Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 19 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

موہن جودڑو سے بھی قدیم ۔۔۔مہرگڑھ بلوچستان کی تہذیب

تحریر: مختار احمد بدھ 09 اکتوبر 2019
موہن جودڑو سے بھی قدیم ۔۔۔مہرگڑھ بلوچستان کی تہذیب

دنیا بھر میں جہاں تک قدیم تہذیبوں کی تلاش کا تعلق ہے تو وہ کل کی طرح آج بھی جا ری ہے اور ماہرین آثار قدیمہ انتہا ئی محنت و جافشانی کے ساتھ آہستگی سے زمینوں کی کھدائی کرتے ہو ئے ان قدیم تہذیبوں کو تلاش کر رہے ہیں اور ان کی اسی تلاش کے نتیجے میں پاکستان جو کہ قدیم تہذیبوں کے حوالے سے ایک ذرخیز زمین کی حیثیت رکھتا ہے میں قیام پاکستان سے قبل ماہر آثار قدیمہ سر جان مارشل نے سندھ میں موہن جودڑو اور ہڑپہ کی 5000سال پرانی تہذیب سے دنیا کو آشکار کیا

فرانسیسی ماہرین آثار قدیمہ نے بلوچستان کے ضلع کچھی ڈاڈر میں نواب اسلم رئیسانی کے علاقے سے 1974سے1986تک کی جا نے والی کھدائی کے دوران 7000سال قبل مسیح اور 9000سال پرا نی قدیم مہر گڑھ کی تہذیب دریافت کی جس کا سہر افرانسیسی ماہر ڈاکٹر ژاپال کے سر جاتا ہے جنہوں نے پاکستانی ماہرین آثار قدیمہ کے ساتھ مل کر اس قدیم تہذیب کو تلاش کیا اور اس سے ملنے والے قدیم اور قیمتی نوادرات کو شہر کراچی میں کھدائی برانچ اور قومی عجا ئب گھر کراچی میں رکھا گیا

جسے چند ماہ قبل قومی عجا ئب گھر سے 3سے4ٹرکس جن کے نمبر JL1273,JR1279میں انتہا ئی بے دردی کے ساتھ لکڑی اور لوہے کی پیٹیوں میں بھر کربغیر کسی سیکورٹی کے بلوچستان روانہ کردیاگیاکیا تو مجھے مہر گڑھ کی قدیم اور عظیم تاریخ ،تہذیب وتمدن کی یاد آئی اب اگر اس قدیم تہذیب کی بات کی جا ئے تو مہر گڑھ نے سات ہزار سال قبل جنم لیا بلوچستانی شہرسبی سے ساحل مکران کی طرف 130 کلومیٹر دور کچھی کا میدان شروع ہو جاتا ہے یہ میدان تقریباً دس ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے اس علاقے میں ایک آبادی کہ بنیاد رکھی جو آج ”مہر گڑھ“کہلاتی ہے

یہ نام قریب ہی واقع ایک دیہات سے ماخوذ ہے جو آج بھی آباد ہے ا س دیہات میں دراصل چیف آف ساراون،نواب غوث بخش رئیسانی مرحوم کی رہائش گاہ واقع تھی1968ءمیں انہوں نے ماہرین اثریات کو خبر دی کہ مہر گڑھ کے قریب ہی ایک ٹیلہ واقع ہے جہاں سے اکثر قدیم اشیا ملتی ہیں اس انکشاف پہ ماہرین نے جب ٹیلے کی کھدائی کی،تو ایک قدیم شہر کے کھنڈر دریافت ہو گئے 7000قبل مسیح اور9000 سال قبل آبادی بڑھنے اور شکار کم ہونے کی وجہ سے ایک مقامی قبیلہ مستقل طور پہ دریائے بولان کے کنارے واقع مہر گڑھ میں آباد ہو گیا

