Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 01 جون 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

لالو کھیت سے لیاقت آباد تک

تحریر :مختار احمد پیر 06 جنوری 2020
لالو کھیت سے لیاقت آباد تک

یہ کچھ زیادہ پرانی بات تو نہیں بلکہ4یا5 دہائیوں پہلے کی بات ہے کہ لالو کھیت جو کہ دراصل سر سبز کھیتوں میں شمار ہو تا تھا اچا نک سے قیام پاکستان سے قبل ہی آباد ہو نا شروع ہو گیااور جب پاکستان بن گیا تو نہ لالو رہا اور نہ ہی اس کے کھیت اور کیو نکہ یہ آبادی والا علاقہ بن چکا تھا لہذا اسے لیاقت آباد کا نام دے دیا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا شہر آباد ہو گیا جہاں اکثر یتی آبادی بھارت سے آنے والے مہاجرین کی تھی مگر یہاں خال خال دوسری قوموں کے لوگ بھی آباد تھے اور انتہا ئی محبت اور بھائی چارگی کے ساتھ رہتے تھے مگر نہ جا نے اچانک اس بسنے والے نئے شہر کوکس کی نظرکھا گئی اور ایوب خان کے دور میں یہاں لسانی فسادات نے جنم لے لیا اور یہ آگ ابھی ٹھنڈی بھی نہیں ہو ئی تھی کہ اچانک جو لا ئی 1972 میں اس وقت جب ملک کے اندر ذوالفقار علی بھٹو کی حکمرانی تھی اور ان کے چچا زاد سردار ممتاز علی بھٹو سندھ کے وزیر اعلی بنائے گئے تو انہوں نے اچانک ہی سندھ اسمبلی سے اردو کے بجا ئے سندھی کو سرکاری زبان قرار دینے کا بل کثرت رائے سے منظور کروالیا جس پر ملک بلخصوص سندھ میں اردو بولنے والوں میں ایک تشویش کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے اس بات پر احتجاج شروع کر دیا مگر حکو مت سندھ نے بجا ئے اس احتجاج کی آگ کو ٹھنڈا کر نے کا حل تلاش کر نے کے بزور طاقت ہو نے والے اس احتجاج کو دبا نے کی کوشش کی اور نتیجے کے طور پر لیاقت آباد میں فسادات پھوٹ پڑے ریاستی دہشتگردی کے سبب دونوں اطراف کے لوگ مارے گئے بھائی بھا ئی کا دشمن ہو گیاجس کے سبب سندھ میں بسنے والے ان مہاجرین جو کہ پہلے ہی پاکستان کی محبت میں اپنا سب کچھ لٹا کر جا نوں کی قر با نی دے کر وطن آئے تھے ان کی جائیدادوں سے بے دخل کیا گیا جبکہ شہرمیںبسنے والے لوگوں نے بھی اندرون سندھ میں بسنے والوں کو ہجرت پر مجبور کر دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ کراچی میں لیاقت آباد کے علاقے میں شدید ہنگامہ آرائی ہو ئی جس کے نتیجے میں سینکڑوں نہیں تو درجنوں لوگ ہلاک ہو ئے جبکہ لاتعداد لوگ اپنے مال و اسباب اور سر چھپانے کے ٹھکا نے سے بھی محروم ہو گئے جسے دیکھتے ہوئے اس وقت کے معروف شاعر رئیس امبروہی نے اردو کا جنازہ ذرا دھوم سے نکلے لکھ ڈالی اور جب یہ نظم ملک کے موخر روزناموں اور جریدوں میں شائع ہو ئی تو بھارت سے ہجرت کر کے آنے والوں میں مزید اشتعال پیدا ہو گیا اور انہوں نے اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے کو بنیاد بنا کر اپنی زبان کی بے توخیری اور اس کی جگہ کسی اور زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دینے پر شدید رد عمل کے طور پر احتجاج شروع کر دیا با لا آخردونوں جانب سے کچھ بزرگ سامنے آئے اور انہوں نے سخت جدو جہد کے بعد ہو نے والے ان فسادات پر قابو پا یا مگر فسادات کے نتیجے میں دونوں طرف کے لوگ زخموں سے چور تھے لہذا انہوں نے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا ئیں اور انہیں مدفون کر کے اس ہو نے والے اس المناک واقعے پرمٹی ڈالنے کی کوشش کی شہرکراچی کے بسنے والوں نے ایسے میں ان فسادات کے نتیجے میں ہلاک ہو نے والوں کی یاد کو تازہ کر نے کے لئے مرکزی جامع مسجد شہدا لیاقت آباد نمبر 10 میں مدفون کر دیا جہاں آج بھی لگ بھگ 9سے10شہدا کی پختہ قبریں جن میں