Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 01 جون 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مالی استھان سے مولتان اور پھر ملتان تک

تحریر:مختار احمد ،مسافرپاکستانی هفته 07 مارچ 2020
مالی استھان سے مولتان اور پھر ملتان تک

ملتان پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے.یہ شہر جنوبی پنجاب میں دریائے چناب کے کنارے آباد ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ پاکستان کا پانچواں بڑا شہر ہے۔ یہ ضلع ملتان اور تحصیل ملتان کا صدر مقام بھی ہے۔بقیہ تحصیلوں میں تحصیل صدر، تحصیل شجاع آباد اورتحصیل جلال پورپیروالہ شامل ہیں۔ِ تاریخ میں ہے کہ ایک قوم جس کا نام مالی تھا یہاں آکر آباد ہوئی اورکیونکہ سنسکرت میں آباد ہونے کو استھان کہتے ہیں یوں اس کا نام مالی استھان پڑ گیا جو بعد میں بدل کر مالی تان بن گیا پھر وقت کے ساتھ ساتھ مالیتان، مولتان اور اب ملتان بن گیا ہے۔ملتان کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس کا شمار دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ بہت سے شہر آباد ہوئے مگر گردش ایام کا شکار ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ گئے، لیکن شہر ملتان ہزاروں سال پہلے بھی زندہ تھا اور آج بھی زندہ ہے۔ ملتان کو صفحہ ہستی سے ختم کر نے کی کوشش کرنے والے سینکڑوں حملہ آور خود نیست و نابود ہو گئے آج ان کا نام لیوا کوئی نہیں مگر ملتان آج بھی اپنے پورے تقدس کے ساتھ زندہ ہے ۔اب جہاں تک قدیم ملتان کا تعلق ہے تو ملتان اصل میں شروع کے ادوار میں ایک قلعہ پر مشتمل تھا۔ اور تمام آبادی اس کے اندر یا اس کے گردا گرد ہی رہتی تھی۔ قلعہ ملتان کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ پانچ ہزار سال پرانا ہے یہ اس سے بھی قدیم ہے اور بعض مورخین اس کی قدامت 10 ہزار سال پرانی قرار دیتے ہیں جبکہ آسٹریلین ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ یہ شہر کم و بیش 8000سال پرانا ہے اور اسی وجہ سے مورخین کا ملتان کی قدامت پر اختلافات موجود ہیں مگر ملتان5ہزار سال پرانا ہو یا اس سے بھی قدیم لیکن یہ بات سچ ہے کہ حملہ آوروں نے ہمیشہ اس قلعے کو نشانہ بنایا اور اسے فتح کرنے کے بعد خوب لوٹ مار ہوتی رہی مگر اسے بحال کرنے کی صورت پیدا نہ ہو سکی، 1200قبل مسیح دارانے اسے تباہ کیا،325 قبل مسیح سکندر اعظم نے اس پر چڑھائی کی پھر عرب افغان سکھ اور انگریز حملہ آوروں قدیم قلعہ ملتان کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی مگر اس کے باوجود ملتان آج بھی ایک زندہ شہر ہے اور صرف یہی نہیں اگر یہ کہا جا ئے کہ ملتان صرف ایک شہر ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب اور سلطنت کا نام ہے تو غلط نہ ہوگا ۔اس شہر کو اولیاء کا شہر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کافی تعداد میں اولیاء اور صوفیاء کی آخری آرام گاہیں ہیں۔ مشہور مزارات میں حضرت بہاوالدین زکریا ملتانی، حضرت شاہ رکن عالم، حضرت شاہ شمس تبریز، حضرت بہاوالحق، حضرت منشی غلام حسن شہید ملتانی، حضرت موسیٰ پاک شہید، حضرت سید احمد سعید کاظمی، حضرت حافظ محمد جمال اور بہت سے اولیاء کرام کی آخری آرام گاہیں موجود ہیںاس شہر جوکہ صرف ایک قلعے تک محدود تھا اس کے نیچے دریائے راوی بہتا تھا جوکہ اب کافی پیچھے جا چکا ہے شہر میں داخلے کے لئے پاک گیٹ،حرم دروازہ۔بوہڑ دروازہ۔دہلی دروازہ۔دولت دروازہ۔لوہاری دروازہ موجود تھا جوکہ آج بھی موجود ہے یہ شہر اپنی تاریخی مساجد کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا ہے۔ کچھ مساجد کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 1000 سال پرانی ہیں۔ ملتان کی پہلی مسجد محّمد بن قاسم نے تعمیر کروائی تھی کے علاوہ ملتان کی جامعہ مسجد عید گاہ جسے 1735عیسوی میں مغل گورنر نے تعمیر کروایا تھا کے علاوہ قدیم مساجد میں، مسجد ساوی، علی محمّد خان مسجد اور پھول ہتاں والی مسجد قابل ذکر ہیںجبکہ انگریز دور کی یادگاروں کے طور پر گھنٹہ گھر ،دم دما سمیت مختلف چرچز بھی قدامت کے اعتبار سے انتہائی پرانی ہیں اور ان کی اسی قدامت کو جاننے کے لئے مسافر پاکستانی نے شہر ملتان کا رخ کیا اور سب سے پہلے قلعے اور اولیائے اکرام کے مزارات کو دیکھنے کے لئے جب وہاں پہنچا تو قلعے کے بلند و بالا دروازے سے پورے شہر ملتان کو دیکھنے کا موقع ملا جوکہ محسور کن تھا مسافر پاکستانی نے قلعے کے دروازے کے اندر قدم رکھا تو سیدھے ہاتھ پر مشہور صوفی بزرگ حضرت شاہ رکن عالم کا مزار مبارک نظر آیا جبکہ دوسری طرف یعنی کے بائیں ہا تھ پر ایک قدیم عمارت نظر آئی جوکہ عجائب گھر تھا اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس عجائب گھر میں سرے سے نوادرات تو موجود نہیں تھے مگر جگہ جگہ دیواروں پر ملتان کی تباہی و بربادی ،فتح و شکست کے حوالے سے تصاویر کے فریم موجود تھے جس میں کہیں سکھوں کو ملتان پر حملہ کرتے ہو ئے دکھا ئی دیا تو کہیں پر افغانوں کے ملتان پر چڑھائی کی عکاسی کی گئی تو کسی تصویر میں اس وقت کی فوجوں کو ہتھیار ڈالتے اور جشن مناتے دکھایا گیا اور یہاںتک کے ملتان شہر کی مکمل تاریخ تصویروں کے ذریعے بیان کردی گئی جس کے پیش نظر اگر اسے تصویری میوزیم کہا جا ئے تو یہ بات درست ہوگی میوزیم دیکھنے کے بعد میرا رخ مشہور صوفی بزرگ حضرت بہائوالدین زکریا ملتانی کے پوتے حضرت شاہ رکن عالم کے مزار مبارک کی طرف ہو گیا اور جب میں مزار کے دروازے پر پہنچا تو ہزاروں کی تعداد میں زائرین قطار بنا کر مزار کے اندر داخل ہو رہے تھے میں بھی اس قطار میں چلتا ہوا جب مزار شریف کے اندر پہنچا تو وہاں بھی لوگوں کا ہجوم نظر آیا جوکہ دعائیں مانگ رہا تھا گوکہ مزار مبارک انتہائی قدیم ہے مگر اس کے باوجود محکمہ اوقاف کی طرف سے اس کی دیکھ بھال ہو نے کے سبب آج بھی اپنے ماضی کے شاندار احوال بیان کر رہا تھا حضرت شاہ رکن عالم کے مزار مبارک کے ساتھ سو سے زائد قبریں موجود تھیں جن کے بارے میں منتظمین نے بتا یا کہ یہ تمام قبریں ان کے خاندان کے افراد اور خادمین کے علاوہ بزرگان دین کی ہیں منتظمین نے مزار کے باہر وسیع و عریض صحن جہاں ٹائلوں کا فرش موجود تھا کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے بتایا کہ اس جگہ اس مقام پر بھی لاتعداد قبریں موجود تھیں جسے ٹائلوں پر قبر کنندہ کر کے ظاہر کیا گیا ہے جس کی بناپراگر یہ کہا جا ئے کہ اس جگہ حضرت شاہ رکن عالم کے ساتھ ہزاروں ایسے نیک بزرگوں کی قبریں موجود ہیں جنہوں نے ہندئوں کے شہر ملتان میںنا صرف اسلام کی شجرکاری کی بلکہ آبیاری کرتے ہو ئے اسے ایک اسلامی تمدن عطا کیا تو غلط نہ ہوگا حضرت شاہ رکن عالم کے مزار مبارک کے بعد میرا رخ حضرت عبدالقادر گیلانی ؒ کی چلہ گاہ کی طرف تھا جنہوں نے ماضی میں نا صرف یہاں عبادات کیں بلکہ ہزاروں لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا یہ چلہ گاہ بھی کسی مزار کی طرح کی ایک چھوٹی سی عمارت تھی جسے ظاہر کر نے کے لئے نا صرف ایک گنبد تعمیر کیا گیا ہے بلکہ چلہ گاہ کے طور پر ایک چھوٹا سا کمرہ موجود تھا جس کے باہر دیواروں پر یہاں منتیں ،مرادیں مانگنے والوں نے کڑی اور دھاگے باندھ رکھے تھے جبکہ اس کے ساتھ کئی قبریں بھی موجود تھیں جن کے بارے میں اوقاف کے نمائندگاہ کا کہنا یہ تھا کہ ان میں سے ایک قبر ان کے پوتے کی ہے جبکہ دیگر قبریں ان کے