ٹرمپ مودی کا مذاق اڑاتے ہیں؟ بھارتی میڈیا کوسمجھ آگئی

رفتہ رفتہ وہ وہاں کھیت لگا کر اناج اگانے اور مویشی پالنے لگا تاکہ پیٹ کی آگ بجھا سکے یوں وہ قبیلہ ان اولیّں انسانی گروہوں میں سے ایک بن گیا جنھوں نے کرہ ارض پہ اول اول کھیتی باڑی کرنے اور جانور پالنے کا آغاز کیابنی نوع انسان کی تاریخ کا یہ انقلابی عمل علم اثریات میں ”نیولیتھک انقلاب“ کے نام سے مشہور ہوا۔ کم از کم براعظم ایشیا میں اس بین الاقوامی انقلاب کا مولد و مرکز مہر گڑھ ہی تھا شروع میں بستی چند ایکڑوں پہ محیط تھی رفتہ رفتہ دیگر خانہ بدوش قبائل بھی وہاں آباد ہوئے،تو بستی کا رقبہ پھیلنے لگاماہرین آثار قدیمہ کی رو سے 7000 سال قبل مسیح پہلے مہرگڑھ میں دس تا بیس ہزار کے مابین انسان آباد تھےیہ اس زمانے کے لحاظ سے بہت بڑی تعداد ہے کیونکہ تب پورے برصغیر میں انسانی آبادی صرف دو لاکھ تھی۔

اسی لیے مہر گڑھ کا شمار دنیا کے اولیّں شہروں میں ہوتا ہے دیگر قدیم ترین شہروں میں قتلہیوک (ترکی)،عین غزال (اردن) اور اورک(عراق) نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔مہر گڑھ کے آثار 1974ءمیں فرانسیسی اور پاکستانی ماہرین ِاثریات نے دریافت کیے تب سے علاقے میں وقتاً فوقتاً کھدائی جاری ہے تاکہ شہر کے تاریخی حقائق دریافت ہو سکیں۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق مہر گڑھ کا علاقہ 500ایکڑ رقبے پہ پھیلا ہوا تھا وہاں قدیم انسانوں نے اوپر تلے سات بستیاں بسائیں۔ تاہم وہ سبھی معاشرتی، تہذیبی، ثقافتی اور تکنیکی اعتبار پہ ایک دوسرے سے تعلق رکھتی تھیں۔

مہر گڑھ کے رہائشی مٹی سے بنے مکانوں میں رہتے،گندم اور جو اگاتے،اناج زیرزمین بنے گوداموں میں ذخیرہ کرتے اور تانبے سے اوزار بناتے تھے انھوں نے ہی گائے بھینسیں اور بھیڑ بکریاں پالنا شروع کیں جوں جوں شہر میں علوم و فنون کو ترقی ملی، مہر گڑھی رنگ سازی کرنے اور دیگر دھاتوں سے بھی ترقی یافتہ آلات و اوزار بنانے لگے یوں برصغیر میں خصوصاً یہ شہر جدت، تخلیق و ایجاد کا مرکز بن گیا 8000 سال پہلے علاقے میں کپاس بھی کاشت کی جانے لگی۔ نقش و نگار والے برتن بننے لگے۔ چونکہ شہر درہ بولان جیسی اہم گذرگاہ پہ واقع تھا،سو وہاں افغانستان،ایران اور چین سے آنے جانے والے قافلے بھی قیام کرنے لگے عین ممکن ہے کہ اسی میل ملاپ سے مہر گڑھ کثیر الاقومی (ملٹی نیشنل)باشندوں کا نگر بن گیاآثارقدیمہ سے عیاں ہے کہ ساڑھے چار ہزار برس قبل اچانک مہر گڑھ ویران ہو گیا۔

