Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 09 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

لوک سبھا کی مسلم رکن کی درگا پوجا میں شرکت

قومی نیوز منگل 08 اکتوبر 2019
لوک سبھا کی مسلم رکن کی درگا پوجا میں شرکت

کراچی (نیوز ڈیسک) بھارت میں آ ل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) پارٹی سے تعلق رکھنے والی ایوانِ زیریں (لوک سبھا) کی مسلم خاتون رکن نصرت جہان نے درگا پوجا کرنے پر ایک عالم دین مفتی اسد قاسمی کی تنقید کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، مسلم عالم دین نے ہندو مذہب کی پوجا کی تقریب میں شرکت پر نصرت جہان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اداکاری چھوڑ کر سیاست دان بننے والی خاتون رکن کو اپنا نام اور مذہب تبدیل کرکے ہندو بن جانا چاہئے کیونکہ وہ اپنے اقدامات کی وجہ سے مسلمانوں اور اسلام کا نام بدنام کر رہی ہیں۔

بشریٰ بی بی جیسی بننا چاہتی ہوں، وینا ملک

اس کے جواب میں نصرت جہان کا کہنا تھا کہ عالم دین کو کوئی حق نہیں کہ وہ نام تبدیل کرنے کے مشورے دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مذہب کا نہیں بلکہ جشن منانے کا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرا نام عالم دین نے نہیں رکھا اسلئے انہیں کوئی حق نہیں کہ وہ مجھے اس کی تبدیلی کا مشورہ دیں۔ صرت جہان نے معاملے کو سیاسی رنگ دینے والے علماءپر بھی تنقید کی اور کہا کہ درگا پوجا میں جشن منانے کا وقت ہے نہ کہ سیاست کرنے کا۔

یاد رہے کہ نصرت جہان ریاست مغربی بنگال کے علاقے بشیرہٹ سے پہلی مرتبہ منتخب ہونے والی خاتون رکن ہیں۔ مانگ میں سندور لگانے، منگل سوتر پہننے اور پوجا پاٹھ میں شرکت کرنے پر مسلم علماءان پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

وندے ماترم کہنے پر ان کیخلاف فتویٰ بھی جاری کیا گیا تھا۔ انہوں نے ہندو تاجر نکھل جین سے شادی کی تھی۔ اتوار کو نصرت جہان نے اپنے شوہر کے ہمراہ سورچی سنگھا میں درگا پوجا میں شرکت کی۔

انڈیا اورپاکستان کی سوشل میڈیا پرلڑائی

ٹی وی چینلوں پر دکھائی جانے والی تقریب میں نصرت جہان کو پوجا کے دوران شلوک کہتے اور رقص کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ انہوں نے تقریب کے دوران ڈھول بھی بجایا۔

شیعہ وقف بورڈ کے سربراہ وسیم رضوی کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی اس بات کا حق نہیں کہ وہ دوسرے کو اسلام سے خارج کرنے کا فتویٰ دے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کوئی شخص خود اسلام کے بنیادی ارکان کو ماننے سے انکار کردے تو وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے نہ کہ کسی اور کے کہنے یا کرنے سے۔

(1637 بار دیکھا گیا)

تبصرے