Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 05 جولائی 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

”ایسے اندھے جو سب کچھ دیکھ سکتے ہیں“

قومی نیوز جمعرات 27 فروری 2020
”ایسے اندھے جو سب کچھ دیکھ سکتے ہیں“

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں متنازع شہریت قانون پر جاری احتجاج میں 24 فروری سے اس وقت شدت آ ئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے دورہ بھارت پر پہنچے اور پھر یہ احتجاج دیکھتے ہی دیکھتے پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوگیا۔

عالمی سیاستدانوں کی طرح بھارت کی شوبز و میڈیا انڈسٹری کی شخصیات کی جانب سے بھی نئی دہلی میں ہونے والے فسادات کی آ ڑ میں مسلمانوں کے قتل عام پر اظہار افسوس کرتے ہوئے حکومت سے جلد سے جلد امن بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

فلم ساز مہیش بھٹ نے نئی دہلی میں ہجوم کی جانب سے ایک شخص پر بیہمانہ تشدد کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’انہیں لگتا ہے کہ ہم اندھے نہیں ہونے جا رہے بلکہ ہم اندھے ہیں، ایسے اندھے ہیں جو سب کچھ دیکھ سکتے ہیں، ہم ایسے اندھے ہیں جو دیکھ تو سکتے ہیں مگر انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

ٹرمپ پاکستانیوں کوبھاگئے،بھارت میں صف ماتم

اداکارہ ریچا چڈا نے لکھا کہ ’ایک سچے ہندو ہونے کے ناطے انہیں دوسرے جنم پر یقین ہے اور انہیں یہ بھی یقین ہے کہ جلد ہی مظالم ڈھانے والوں پر عذاب اور بیماریوں کی صورت میں قہرنازل ہوگا اور ان کے ہاتھوں میں اپنا ہی خون ہے۔

فلم ساز، شاعر اور لکھاری جاید اختر نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’منصوبہ بندی کے تحت دہلی میں فسادات کو آ گے بڑھایا جا رہا ہے اور سب لوگ ’تنگ نظر سیاستدان‘ کپل مشرا جیسے بن رہے ہیں، یہ فضا تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دہلی میں تشدد متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے ہوا اور پولیس جلد اس پر قابو پا لے گی۔

روینہ ٹنڈن نے ٹوئٹ کی اور تشدد کو کچھ شرپسند عناصر کی مرضی قرار دیا اور ساتھ ہی لکھا کہ اگر ہم میں تھوڑی سی بھی ہمدردی ہے تو ہم فسادات میں مرنے والے افراد کے لیے تعزیت کا اظہار کر سکتے ہیں کیوں کہ وہ لوگ کافی عرصے سے انتہائی دباﺅ میں ہیں۔

” ٹرمپ کو نظر نہ آجائے“بھارت میں دیوار کی تعمیر

فلم ساز ہنسل مہتا نے مختصر مگر انتہائی معنیٰ خیز ٹوئٹ کی کہ ’کوئی بھی احتجاج کرنے والا شخص فساد نہیں چاہتا اور کوئی بھی فسادی احتجاج نہیں کرتا۔اداکارہ سوارا بھاسکر نے عام آ دمی پارٹی سے وہاں قیام امن کا مطالبہ کیا۔

(5106 بار دیکھا گیا)

تبصرے