وہاں آباد سبھی لوگ ٹولیوں کی صورت دوسری بستیوں کی سمت ہجرت کر گئے1974ءمیں ماہرین ثبوت نہ ہونے کے باعث وہ وجوہ تلاش نہیں کر سکے جن کی بنا پر ہجرت انجام پائی یہ عقدہ اکیس سال بعد حل ہوا۔ 1995ءمیں ہند شناسی کے عالمی شہرت یافتہ ماہرین…جارج فیورسٹین، سبھاش کاک اور ڈیوڈ فرولے نے ایک تحقیقی کتاب ”گہوارہ ِتہذیب کی تلاش میں،قدیم ہندوستان پہ نئی نظر“شائع کی اس میں ماہرین نے افشا کیا کہ مہر گڑھ کے باشندوں ہی نے دور جدید کے پاکستانی صوبوں، پنجاب اور سندھ پہنچ کر ہڑپہ تہذیب کی بنیاد رکھی یہ وادی سندھ کی تہذیب بھی کہلاتی ہے انھوں نے ان صوبوں میں مختلف چھوٹی بڑی بستیاں بسائیں جو موجودہ بھارتی ریاست،گجرات تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ان بستیوں میں ہڑپہ، موہنجوداڑو، گنویری والا،راکھی گڑھی اور ڈھولاویر نمایاں ہیں۔

بیشتر بستیاں سندھ یا ہاکڑا (گھاگرا) دریائوں کے کنارے آباد ہوئیں مہر گڑھیے چونکہ ہزا رہا سال کے عرصے میں بستی بنانے کا پیچیدہ میکنزم سیکھ چکے تھے، سو انھیں نئی آبادیاں بسانے میں مشکلات پیش نہیں آئیں۔ اس سلسلے میں انھیں مقامی باشندوں کا تعاون بھی یقیناً حاصل ہوا ہو گا۔ تاہم ماہرین اب تک یہ نہیں جان سکے کہ مہرگڑھیوں نے اپنا آبائی علاقہ کیوں چھوڑ دیا ایک بڑی وجہ دریائے بولان میں سیلاب آنا ہو سکتی ہے جب سیلاب آتا،تو ان کے کھیت،گودام اور گھر بار تباہ ہو جاتے۔ سوانھیں سب کچھ ازسرنو تعمیر کرنا پڑتا۔ ہر سال نازل ہونے والی اسی قدرتی آفت سے بچنے کے لیے مہر گڑھی رفتہ رفتہ میدانی علاقوں کی طرف چلے گئے’گہوارہ ِتہذیب کی تلاش میں“کتاب کے محققوں نے ایک اور دلچسپ انکشاف کیا۔

1500 سال قدیم مندر،ماہرین آثار قدیمہ کی دوڑیں

ان کا کہنا ہے کہ ہڑپہ تہذیب جب عروج پا گئی،تو مہر گڑھیوں ہی نے ”ویدک دور“ کا آغاز کیا اسی دور میں ہندومت کی قدیم ترین مذہبی کتابیں تخلیق ہوئیں ان میں وید(رگ وید،اتھرا ویدوغیرہ)،اپنشد اور شرسترا ہندوئوں کے نزدیک بہت اہم سمجھی جاتی ہیں۔ ان محققین کا کہنا ہے کہ وسطی ایشیا یا ایران سے آریائوں کی آمد محض فسانہ ہے سچ یہ ہے کہ ہندومت ان قدیم روایات اور رسوم و رواج کا مجموعہ ہے جنھوں نے ہزاروں برس کے عرصے میں مہر گڑھ،کوٹ ڈیجی،ہڑپہ، موہن جودڑو وغیرہ میں جنم لیاگویا مہر گڑھ ہندومت کا مولد و مرکز قرار پاتا ہے کیونکہ زمانہ قدیم میں یہی ہندوستان کا سب سے بڑا شہر اور تہذیب و ثقافت کامرکز تھا قدیم و جدید روایات کا تقابل بھی یہی سچائی سامنے لاتا ہے۔ مثال کے طور پہ مہرگڑھ میں گائے یا بیل کو بڑی مقدس حیثیت حاصل تھی کیونکہ مہر گڑھ اسی حیوان کی مدد سے اناج اگاتے اور یوں شکم پروری کا سامان پیدا کرتے تھے۔

