Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 11 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

قائد اعظم کا ڈرائیور ۔۔اداکاری کے شوق سے گمنامی کی موت !!

تحریر: مختار احمد هفته 28  ستمبر 2019
قائد اعظم کا ڈرائیور ۔۔اداکاری کے شوق سے گمنامی کی موت !!

یہ بات ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جو قومیں اپنے محسنوں کو فرا موش کر دیتی ہیں وہ کبھی ترقی نہیں کرتیں اور نہ ہی تاریخ انہیں معاف کر تا ہے یوں تو ہم سب تعمیر وطن کے لئے جدوجہد میں شامل اور لازوال قربانیاں پیش کر نے والوں کو یکسر بھول چکے ہیں جس کی بنیاد پر آج وطن کے وہ سپاہی نامعلوم ہو کر نامعلوم قبرستانوں میں دفن ہیں مگر ان نا معلوم سپاہیوں میں کچھ ایسے سپاہی بھی ہیں جوکہ اپنے کارناموں اور جدو جہد کی بنیاد پر تاریخ کے اوراق کا حصہ ہیں اور ان میں ماضی میں بھارتی فلموں کے معروف اداکار محمد حنیف آزاد بھی شامل ہیں جنہوں نے ناصرف قیام پاکستان کی جدو جہد میں نمایاں حصہ لیا بلکہ فلموں میں اداکاری کے ساتھ ساتھ لگ بھگ 7سال تک قائد اعظم کے ڈرائیور اور باڈی گارڈ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔

جہاں تک محمد حنیف آزاد کے فلموں میں اداکاری کے بعد قائد اعظم کے ڈرائیور اور باڈی گارڈ بننے کا تعلق ہے تو اس حوالے سے افسانہ نگار سعاد ت حسین منٹو نے میرا صاحب کے نام سے افسانہ قلم بند کیا جس میں انہوں نے قائد اعظم اور ان کے حوالے سے دلچسپ داستانیں رقم کی ہیں لیکن اس حوالے سے ان کے قریبی جاننے والوں کا کہنا یہ ہے کہ انہوں نے برصغیر پاک و ہند میں بننے والی 150سے زائد اردو فلموں میں بڑے بڑے فنکاروں جن میں ملکہ ترنم ،نور جہاں ،شمیم آراءو دیگر نامور فنکاروں کے ساتھ کام کیا جن میں آگ کا دریا ،زندگی ایک سفر ،قاتل ،فانوس ،ان داتا ،دوپٹہ سمیت لاتعداد فلموںمیں کریکٹر رول ادا کیا ۔

یہ بھی پڑھیں : برطانوی افواج کا تعمیر کردہ بروکس چرچ

کیو نکہ وہ سیلا نی طبیعت کے ما لک تھے لہذا ان کا فلم انڈسٹری میں زیادہ دیر دل نہیں لگا اس وقت با نی پاکستان جو کہ بھارت کے شہر مالا بار میں رہتے تھے انہوں نے گھریلو ملازمین کے حوالے سے ایک اخبار میں اشتہار شائع کروایا جسے پڑھ کر محمد حنیف آزاد اپنے آپ پر قابو نہیں پا سکے اور مالا بار پہنچ گئے کیونکہ ملازمین کے انتخاب کے لئے با نی پاکستان خود انٹر ویو کر رہے تھے انہوں نے اپنی باری آنے پر انٹر ویو دیا اور قائد اعظم نے ان کی جرات مندی اور بے پناہ صلاحیت کودیکھتے ہو ئے بطور ڈرائیور بھرتی بھی کر لیا جس کے تحت انہوں نے ان دنوں مزار قائد پر نمائشی طور پر شوکیس میں بند پیکارڈ کار میں ڈرائیونگ شروع کی اور قائد اعظم محمد علی جناح کے شا نہ بشا نہ جدو جہد پاکستان میں داخل ہو گئے۔

انہیں جب اس بات کا علم ہوا کہ قائد اعظم مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن بنا نا چاہتے ہیں تو وہ نا صرف ان کے گر ویدہ ہو گئے بلکہ آزاد وطن کے حصول کے لئے خود بھی جدو جہد میں شریک ہو گئے کیو نکہ ان دنوں قائد کی جان کو بے پناہ خطرات لاحق تھے لہذا وہ ڈرائیور کے ساتھ ساتھ ان کے باڈی گارڈ بھی بن گئے اور کئی بار ان کی جان بچائی ان کے قائد کی ڈرائیوری اور باڈی گارڈ کا سفر 1931سے لے کر 1937تک جا ری رہا ان کی پہلی شادی خود قائداعظم محمد علی جناح نے کرا ئی تھی لیکن ان کا دل ایک بار پھر فلموں میں کام کے لئے مچلنے لگا لہذا وہ قائد کو چھوڑ کر دوبارہ سے فلم انڈسٹری کا حصہ بن گئے مگر اس دوران انہوں نے وطن کی آزادی کا سفر نہ چھوڑ ا اور اکابرین تحریک پاکستان کے شانہ بشانہ جدو جہد میں مصروف عمل ہو گئے۔


