Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 06 اپریل 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کراچی کا حشر کر دیا، چیف جسٹس برہم

قومی نیوز جمعه 07 فروری 2020
کراچی کا حشر کر دیا، چیف جسٹس برہم

کراچی (اسٹاف رپورٹر) چیف جسٹس پاکستان نے کراچی میں تجاوزات سے متعلق کیس میں میئر کراچی، سندھ حکومت اور سیکریٹری بلدیات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ آپ لوگوں نے مفاد پرستی میں شہر کا کیا حشر کردیا

پورے پورے پارکس، قبرستان اور رفاعی پلاٹس غائب ہوگئے، کراچی کو چلانا ہے تو چلا کر دکھائیں نہ، طوطا کہانیاں مت سنائیں۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں کراچی کی اصل شکل میں بحالی اور تجاوزات کے خاتمے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی جس سلسلے میں میئر کراچی، سیکریٹری بلدیات اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو آئین کا آرٹیکل 140 پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے استفسار کیا کہ بتائیں شہر کو خوبصورت کیوں نہیں بناتے آپ لوگ؟جو کچھ آپ لوگ کررہے ہیں یہ آئین کی خلاف ورزی نہیں؟ میئر کی ذمہ داری ہے ہر سوال کا جواب دیں، میئر کراچی کیوں جواب نہیں دیتے؟ آگے آئیں میئر صاحب آپ کی انتظامی ذمہ داری ہے۔

کراچی شہر اسٹریٹ کرائم سے پاک چاہیے،وزیراعلیٰ سندھ

عدالت کے استفسار پر سیکریٹری بلدیات نے بتایا کہ یہ لوکل گورنمنٹ اور بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہے، اختیارات نہ ہونے کا میئر کا دعویٰ درست نہیں، بلدیاتی اداروں کے پاس مکمل مالی اختیارات ہیں، کئی منصوبے ورلڈ بینک کے تعاون سے چل رہے ہیں۔

سیکریٹری بلدیات کے بیان پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ کی بات ٹھیک ہے تو ہم میئر کی ایک کہانی بھی نہیں سنیں گے، ان کو ایک گیت بھی گانے نہیں دیں گے، آپ لوگ سوٹ پہن کر دفتروں میں بیٹھے رہتے ہیں باہر نکلنے کو تیار نہیں، یہاں آکر کہانیاں سنا دیتے ہیں ورلڈ بینک فلاں بینک، بتائیں آخری دفعہ باہر کب نکلے تھے؟

کوئی روڈ دیکھا ہے آپ نے؟ آپ کسی کے لاڈلے ہوں گے یہاں، کسی کے لاڈلے نہیں، کبھی لیاری، منگھو پیر، پاک کالونی، لالو کھیت اورناظم آباد گئے ہیں؟ یہ تو آرٹیکل 6کا کیس بنتا ہے آپ لوگ آئین توڑ رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ لوگوں کو کچھ ملا ؟سب کچھ تو آپ کی جیب میں چلا گیا، کراچی کا کوئی کام بھی ہو لوکل گورنمنٹ کے ذریعے ہونا چاہیے، آپ اور سب پاکستان کے لیے کام کررہے ہیں یہ آئین کی پابندی آپ کی ذمہ داری نہیں؟

عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمہ کیا کہ وزیراعلیٰ سے رپورٹ لے کر دیں کیوں نہیں ہورہا کام؟چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے کہ اگر میئر سے کام نہیں لینا تو ان کو گھر بھیج دیں، انہیں کیوں رکھا ہوا ہے؟ کراچی میں جو کچھ ہورہا ہے یہ کیوں ہونے دیا؟ یہ کوئی گائوں نہیں ہے

بے نظیرانکم سپورٹ اسکیم ،فائدہ اٹھانے والے افسران سرگرم

کبھی کراچی پاکستان کا نگینہ ہوا کرتا تھا، آپ لوگوں نے مفاد پرستی میں شہر کا کیا حشر کردیا،عدالت نے میئر کراچی سے سوال کیا کہ آپ نے سڑکیں بنائی ہیں؟ کہاں سڑک بنائی ہے؟ اس پر وسیم اختر نے جواب دیا کہ ناظم آباد میں چھوٹی گلیوں کی سڑکیں بنائی ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دہئے کہ ناظم آباد میں کوئی چھوٹی گلیاں نہیں ہیں، ریکارڈ پیش کریں،کتنی سڑکیں بنائی ہیں؟

دورانِ سماعت ایک خاتون نے عدالت میں شکایت کی کہ ایک ہی سڑک تین دفعہ توڑ کر بنادی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے شہر کے لوگ کہہ رہے ہیں کچھ نہیں بنا۔میئر کراچی نے عدالت کو سڑکیں بنانے کا ریکارڈ پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی اس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں، آپ بعد میں لائیں ریکارڈ، ابھی بتائیں کیا کیا آپ نے شہر کے لئے؟ کراچی کوئی گاﺅں نہیں ہے۔

(1989 بار دیکھا گیا)

تبصرے