29سال پہلے یعنی 1991 میں خلیجی جنگ کی سطح پر آگئیں۔اگر عالمی منڈی میں یہی قیمتیں رہیں تو اس کے اثرات 2020 میں پاکستان کی قسمت بدل دیں گے۔ملک کو امپورٹ بل میں 5ارب ڈالر کی کمی سے ساڑھے سات سو ارب روپے کا فائدہ ہوگا،پٹرول ،بجلی ،گیس سستی ہو جائے گی۔

پچھلے 24 گھنٹے میں جو پیش رفت ہوئی ہے۔پاکستانیوں کو یہ کہنا پڑے گا کہ یہ مدد خدا وندی ہے اور عمران خان حکومت کے لئے یہ ایک غیبی امداد ہے ،سب کچھ اچانک ہوا ہے اگر ایسے ہی رہا تو ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ مہنگائی میں زبردست کمی آئے گی اور اب مہنگائی کی کمر ہر صورت میں ٹوٹ جائے گی،اس کے ساتھ شرح سود بھی کم ہو گی

ماہرین کے مطابق اسی سال کے دوران یہ ایک ہندسے پر بھی جاسکتی ہے۔عالمی منڈی میں پیرکے دن امریکی خام تیل کی قیمت 26اعشاریہ 5فیصد برطانوی خام تیل کی قیمت 25 فیصد،عرب رائٹ آئل کی قیمت 34 فیصد گر چکی تھی ،اوسطاً تیل 28سے 32ڈالر فی اوسط تک ٹریڈ کر رہا تھا۔

یاد رہے کہ سات ماہ پہلے عالمی منڈی میں یہ تیل 47 ڈالر فی بیرل تھا۔پچھلے ہفتے ویانا میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کا اجلاس ہوا تھا جس میں روس اور اوپیک ممالک کے درمیان تیل کی پیداوار گھٹانے پر اتفاق نہیں ہوا جس کے بعد سعودی عرب کو غصہ آگیااور اس نے تیل کی قیمت کم کرنے کے لئے پیداوار بڑھانے کا اعلان کردیا،اس پر روس نے بھی پیداوار بڑھانے کا اعلان کردیا،گویا تیل کی قیمتیں یہاں سے بھی نیچے گرسکتی ہیں۔یہ صورتحال ایسی ہے جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اگلے مہینے سے ہی تجارتی خسارہ سرپلس ہو جائے اور ہمارا کرنٹ اکاﺅنٹ سرپلس میں چلا جائے۔زر مبادلہ کے ذخائر میں بہتری آجائے گی جس سے روپے کی قدر کو استحکام ملے گا۔خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا اگر مکمل فائدہ حکومت عوام کو منتقل کردے تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کم از کم 20روپے فی لٹر مزید کمی آسکتی ہے اور اگر حکومت آدھا بھی کردے اور آدھا اپنے پاس رکھ لے تو لوگوں کی اور قومی خزانے کی بھی قسمت بدل جائے گی

ایل این جی کے نرخ بھی خام تیل کی قیمت سے جڑے ہوتے ہیں اس لئے ایل این جی قیمتوں میں بھی کم از کم 30فیصد کمی کی گنجائش ہے جبکہ اس سال عالمی سطح پر کوئلے کی قیمت میں بھی 16 فیصد کمی ہو گئی ہے جس سے سیمنٹ کی قیمتوں میں فرق پڑے گا۔حکومت کو بجلی اور گیس پر سبسڈی سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں باآ سانی 10سے 15 فیصد کم ہوسکتی ہیں۔یہ کوئی خواب کی باتیں نہیں۔یہ آج کے اعداد و شمار ہیں۔

ماسک بیچنے کیلئے خوف پیدا کیا گیا، سندھ ہائی کورٹ

عالمی منڈی میں خوردنی تیل کی قیمت بھی 20فیصد گر چکی ہے اور مزید نیچے آرہی ہے جس کے بعد کھانے پینے کا تیل 30روپے فی لٹر تک سستا ہوسکتا ہے یہ ایک سنہری مو قع بنتا نظر آرہا ہے کیونکہ اجناس کی قیمتیں بھی گر چکی ہیں۔ اسٹیٹ بینک اگلے ہفتے مانیٹری پالیسی جاری کرے گااور اس صورتحال میں شرح سود میں کمی کرے گا کیونکہ سوا 13فیصد شرح سود برقرار رکھنے کا اب کوئی جواز نہیں ہے۔ اس ضمن میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم و گیس ندیم بابر نے کہا کہ ہم تیل کی گرتی قیمتوں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سمجھ رہے ہیں۔

امید ہے آ ئندہ دو ماہ بعد زبردست معاشی فائدہ ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم تیل کی گرتی قیمتوں سے متعلق بہت پرجوش ہیں۔ آج بھی تیل کی قیمتوں پر اجلاس میں ڈھائی گھنٹے بحث ہوئی۔ وزیر اعظم نے بار بار کہا تیل کی قیمتوں پر حکمت عملی بنائیں۔ انہوں نے تیل پر حکمت عملی منظوری کیلئے مانگ لی ہے۔ندیم بابر نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ خام تیل کی گرتی تاریخی قیمتیں برقرار نہیں رہیں گی۔ تیل کی پیداواری لاگت بھی موجودہ سطح سے زیادہ ہے۔ ظاہر ہے کوئی ملک بھی تیل کو نقصان میں فروخت نہیں کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو تیل کی گرتی قیمتوں سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ کوشش ہے تیل کی گرتی قیمتوں پر ہی خریداری کر لیں۔ تاہم تیل کو ذخیرہ کرنے میں مسئلہ قیمتوں کے تعین کا بھی ہے۔ آج تیل 32 ڈالر کا ہے ، کل 25 کا ہو گیا تو پھر سوال ہوں گے۔ ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ ایک حد تک تیل ذخیرہ کریں۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میں جو کم پرائس ہے اس کا فائدہ اٹھا لیں،انہوں نے کہا کہ آج خام تیل 32 ڈالر فی بیرل ہے ، اس کا فائدہ ایک ماہ بعد ملے گا۔

(1258 بار دیکھا گیا)

تبصرے