Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 06 اپریل 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کراچی کوسب نے لوٹا، سراج قاسم تیلی

قومی نیوز بدھ 12 فروری 2020
کراچی کوسب نے لوٹا، سراج قاسم تیلی

کراچی (کامرس رپورٹر) کراچی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے استقبالیہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بی ایم جی وسابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی نے کہاکہ نہ ایم کیوایم ، نہ پیپلز پارٹی اور نہ ہی اے این پی ،حتیٰ کہ آج تک کسی نے بھی کراچی کو اپنا نہیں سمجھا۔

ہر ایک نے کراچی کو بری طرح لوٹا اور اس شہر کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ایک وقت تھا کہ ایم کیوایم بہت زیادہ اختیارات کے ساتھ اقتدار میں تھی اور وہ چاہتے تو حقیقتاً کراچی میں ترقی کے لئے کام کرسکتے تھے ۔

ایم کیوایم ، پی پی پی اور اے این پی سب اس شہر کی تباہی کے برابر کے ذمہ دار ہیں اور آج ہم جہاں کھڑے ہیں وہ ان سیاسی جماعتوں کی وجہ سے ہے اور ان میں سے کسی کو بھی کراچی کی کوئی پرواہ نہیں تھی جس کی وجہ سے آج شہر کو تباہ کن صورتحال کا سامنا ہے ۔

پورا کراچی بیچ دیا گیا، چیف جسٹس

سراج قاسم تیلی نے کہاکہ صرف یہ سیاسی جماعتیں ہی نہیں بلکہ ہم سب کراچی کو درپیش مسائل کے ذمہ دار ہیں کیونکہ ہم میں سے اکثر تنقید کرنے کے بجائے عموماً سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور حتیٰ کہ پولیس افسران کی چمچہ گیری میں لگے رہتے ہیں۔

ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا ہوگا اور سچ بولنا ہوگا جو کہ آسان کام نہیں ہے لیکن مسائل کو حل کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔نتائج کو بالائے طاق رکھ کر ہم نے کے سی سی آئی کے پلیٹ فارم سے ہمیشہ سچ بولا جس کی وجہ سے کئی فیصلہ ساز کراچی چیمبر آنے سے آج بھی کتراتے ہیں کیونکہ ہم بہت سارے سوالات کرتے ہیں اور وضاحت بھی مانگتے ہیں۔

چیئرمین بی ایم جی نے کہاکہ اگر میئر کراچی کو اس شہر کے امور چلانے کا صرف10فیصد اختیار ہے مگر انہیں پورے کراچی کی تباہی کا ذمہ دار ٹہرایا جاتا ہے تو انہیں فوری طور پر استعفیٰ دے کر گھر چلے جانا چاہیے۔ اگر میں میئر ہوتا تو میں تمام مطلوبہ اختیارات کا مطالبہ کرتا دوسری صورت میں عہدے سے فوری استعفیٰ دے دیتا۔انہوں نے کہاکہ کراچی قومی خزانے میں 70فیصد اور سندھ ریونیوبورڈ کے ریونیو میں95فیصد کا حصہ دار ہے۔

پورا ملک اور سندھ اس شہر کی آمدنی سے چلتا ہے لیکن بدقسمتی سے کراچی کو بدلے میں کچھ نہیں ملتا اور وہ اب تک اپنے حق سے محروم ہے۔جبکہ میئرکراچی وسیم اختر نے کہا کہ کراچی کا مسئلہ اب سیاسی نہیں انسانی بن گیا ہے، سب کو مل کر کوشش کرنا پڑے گی

کراچی کو صرف سیاسی جماعتوں ہی نے نہیں بلکہ سب نے مل کر خراب کیا اور سب کو مل کر اسے ٹھیک کرنا ہو گا،استعفیٰ دینا بہت آسان کام ہے کمزور لوگ استعفیٰ دے کر چلے جاتے ہیں مگر میں کمزور نہیں ہوں نہ ہی ڈرتا ہوں لہٰذا عوام کا مقدمہ لڑتا رہوں گا

کراچی کا حشر کر دیا، چیف جسٹس برہم

اگر میں استعفیٰ دے کر چلا جاتا تو میری جگہ ایڈمنسٹریٹر آجاتا اور شہر کا مقدمہ لڑنے والا کوئی نہ ہوتا، آج سپریم کورٹ حکومت سندھ سے پوچھ نہ رہی ہوتی کہ ایس ایل جی اے 2013ءمیں میئر کو کیا اختیارات دیئے ہیں، تاجر اور عوام بلدیاتی قانون کو ضرور پڑھیں کہ کراچی کے ساتھ کس قدر زیادتی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے تاجر اپنے مسائل تو اسلام آباد جا کر حل کر لیتے ہیں مگر کراچی کے مسائل پر ایک تاجر بھی نہیں بولتا،کے ایم سی کے اسپتال بند تھے، اب کام کر رہے ہیں، کوئی نہیں پوچھتا کہ ان اختیارات اور وسائل کے ساتھ کراچی کیسے چل سکتا ہے

انہوں نے کہا کہ میں خود تاجروں کے پاس گیا اور بیگ دیئے کہ کچرا اس میں ڈال کر باہر رکھو مگر کوئی تعاون نہیں کرتا انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ایم این اے کو ترقیاتی فنڈز دے کر دستور کی خلاف ورزی اور اپنی بات کی نفی کررہے ہیں۔

(1479 بار دیکھا گیا)

تبصرے