Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 18 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

دوسرا سمندری طوفان بھی قریب،خوف وہراس

ویب ڈیسک منگل 29 اکتوبر 2019
دوسرا سمندری طوفان بھی قریب،خوف وہراس

کراچی (رپورٹ O رائو عمران اشفاق) بحیرہ عرب میں طاقتور سمندری طوفان کیار کے بعد دوسرا سمندری طوفان ماہا بھی بن گیا‘ سمندری طوفانوں کی وجہ سے سمندر میں شدید طغیانی‘ 212 لانچیں اور 3 ہزار ماہی گیر سمندر میں پھنس گئے‘ ساحلی آبادیوں میں سمندری پانی داخل ہوگیا۔

 

کراچی میں سمندری طوفان کا خطرہ، ایمرجنسی نافذ

 

ڈیفنس‘ کلفٹن‘ ہاکس بے روڈ پر سیلابی پانی آگیا‘ مکینوں میں خوف و ہراس‘ کیماڑی اور اس کے اطراف میں جزیرے ڈوبنے کا خطرہ‘ نقل مکانی شروع ہوگئی‘ 29 ساحلی آبادیاں ڈوب گئیں‘ ممکنہ سمندری طوفان کے باعث شہری اداروں میں ایمرجنسی کا شکار کراچی میں 3 دن بارش ہوگی‘ شہر بھی ڈوبنے کا خدشہ‘ محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کردیا۔ اطلاعات کے مطابق بحیرہ عرب میں بننے والا سمندری طوفان کیار کراچی سے 700 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے‘ بحیرہ عرب میں اب تک بننے والا بڑا سمندری طوفان سے اس کا رخ عمان کی جانب تھا۔

 

ڈی جی محکمہ موسمیات سردار سرفراز کے مطابق عمان کے ساحل سے 200 کلومیٹر کے فاصلے پر یہ طوفان کا رخ یمن کی جانب مُڑ جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بحیرہ عرب سائوتھ انڈیا کرناٹک میں ہوا کا کم دبائو موجود ہے جس سے ایک اور سمندری طوفان بن گیا ہے‘ اس سمندری طوفان کو ماہا کا نام دیا گیا ہے ‘ ماہا کا رخ بھی عمان کی جانب ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ 2 سمندری طوفانوں کی وجہ سے سمندر میں شدید طغیانی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 30 اکتوبر سے 2 اکتوبر تک کراچی میں ہلکی اور تیز بارش ہوسکتی ہے‘ اس دوران گرد آلود تیز ہوائیں بھی چلیں گی‘ جبکہ دوسرے سمندری طوفان کے باعث بارش ہوگی اس کے بارے میں اس طوفان کی نوعیت کے بعد معلوم ہوگا‘

 

شہر میں بارشوں اور سمندری طوفان کے باعث شہری اداروں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے‘ اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں جبکہ ساحل سمندر پر نہانے‘ تیراکی کرنے‘ مچھلی پکڑنے پر 5 نومبر تک دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے‘ سمندر میں طغیانی کے باعث گالف کلب کے 500 سے 600 میٹر تک سمندری پانی آگیا‘ گالف کلب کے 3 پولز‘ 7,6 اور 8 میں پانی آگیا‘ بڑے حصہ کی گھاس خراب ہوگئی ہے‘ جبکہ پارکنگ ایریا میں پانی آگیا‘ پوٹ کلب میں بھی سمندری پانی داخل ہوگیا ہے‘ فشریز سے موصولہ اطلاعات کے مطابق گہرے سمندر میں 15 روز کے لئے مچھلی کے شکار پر جانے والے ماہی گیروں کی 212 لانچیں اور 3 ہزار ماہی گیر سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں‘ ان میں سے 100 لانچیں ساحل پر واپس آرہی ہیں‘ جبکہ 112 لانچیں سمندر میں پھنس گئی ہیں۔ ڈیفنس فیز 8 سی ویو پر سمندر کی لہریں 4 سے 5 میٹر بلند تھیں اور سمندر کا پانی سی ویو فلیٹ‘ ڈیفنس اور کلفٹن کی سڑک پر آگیا تھاجس کی وجہ سے ڈیفنس‘ کلفٹن کے مکینوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا‘

 

ہاکس بے اور سینڈزپٹ پر بھی سمندری پانی سڑک پر آگیا جبکہ پاک ولیج‘ ٹرنل بیچ‘ یونس آباد‘ رحمن گوٹھ‘ بابا بھٹ‘ آئی لینڈ‘ منوڑہ‘ بھٹہ ولیج‘ جھنجار گوٹھ کی آبادیوں میں سمندری پانی داخل ہونے کے بعد ان علاقوں سے نقل مکانی شروع ہوگئی تھی‘ ابراہیم حیدری کی سرکاری بستی سے شیراز بنگالی بستی تک 17 بستیوں میں سمندری پانی داخل ہوگیا تھا‘ ساحل پر کھڑی کشتیوں میں بھی پانی بھر گیا تھا‘ ریڑھی گوٹھ کی 7 آبادیوں دبلہ محلہ‘ موہائی محلہ‘ ہاشوانی محلہ‘ شیخ محلہ‘ سید محلہ‘ پج ڈنو محلہ او لٹھ بستی میں پانی داخل ہونے سے ایک ہزار گھر خالی کروالئے گئے۔ آج صبح ایدھی ویلفیئر کی جانب سے ساحلی آبادیوں میں کھانے کا سامان اور چھوٹے بچوں کے لئے دودھ اور ضروری اشیاء تقسیم کی گئیں اور گڈانی ساحل کے قریب گوٹھ عبداللہ ڈگارزی گوٹھ کا زمینی راستہ گڈانی سے منقطع ہوگیا تھا جبکہ بلوچستان کی ساحلی آبادیوں میں بھی بارش کا پانی داخل ہوگیا تھا۔

(451 بار دیکھا گیا)

تبصرے