Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 19 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

تاریخ پہ تاریخ، بھارتی سپریم کورٹ اور مو دی کا گٹھ جوڑ؟

قومی نیوز هفته 05 اکتوبر 2019
تاریخ پہ تاریخ، بھارتی سپریم کورٹ اور مو دی کا گٹھ جوڑ؟

کراچی ( قومی اخبارنیوز ) دی اکانومسٹ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت کے جج کشمیر میں حکومتی زیادتیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ اگر انہوں نے فیصلوں کو غیر معمولی تاخیر سے دوچار رکھا تو پھر کسی بھی پیچیدہ یا متنازع معاملے پر رولنگ دینے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے۔

یہ سوال کس کے لیے پریشان کن ہیں؟ وادی کشمیر کے 70 لاکھ افراد یقینی طور پر شدید مضطرب ہیں۔ 5اگست سے وادی کشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی عملاً محاصرے میں ہے ، پانچ لاکھ بھارتی فوجیوں اور چند سو مسلح عسکریت پسندوں کے درمیان پس کر رہ گئی ہے۔

سپریم کورٹ کے لیے ، بہر حال، یہ سب کچھ کسی بھی اعتبار سے پریشان کن نہیں۔ اگست کے آخر میں سپریم کورٹ نے نریندر مودی کے اقدام کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے کے حوالے سے چند درخواستوں پر غور کیا تو حکومت کو جواب دینے کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا۔

یکم اکتوبر کو جب سپریم کورٹ کے جج اس حوالے سے پھر مل بیٹھے تو کوئی جواب پیش کرنے میں ناکامی پر حکومت کے وکلاءکو معمولی سی بھی سرزنش نہیں کی۔ اس کے بجائے انہوں نے خاصی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کو مزید وقت دے دیا۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ کی آئندہ سماعت نومبر کے وسط میں ہے۔

مودی لاک ڈاﺅن ختم کرکے دیکھ لے، ایمنسٹی

قانونی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ چند برسوں کے دوران اس حوالے سے سپریم کورٹ کا ریکارڈ زیادہ متاثر کن نہیں رہا۔ قانونی امور کے حوالے سے لکھنے والے وکیل گوتم بھاٹیہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں حکومت کی طرف جس طرح کا جھکاو¿ دکھایا ہے اسے آئین سے چشم پوشی کا نظریہ ہی کہا جائے گا۔

مودی سرکار کے خلاف رولنگ دینے کے بجائے سپریم کورٹ نے معاملات کو متعدد بار غیر معمولی تعطل کا شکار رکھا ہے تاکہ وہ حکومت کے حق میں چلے جائیں۔ گزشتہ اپریل میں سپریم کورٹ نے انتخابات کے دوران ایک ایسے کیس کی سماعت سے صاف انکار کردیا جس میں سیاسی جماعتوں کو گمنام و مشتبہ طریقے سے لامحدود عطیات دینے کے لیے مودی سرکار کی طرف سے متعارف کرائے جانے والے الیکٹورل بونڈز کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے یہ عذر تراشا کہ انتخابی نتائج سے قبل سماعت کے لیے وقت بالکل نہیں بچا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کیس ایک سال سے سپریم کورٹ کی فہرست میں موجود تھا۔ قومی سطح کی بایو میٹرک شناختی اسکیم سے متعلق ”آدھار“ کیس میں سپریم کورٹ نے یہ کہنے کے لیے پانچ سال کا انتظار کیا کہ اسے محدود کیا جائے۔ اس دوران ایک ارب افراد کا اندراج ہوا۔

آرایس ایس نے گاندھی کو بھی نہ چھوڑا ، راکھ چوری کرلی

سپریم کورٹ کو یہ رولنگ دینے میں دو سال لگے کہ مودی سرکار نے دہلی کی مقامی سیاست میں مداخلت کرکے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ مگر خیر، بھارتی سپریم کورٹ ہمیشہ خواب خرگوش کے مزے نہیں لوٹتی رہی۔ کم از کم ایک کیس میں (جس نے بنیادی حقوق کے حوالے سے سنجیدہ سوال اٹھائے ) سپریم کورٹ کے جج حکومت سے زیادہ جارحانہ موڈ میں دکھائی دیئے۔

یہ سپریم کورٹ ہی تھی جس نے آسام کی حکومت کو حکم دیا کہ وہ رجسٹر آف اسٹیزنز کو اپ ڈیٹ کرے۔ اس رولنگ سے ریاست کے 3 کروڑ 30 لاکھ باشندوں کو، جن کی اکثریت غریب اور ناخواندہ ہے ، مجبور کیا کہ اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے عشروں پر محیط دستاویز کو تیار حالت میں رکھیں۔

کم و بیش 19لاکھ افراد (جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے ) درست کاغذات پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ ان کے حوالے سے کچھ سوچنے کے بجائے ریاستی حکومت حراستی مراکز قائم کرنے میں مصروف ہے۔

زرداری کوکوڈ ورڈ میں بڑ ے صاحب کہا جاتا تھا

مودی سرکار یہ جال اب پورے ملک میں پھیلانا چاہتی ہے۔ گوتم بھاٹیہ لکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ ریاست کے تین بنیادی ستونوں میں سے ہے مگر اس کے بجائے اب یہ منتظمہ (حکومت) کا حصہ دکھائی دے رہی ہے۔ بنیادی حقوق کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے منتظمہ کی کارکردگی کا جائزہ لے کر خامیوں کی نشاندہی کرنے کے بجائے یہ اس کی سہولت کار سی ہوتی جارہی ہے۔

سپریم کو جن درخواستوں کی سماعت کرنی ہے ان میں سے ایک میں جموں و کشمیر کے گورنر کو قانون ساز اتھارٹی کی حیثیت سے کام کرنے کا اختیار دینے میں نریندر مودی کا ہاتھ ہونے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ گورنر کے دفتر کو قانون ساز ادارے کی حیثیت سے کام پر لگانے کا مقصد جموں و کشمیر کو مرکز کے براہ راست تصرف میں آنے والے علاقے کی حیثیت دینا تھا جیسا کہ قانونی تقاضا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں انتخابات ہونے تھے۔ مرکزی حکومت نے عارضی صورت یا بندوبست کو پورے علاقے (جموں و کشمیر) کی بنیادی، مستقل اور غیر تبدیل پذیر حیثیت تبدیل کرنے لیے استعمال کیا اور اس حوالے سے کشمیریوں سے انکی رائے جاننے یا مرضی معلوم کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی۔ اس نوعیت کے کرتب عدالتوں سے ملی بھگت کے ذریعے ہی دکھائے جاسکتے ہیں۔

(1251 بار دیکھا گیا)

تبصرے