ریاست جوتپور اسٹیٹ سے تعلق رکھنے والے والی محمد عرف بنے ،قاضی اقبال حسین قریشی جن کا مستقل پتہ کتبے پر ملتان پنجاب درج ہے کے علاوہ سید ابرار میاں عرف شکیل میاں ناظم آباداور عالمگیر سمیت دیگر قبریں آج بھی اس المناک واقعے کی یاد تازہ کرتی ہیں مگر چونکہ یہ قبریں عین مسجد کے اندرونی حصے میں واقع ہیں لہذا ان کے گرد چاردیواری بنا کر ایک چھوٹا سا دروازہ لگا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے شہر میں ایسے لوگوں کی انتہائی قلیل تعداد موجود ہے جو کہ لالوکھیت میں ہو نے والے سانحے کے بارے میں علم رکھتا ہے ہاں مگر انجمن شہدائے اردو نے قبروں کے گرد بنا ئی جا نے والی چاردیواری جس سے قبریں چھپا نے کا کام لیا جا تا ہے کے اوپر ایک سنگ مرمر کی تختی ضرور نصب کر رکھی ہے جس پر یہ درج ہے کہ یہ مزارات ان بے گناہ شہدا اردو تحریک کی ہے جنہیں موجودہ صوبہ سندھ کے پہلے وزیر اعلی کے حکم پر قتل کیا گیا اور اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے کا نعرہ لگا تے ہو ئے ان معصوم شہریوں کو پو لیس نے فائرنگ کر کے شہید کیا گیا اس بارے میں لیاقت آباد نمبر 10مسجد شہدا جس کے ساتھ پا نی کی ٹینکی اور ٹرنک کی لاتعداد دکانیں قائم ہیں کو بھی اس حوالے سے معلومات نہیں ہاں اس حوالے سے مہا جر اتحاد تحریک کے سر براہ ڈاکٹر سلیم حیدر کا کہنا یہ ہے کہ یہ ان شہدا کی قبریں ہیں جنہیں اردو زبان کو زبان کا درجہ دینے کے مطالبے میں پو لیس نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا اور اسی وجہ کر یہاں ان کی قبریں قائم ہیں مگر مہاجروں کے چمپئن جنہوں نے 31سال تک اس شہر پر حکمرانی کی انہوں نے کبھی ان قبروں کی جا نب کبھی تو جہ نہیں دی جس کی وجہ سے یہ چند سال قبل زبوں حا لی کا شکار تھی مگر ہم نے انجمن شہدائے اردو کے ساتھ مل کر شہیدوں کے ان قبروں کی حالت زار کو درست کیا مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان نسل بھی ان شہدا کے بارے میں نا صرف واقفیت حاصل کرے بلکہ ان کے ایثال ثواب کے لئے ان کی قبروں پر حاضری دے کر فاتحہ خوانی بھی کرے گو کہ اس واقعے کو 48سال گزرچکے ہیںمگر آج بھی مسجد کے اندر موجود خفیہ قبریں ماضی کے اس المناک واقعے کو دھراتی نظر آتی ہے اور اس واقعے کے بعد ہی لیاقت آباد کو نا صرف ایک خصوصی مقبولیت حاصل ہو ئی بلکہ سیاسی تحریکوں کے حوالے سے اس کی حیثیت ایک ریڑھ کی ہڈی سے کم نہیں تھی یہی وجہ تھی کہ یہاں جلسے جلوس معمولات میں شامل تھی جبککہ ہنگا مہ آرائی بھی اس کا خاصہ بنی ہو ئی تھی جس کے سبب اکثر و بیشتر نا صرف تین ہٹی سے لے کر لیاقت آباد تک کرفیو لگنا اور فوج آنا معمولات میں شامل تھی جبکہ ماضی میں ٹی وی کا نام نشان نہیںہوتا تھا اور اس وقت لوگ بی بی سی اور وائس آف امریکا سے نشر ہو نے والے خبروں پر اعتماد کرتے تھے تو لیاقت آباد نشر ہو نے والی خبروں میں نمبر ون ہو تا تھا جبکہ اخبارات میں بھی اس علاقے میں ہو نے والے سیاسی جلسہ جلوسوں اور ہنگامہ آرائی کی شہ سرخیاں ہوتی تھیں مگر سیاسی مداخلت کے خاتمے اور رینجرز کی انتھک کوششوں کے سبب ہنگا مہ آرائی، جلائو گھیرائوکے طور پر شہرت رکھنے والا علاقہ مکمل تبدیل ہو کر ایک مکمل کاروباری بن چکا ہے جہاں مختلف قوموں کے لوگ بغیر کسی ڈر و خوف کے نا صرف کاروبار کر تے نظر آتے ہیں بلکہ بھائی چارگی کے ساتھ رہائش پذیر ہیں اور عرصہ دراز سے یہاں کوئی بد امنی کا واقعہ پیش نہیں آیا اور نہ ہی کرمنل لوگ پکڑے جا تے ہیں اس لئے اگر آج اسے لیاقت علی خان کا لیاقت آباد سمجھا جا ئے تو وہ کسی طور پرغلط نہ ہو گا ۔

 

  

(476 بار دیکھا گیا)

تبصرے