خادمین کی ہیںمسافر پاکستانی نے اس چلہ گاہ کے اندر جھانک کر جب جائزہ لینا شروع کیا تو چلہ گاہ کے اندرایک روشنی بکھری ہوئی تھی اور وہاں بھی محکمے کی جانب سے مزار کی چادر اونچے مقام پر بچھائی گئی تھی جن پرزائرین کی جانب سے عقیدت یا منتیں مرادیں مانگنے کے لئے نچھاور کئے گئے روپے پیسے بکھرے نظر آئے منتظمین کا کہنا یہ تھا کہ یہ چلہ گاہ عموما بند رہتا ہے مگر اسے چاند کی8تاریخ کو زیارت کے لئے کھولا جا تاہے اس چلہ گاہ کے بعد مسافر پاکستانی نے حضرت شاہ رکن عالم کے دادا حضرت بہائوالدین ذکریا ملتانی کے مزار مبارک کا رخ کیا تو ان کے مزار مبارک کا جاہو جلال دیکھنے والا تھا مزار کے باہر ماضی میں زائرین کی پیاس بجھانے کے لئے بنایا جا نے والا کنواں جسے اب جالیوں سے بند کر دیا گیا ہے نظر آیا مگر اب لوہے کی مضبوط جالیاں ہو نے کے سبب لوگوں کو پانی تو نہیں ملتا بلکہ زائرین اپنی منتیں،مرادیں مانگنے کے لئے اس کنویں کے اندر روپے پیسے ڈالتے ہیں یہ دیکھ کر جب میں مزار مبارک کے اندر داخل ہوا تو یہ مزار بھی قدامت کے اعتبار سے انتہائی قدیم نظر آیا اور یہاں بھی زائرین کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی جو کہ مزار پر پھولوں کی چادر چڑھا نے کے ساتھ ساتھ فاتحہ خوانی کررہی تھی اس مزار مبارک کے ساتھ بھی سینکڑوں کی تعداد میں قبریں وجود تھیں جن پر محکمے نے سفید پینٹ کر رکھا تھا اور اس کے بارے میں منتظمین کا یہ کہنا تھا کہ یہ ان کے خاندان کے افراد سمیت خادمین کی قبریں ہیں جبکہ مزار مبارک کے اندر ہی بعض بزرگان دین کی قبریں بھی موجود ہیں اس لئے اگر یہ کہا جا ئے کہ ملتان کے قلعے پرہزاروں کی تعداد میں اللہ کے نیک بندے مدفون ہیں تو یہ قطعی طور پر غلط نہیں ہو گا اسی مزار مبارک کے تھوڑے فاصلے پر ایک جگہ ملبے کا ڈھیر نظر آیا جس کے بارے میں اوقاف کے نمائندگان کا کہنا یہ تھا کہ پہلے اس جگہ اونچائی پر ایک مندر موجود تھا جسے ماضی میں بابری مسجد پر حملے کے بعد انتہا پسندوں نے توڑ پھوڑ دیا تھا اور اس کے بعد سے ہی یہ مندر بے آباد ہے قلعہ ملتان پر مشہور مسلمان فاتح محمد بن قاسم جن کے نام سے قلعے کے دروازے کو پہلے ہی منسوب کر دیا گیا تھا کے علاوہ ایک خوبصورت پارک بھی موجود ہے جہاں سبزہ زار کے علاوہ خوبصورت پھولوں سے سجی کیاریاں موجود ہیں جبکہ اسی جگہ پاکستان ایئر فورس کے ایک طیارے کو ماڈل کے طور پر نصب کیا گیا ہے جس کے ساتھ ہی ایک اونچا ٹائور بھی موجود ہے جس کے پلیٹ فارم پر کئی قبریں بھی موجود ہے کے حوالے سے وہاں کے منتظمین کا کہنا یہ تھا کہ اس جگہ پر برطانوی فوج کے ایک افسر کا گھوڑا جسے وہ بہت پیار کر تا تھا دفن ہے اور یہ وہی جگہ اور وہی مقام ہے جہاں انگریزوں نے سکھوں کو شکست فاش دے کر اپنی فتح کی یاد میں اس مینار کو تعمیر کروایا تھا جو کہ آج بھی موجود ہے اور قلعے کے تمام علاقے میں اولیائے کرام ،صوفیائے اکرام ،بزرگان دین کے مزارات ہونے کے باوجود کبھی اسے نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی گئی جو کہ اس بات کی زندہ دلیل ہے کہ مذہب اسلام ایک انتہا پسند نہیں بلکہ پر امن مذہب ہے جس کی نشانی کے طور پر دم دما کا یہ یادگار موجود ہے ملتان کے قدیم قلعے جہاں آج بہترین سڑکیں ،سبزہ زار موجود ہیںجہاں برطانوی دور میں استعمال ہونے والی توپیں سمیت لاتعداد یادگاریں موجود ہیں آج بھی بلندی پر واقع اس قلعے سے نئے ملتان کا دلفریب نظارہ دیکھا جا سکتا ہے جبکہ قلعے کے نچلے حصے سے اوپر دیکھنے پر قدیم ملتان نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے جسے دیکھتے ہوئے ملتان کی اصل قدامت کا اندزہ لگایا جا سکتا ہے۔

(201 بار دیکھا گیا)

تبصرے