Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 06 اپریل 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

چین کی معیشت کا پہیہ جام

قومی نیوز هفته 01 فروری 2020
چین کی معیشت کا پہیہ جام

کراچی (نیوزڈیسک) کورونا وائرس‘ چین کی دوتہائی معیشت جام‘اربوں ڈالرز کے نقصان کا خدشہ ہے۔ چین کی معیشت کے گڑھ 14 صوبوں اور شہروں میں فروری کے دوسرے ہفتے تک کاروبار بند رہے گا۔

کورونا وائرس کی وجہ سے چین کی معیشت کو رواں سہ ماہی کے دوران 60 ارب ڈالرز کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آ ئندہ ہفتے تک چین کی دو تہائی معیشت جام ہوجائے گی۔

چین کے 14 صوبوں اور شہروں میں فروری کے دوسرے ہفتے تک کاروبار بند رہے گا۔ ان صوبوں اور شہروں سے 2019 کے دوران چین کے جی ڈی پی کا 69 فیصد حاصل کیا گیا تھا۔

کرونا نے تباہی مچادی، 6 ہزار سیاح قید

چین کی مرکزی اور مقامی حکومتوں نے 12 اعشاریہ 6 ارب ڈالرز علاج معالجے اور طبی آ لات کی خریداری کے لیے مختص کیے ہیں۔ جب کہ رواں ماہ کے آ غاز میں چین نے امریکا کے ساتھ آ ئندہ دو سال کے دوران 200 ارب ڈالرز کی مصنوعات خریدنے کا معاہدہ کیا ہے، جس پر عمل کرنا مشکل ہوجائے گا۔

اس کے علاوہ کورونا وائرس بےروزگاری میں اضافے کا بھی سبب بنے گا۔ کورونا وائرس کے باعث چین میںہلاکتوں کی تعداد 213ہوگئی جبکہ متاثرین 10ہزار سے تجاوز کرگئے،ادھر تیزی سے پھیلتا وائرس روس بھی جا پہنچا جہاں 2چینی شہریوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے،ووہان سے کئی ممالک کے مزید شہریوں کا انخلا بھی ہورہا ہے

، بھارت نے بھی شہریوں کے انخلا کیلئے پرواز ووہان بھیج دی ہیں ،جبکہ جرمنی نے بھی شہریوں کو نکالنے کا فیصلہ کیاہے، چین کے صحت کمیشن کا کہناہے کہ ایک لاکھ سے زائد افراد طبی نگرانی میں ہیں۔

چین کے لئے متعدد ایئرلائنز اپنی پروازیں روک رہی ہیں یا اس میں کمی لارہی ہیں کیونکہ چین مہلک کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے کوششیں کررہاہے،چین نے اپنے شہریوں کو بیرون ملک دورے ملتوی کرنے اور گروپ ٹور زمنسوخ کرنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ متعدد ممالک نے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ چین کے سفر سے گریز کریں۔

کرونا وائرس خدا کا عذاب ہے، برطانوی پادری

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ترجمان کرسچیئن لِنڈمیئر نے جمعہ کو جینوا میں خبردار کیا ہے کہ اگر چین کے ساتھ سرکاری سرحدیں بند کردی گئیں تو آ پ اس وائرس سے متاثرہ افراد کی ٹریکنگ سے محروم ہوجائیں گے اور ان لوگوں کی نکل و حرکت کو مزید مانیٹر نہیں کرسکیں گے

کورونا وائرس سے چین میں اب تک 213 افراد ہلاک جبکہ تقریبا 10 ہزار افراد متاثر ہوچکے ہیں اور یہ وائرس چین سے نکل کر اس وقت دنیا کہ 20 ممالک تک پھیل چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے ممالک نے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اپنے شہریوں کو چین کا سفر نہ کرنے، چین کیلئے پروزایں معطل اور تجارت روکنے کا فیصلہ کیا ہے

کئی ممالک نے چین سے آ نے اور جانے والے بین السرحدی ٹریفک کو روک دیا ہے اور خاص طور پر چین کے شہر ووہان سے آ نے والے افراد کا اپنے ممالک میں داخلہ بند کردیا ہے تاہم اب ڈبلیو ایچ اور کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس طرح سرحدیں بند کردینے سے وائرس کو پھیلنے سے نہیں روکا جاسکتا بلکہ یہ کرنا مزید خطرے کا باعث بن سکتا ہے

منطقی طور پر تو یہ درست لگتا ہے کہ اگر ہمیں باہر سے خطرہ ہے تو ہم خود کو کمرہ بند کرلیں لیکن اگر ہم دوسرے نظریے سے دیکھیں جیسا کہ ایبولا یا کوئی اور وبائی مرض جس میں لوگ سفر کرنا چاہیں اور انہیں اجازت نہ دی جائے تو وہ غیر قانونی طریقہ استعمال کرتے ہیں۔

(1225 بار دیکھا گیا)

تبصرے