Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 06 اپریل 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کراچی میں دومنزلہ سے زائد عمارتوں کی فہرست طلب

قومی نیوز جمعرات 20 فروری 2020
کراچی میں دومنزلہ سے زائد عمارتوں کی فہرست طلب

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) عدالت عظمیٰ نے کراچی کی کچی آ بادیوں کی لیز منسوخ کرکے لوگوں کو متبادل مقامات پر منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کراچی کے شہریوں میں گھٹن ختم کرکے تازہ ہوا اور اچھا ماحول فراہم کریں بیشتر کچی آ بادیاں مہنگی ترین زمینوں پر قائم ہیں متاثرین کو ملٹی اسٹوریز عمارتیں بنا کر منتقل کریں۔

عدالت نے شاہراہ قائدین سمیت اطراف کی سڑکوں سے تجاوزات فی الفور ہٹانے اور گرین لائن منصوبہ 2021 تک مکمل کرنیکی ہدایت کی ہے۔عدالت نے سندھ حکومت سے غیر قانونی تعمیرات کیس میں گراﺅنڈ پلس ٹو سے زائد تعمیرات کا مکمل ریکارڈ طلب کیا ہے۔

وفاقی حکومت نے کچی آ بادیوں کو کراچی کا اہم مسئلہ قرار دیا ہے، جس پر چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کچی آ بادیوں کی لیز منسوخ کرکے لوگوں کو متبادل مقامات پر منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔چیف جسٹس نے سندھ حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ٹاﺅن پلانرز ماہرین کی تجاویز اوررپورٹ میڈیا کے ذریعے شائع اور نشر کیا جائے۔

پورا کراچی بیچ دیا گیا، چیف جسٹس

عدالت عظمیٰ نے پی اینڈ ٹی کالونی میں بھی تمام غیرقانونی عمارتیں گرانے کا حکم دیا ہے۔ دریں اثناءچیف جسٹس گلزار احمد نے قرار دیا ہے کہ کے پی ٹی کو زمین کی لیز کا کوئی اختیار نہیں اس لیے کے پی ٹی کی جانب سے دی گئی تمام لیز منسوخ کی جاتی ہیں۔

سپریم کورٹ نے کے پی ٹی اراضی ملازمین یا دیگر کو الاٹمنٹ بھی منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے اورمزید کہا ہے کہ کے پی ٹی کی لیز پر کسی قسم کی ہاﺅسنگ اسکیم اور کمرشل سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے سندھ حکومت سے غیر قانونی تعمیرات کیس میں گراﺅنڈ پلس ٹو سے زائد تعمیرات کا مکمل ریکارڈ طلب کیا ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے گزشتہ دس برسوں میں گراونڈ پلس ٹو سےزائد تعمیرات کی منظوری کا مکمل ریکارڈ پیش کریں حکم میں تحریر کیا ہے کہ بلڈنگز کے مالکان کے نام اور ایڈریس کے ساتھ تفصیلات پیش کی جائیں۔ چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری کو دو ہفتے میں جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل لارجر بینچ نے 6 فروری کو ہونے والی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے جس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ شاہراہ قائدین سے سبزہ تک ختم کردیا گیا۔

پہلے شاہراہ فیصل سے بھی مزار قائد نظر آ تا تھا اب غیر قانونی تعمیرات کی بھرمار ہے۔ شاہراہ قائدین اور اطراف کی سڑکوں سے فوری طور پر تجاوزات ختم کرنے کے ساتھ ساتھ احکامات میں کہا ہے کہ خداداد کالونی سے متصل سروس روڈ پر ڈینٹنگ پینٹنگ کا کاروبار بھی ختم کیا جائے اور دکانداروں کو کہیں اور منتقل کیا جائے۔

کراچی کوسب نے لوٹا، سراج قاسم تیلی

چیف جسٹس پاکستان نے 6 اور 7 فروری کو کراچی رجسٹری میں ہونے والی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو سفری سہولت فراہمی کا حکم دے کر کراچی کے عوام کو نوید دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم نامہ میں تحریر کیا ہے کہ گرین لائن بس سروس کے منصوبے کے لیئے کوئی کھیل کا میدان یا پارک سمیت اضافی زمین استعمال نہ کی جائے اور بہر صورت اس منصوبے کو 2021 تک مکمل کیا جائے۔ اس سلسلے میں مزیدکوئی تاخیر برداشت نہیں ہوگی۔

چیف جسٹس نے سیکریٹری ریلوے کے بیان پر سرکلر ریلوے کا انتظام صوبائی حکومت کے حوالے کرنے سے متعلق ایگزیکٹو کمیٹی آ ف دی نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) کا تحریری فیصلہ بھی طلب کیا ہے اور سیکریٹری ریلوے کو حکم دیا ہے کہ وہ فیصلے مسودہ خود عدالت کے سامنے پیش کریں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے پی آ ئی ڈی سی کے سامنے واقع زمین اور اس پر بننے والی عمارت ’حیات ریجنسی ہوٹل‘ کی قانونی حیثیت پر وفاق سے تفصیلات طلب کی ہیں اور کمشنر کراچی کو بھی ماہرین کی رائے پر مشتمل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

(1666 بار دیکھا گیا)

تبصرے