Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 18 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مذاکرات نہیں ٹائم پاس،بے مقصد بات چیت کی ضرورت نہیں،مولانا فضل الرحمان

ویب ڈیسک جمعه 08 نومبر 2019
مذاکرات نہیں ٹائم پاس،بے مقصد بات چیت کی ضرورت نہیں،مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد (قومی اخبار نیوز) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں جس میں انہوں نے کہا فوج غیر جانبدار رہے گی۔ ’میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ استقامت دے۔

ارکان پارلیمنٹ نے فضل الرحمٰن کی سیکورٹی سنبھال لی

 

جمعرات کو اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ ہم یہ تحریک بڑی استقامت سے یہاں تک لے آئے ہیں اور ہم استعفے سے کم پر راضی نہیں ہوں گے، استعفیٰ دو گھر جائو، بے مقصد مذاکرات کی ضرورت نہیں، جس دھاندلی پر قوم گواہ ہو اس کی تحقیقات نہیں ہوتی، الیکشن کمیشن تحریک انصاف پارٹی فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیوں نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم قومی اداروں سے برادارانہ لہجے میں کہنا چاہتے ہیں کہ ان (مارچ کے شرکاء ) کے مطالبات کو تسلیم کریں ان کو ان کا حق دیا جائے اور نااہل حکومت کو فارغ کیا جائے۔

 

ان کا مزید کہنا تھاکہ جب پی اے ایف نے انڈیا کا جہاز گرایا تو جے یو آئی کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا‘ آج یہی کارکن سڑکوں پر ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ گلے شکوے اپنوں سے کیے جاتے ہیں، آپ نے کہاکہ ہم غیر جانبدار ہیں، ہم نے مان لیالیکن ووٹ ایک امانت ہے اور اس امانت کو واپس کیا جائے۔ دریں اثناء ایک انٹرویو میں سربراہ پاکستان جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ کچھ بھی ہوجائے استعفے لئے بغیر نہیں جائیں گے ہمارا مطالبہ دو سے تین ماہ میں صاف شفاف الیکشن ہے‘ سینٹ الیکشن سے سیکھ لیا کہ تحریک عدم اعتماد لانے کا کوئی فائدہ نہیں مذاکرات نہیں ہو رہے حکومت کے ساتھ ٹائم پاس کیا جارہا ہے۔

 

ہم لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں پر حملہ نہیں کریں گے‘ ہم گولیاں کھائیں گے‘ شہادتیں حاصل کریں گے اور لاشیں اٹھائیں گے مگر استعفیٰ لئے بغیر نہیں جائیں گے، ہم الیکشن چاہتے ہیں او ران کا باپ بھی تسلیم کرے گا، میڈیا نے ہمارے آزادی مارچ کی کوریج روکی ہوئی ہے، ہم اسلام آباد آکر بیٹھ گئے تو میڈیا احسان ڈال رہا ہے جبکہ پورے سال ہمارا بلیک آئوٹ کیا، یہ وہ کردار ہے جو بھولتا نہیں ہے، یہ میرے ساتھ نہیں آپ کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم اس ملک میں غلام بن کررہ رہے ہیں ملک ڈوب رہا ہے ناں ہی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور ناں ہی روزگار مل رہا ہے ‘ موجودہ حکومت میں ہر گزرتا دن ہماری تنزلی کا دن ہے اگر مزید وقت دیا تو آنے والا ایک ایک دن ہماری تنزلی کا دن ثابت ہوگا جو ملک کو چلانا جانتے ہیں وہ جیل میں ہیں ‘ ہمیں ناں جوڈیشل کمیشن قبول ہے ناں پارلیمانی کمیشن قبول ہے پوری قوم دیوار سے لگ چکی ہے اسے نکلنا پڑے گا ہم تو کہتے ہیں کہ الیکشن میں بھی خاص فورسز کو نہ بلایا جائے‘

 

حکومت امن و امان کے نام پر انہیں بلالیتی ہے اور اس کے بعد لوگ اعتراض کرتے ہیں اس سے ہمارے انتخابات متنازع ہوجاتے ہیں۔ پارلیمنٹ نہیں ہوگی، عوام کی شراکت داری نہیں ہوگی‘ سیاستدان نہیں ہوں گے تو ملک کیسے چلے گا‘ اس طرح اسٹیبلشمنٹ نہیں ہوگی تو ملک کیسے چلے گا‘ یہ ساری چیزیں ایک ملک کو چلانے کے راستے ہیں اور ان راستوں کو جو متعین کیا گیا تو سب اپنے اپنے راستے پر چلیں گے تو آگے جائے گا‘ ہمارا نظام پر سے اعتبار اٹھ چکا ہے تبھی ہم دھرنے کے لئے آئے ہیں‘ پیپلز پارٹی کی سندھ میں مکمل حکومت ہے مگر پھر بھی وہ کہہ رہی ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے‘ اسی طرح ن لیگ کی پنجاب میں بھاری اکثریت ہے‘ دو چار سیٹوں سے پی ٹی آئی حکومت کررہی ہے وہاں پر بھی ن لیگ کہہ رہی ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے ہم ایک سیٹ ‘ ایک پارٹی کی سیٹ کے حوالے سے بات نہیں کررہے اوور آل پاکستان کے انتخابی نتائج کی بات کررہے ہیں اور اس حوالے سے واضح موقف ہے ہم تمام پارٹیوں کے بیچ میں جس میں کوئی رد و بدل کی اب گنجائش نہیں ہے الیکشن کی تحقیقات کے لئے کوئی نظام ملک میں موجود نہیں ہے الیکشن کمیشن متنازع بنا ہوا ہے ہم آزادی کی جنگ کے لئے نکلے ہیں اور آزادی حاصل کرکے رہیں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم ڈیڈ لائن کھینچ چکے ہیں کہ جب تک اس ملک میں ہمیں اس ناجائز اور نااہل حکومت اور حکمران سے آزادی نہیں ملے گی ہم قبول نہیں کرتے یہ نظریہ کی جنگ ہے اور ہم جہاد کے لئے گھروں سے نکلیں ہیں شوق شہادت کو لے کر اور جذبہ جہاد کو لے کر ہم میدان میں آئے ہیں غیر مسلح ہیں آئین اور قانون کے اندر رہ کر جدوجہد کررہے ہیں ہم دیوار سے لگے ہوئے ہیں ہمارے پاس ایک انچ پیچھے جانے کا راستہ نہیں ہے، سیاسی کیریئر کا اہم موڑ ہے ساری کشتیاں جلانے کیلئے تیار ہوں۔ صرف ضمنی انتخاب نہیں مکمل طور پر نئے انتخابات چاہتا ہوں، اقتدار میں جو ہوتا ہے اسے صرف اپنا اقتدار خطرے میں نظر آتا ہے،عمران خان آئین کی اسلامی دفعات ختم کرنے اور اس میں ردوبدل کا جو ایجنڈا لائے تھے وہ ہم نے ناکام بنادیا ہے۔ مدارس کے حوالے سے بھی ان کا بڑ اایجنڈا ہے، ہمیں ادراک ہے امریکا سے لے کر یورپی یونین تک پاکستان کے آئین کی کس کس شق کو نشانے پر رکھے ہوئے ہیں اور اس کے لئے کس کو تیار کر کے لائے ہیں۔

(93 بار دیکھا گیا)

تبصرے