اور ہندومت میں آج بھی گائے کو مقدس ترین جانور سمجھا جاتا ہے سنسکرت زبان میں گائے ”گﺅ“کہلاتی ہے اِس لفظ کی اہمیت کا اندازہ یوں لگائیے کہ اُس کے بطن سے سیکڑوں الفاظ نے جنم لیا۔ مثلاً ستارے اور دھوپ کوگﺅ کہا گیا اور زمین بھی اسی نام سے جانی گئی ویدک دور کے مذہبی رہنمائوں کی ہیجان انگیز تقریر بھی گﺅ کہلائی’،’گﺅ پال“سے مراد ہے شریف کسان یا زمین پہ حکمرانی کرنے والا شہنشاہ! غرض آٹھ نو ہزار سال قبل کچھی کے وسیع میدان میں قدیم مقامی قبائل نے جن بستیوں کی بنیاد رکھی اور جن کا مجموعہ کہلاتا ہے لیکن صد افسوس کے ابھی تحقیقی عمل کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ اچا نک رئیسانی قبائل اور رندوں کے درمیان ایک جنگ سی چھڑ گئی جس کی بنیاد پر تحقیقی عمل کو روک دیا گیا اس حوالے سے ایک ماہر آثار قدیمہ قاسم علی قاسم جو کہ محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹرجنرل بھی رہے ہیں سے جب رابطہ ہوا تو انہوں نے بتا یا کہ مہر گڑھ کی قدیم تہذیب موہن جودڑو سے بھی قدیم ہے اور کیو نکہ یہ موہن جودڑو کے بعد میں در یا فت ہوا لہذا اب تک یو نیسکو کے عالمی ورثے کی عبوری فہرست میں شامل ہے مگر جلد ہی قدامت کے اعتبار سے اسے عالمی ٹائٹل ملنے کے روشن امکا نات ہیں

انہوں نے کہا کہ مہر گڑھ ایک ایسی قدیم تہذیب ہے جب وہاں کے لوگوں نے خا نہ بدوشی کی زندگی ترک کر کے مٹی کے گاروں سے مکا نات اور گاﺅں بنا کر رہنا شروع کیا جبکہ انہوں نے جانوروں کو سدھا کرکاشتکاری شروع کی اور گندماور جوار اگائے یہ واحد قدیم تہذیب ہے جہاں سب سے پہلے ناصرف مٹی کے بر تنوں کے بنا نے کا آغاز ہوا بلکہ اسے آگ سے پکا نے اور قدرتی رنگوں سے مینا کاری کر نے کا فن بھی اسی علاقے سے ایجاد ہوا انہوں نے کہا کہ یہاں کے قدیم باشندوں نے تارکول اور پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے فصل کاٹنے کے لئے درانتی بنا ئی جو کہ آج بھی قومی عجا ئب گھر کراچی میں محفوظ ہے لہذا اگر اس قدیم تہذیب کو فلسطین اور ترکی سے ملنے والی قدیم تہذیبوں جو کہ کاشتکاری اور مکا نات بنا کر رہتے تھے کے ہم پلہ قرار دیا جا ئے تو یہ قطعی طور پر بے جا نہ ہو گا ان کا کہنا یہ بھی تھا کہ زمین کے بٹوا رے کا سلسلہ یا اونر شپ کا سلسلہ بھی اسی قدیم تہذیب کی ایجاد ہے اس لئے اسے پاکستان سے ہو نے والی در یافتوں میں سب سے مہذب ،قدیم تہذیب کا در جہ دیا جا سکتا ہے ۔

(181 بار دیکھا گیا)

تبصرے