جب پاکستان دنیا کے نقشے پر وجود میں آگیا تو وہ بھی اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے ہمراہ پاکستا ن آگئے اور گمنا می کی زندگی گزارنے لگے اس دوران ملک کے کئی حکمرانوں سیاستدانوں جن میں شیخ مجیب الر حمن ،مولانا بھاشانی ،گورنر پنجاب و دیگر سے بذریعہ خط ان کا رابطہ رہا اور پھر ملک کے اندر جب جنرل محمد ضیا الحق نے مارشل لاءنافذ کیا تو انہوں نے بھی ان کے بھیجے گئے خطوط پر نا صرف ان کی خدمات کا اعتراف کیا بلکہ انہیں صدارتی ایوارڈ دینے کے ساتھ ساتھ مکان اور ملازمت دینے کا وعدہ کیا مگر ان کا و دیگر حکمرانوں ،سیاستدانوں کا یہ وعدہ صرف زبانی جمع خرچ کے طور پر رہا اور اسے اب تک عملی جا مہ نہیں پہنا یا جا سکا جس کے باعث قائد اعظم کا یہ سپاہی اچا نک سے گمنا می کے اندھیروں میں گم ہو گیا۔

کیو نکہ اس کے اندر حب الوطنی اور قائد اعظم سے محبت کا جذبہ معجزن تھا لہذا اس نے اپنے بجا ئے قائد کے لئے جینا شروع کر دیا اور سب سے پہلے قائد اعظم کی وہ کار جو کہ ماہوٹا پیلس میں کھلے آسمان تلے کھڑی ہو کر گل سڑ رہی تھی کو صفحہ ہستی سے مٹنے سے بچا نے کے لئے بذریعہ خط نیشنل موٹرز آف پاکستان سے نا صرف را بطہ کیا بلکہ قائد کی تباہ حالی کی تصویریں بھی روانہ کیں اور نیشنل موٹرز جہاں اس وقت پی آر او ٹی وی کے معروف اداکار سبحانی بھا ئی یونس ہو تے تھے انہوں نے فوری طور پر ان کے اس درخواست کا نوٹس لیتے ہو ئے وہ پیکارڈ کا رجو کہ مکمل طور پر بر بادی کا شکار تھی کو از سرنو بنا کران کے توسط سے مزار قائد کے حوالے کر دیا جہاں اس وقت بھی یہ کار شوکیس میں بند ہو کر لوگوں کو دعوت نظارہ دینے کے ساتھ ساتھ قائد کے لائف اسٹائل کوبیان کر تی نظر آ رہی ہے مگر اس حوالے سے مزار مینجمنٹ بورڈ بھی اس بات سے لا علم ہے کہ مزار قائد کے اندر کھڑی ہو نے والی یہ کار کس کے مرحون منت ہے لہذا انہوں نے اس کار کے شو کیس پر نہ تو محمد حنیف آزاد کی کو ئی تصویر لگا ئی ہے اور نہ ہی یہ درج ہے کہ قائد کی یہ کار با لاآخر کون چلا تا تھا

مزار مینجمنٹ بورڈ کے سیکریٹری محمد عارف سے جب ٹیلیفو نک را بطہ کیا گیا تو وہ بھی اس بات سے بے خبر نکلے جس پر بلا گر نے انتہا ئی بے صبری کے ساتھ محمد حنیف آزاد کے خاندان کی تلاش شروع کر دی اور با وجود اس کے کہ ان کی 2بیویوں سے ان کے گھر 16بچے ہیں کے بیرو ملک ہو نے کے سبب کسی سے بھی ملا قات ممکن نہ ہو سکی لیکن پھر اچا نک دوسری بیوی سے ان کے صاحبزادے محمد حفیظ آزاد سے ملا قات ہو گئی اور مگر چونکہ وہ بھی حکومتی زیادتیوں پر کچھ خفا سے تھے انہوں نے بات چیت کر نے میں ٹال مٹول سے کام لیا مگر بے حد اصرار پروہ ملیر ماڈل ٹاﺅن کے قبرستان لے گئے جہاں ان کے والد محمد حنیف آزاداور ان کے دونوں پہلوﺅں میں ان کی بیویوں کی قبریں موجود تھیں جن میں حنیف آزاد کی قبر پر لگے کتبے پران کے نام کے ساتھ قائد کا ڈرائیور اور تاریخ وفات 1986 تھی درج تھی

قبر دکھا نے کے بعد انہوں نے بات چیت کر تے ہو ئے کہا کہ ان کے والد نا صرف بر صغیر پاک و ہندفلم انڈسٹری کے بڑے اداکار تھے بلکہ قائد اعظم سے بے پناہ لگاﺅ اور محبت رکھتے تھے اور ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ جس طرح قائد اعظم محمد علی جناح نے 11ستمبر1948کو وفات پا ئی ٹھیک اسی طرح ان کے والد کا انتقال بھی 11ستمبر کو ہی ہوا جو کہ قائد سے محبت کا زندہ ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ میرے والد نے 2نہیں بلکہ 3شادیاں کی تھیں جن میں سے ایک شادی انہوں نے پاکستانی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ زیبا شاہین جو کہ بعد میں اداکا رمحمد علی کی بیوی بنیں سے بھی کی تھی اور اس شادی کا نکاح نا مہ آج بھی بطور ثبوت ہمارے پاس موجود ہے

انہوں نے کہا کہ محمد حنیف آزاد نے اپنی زندگی ملک پاکستان اور قائد اعظم محمد علی جناح کے لئے وقف کر رکھی تھی جس کا حکمرانوں نے اعتراف بھی کیا اور صدارتی ایوارڈ ،مکان ،ملازمت کے اعلا نات بھی کئے مگر آج تک حکمرانوں کی جا نب سے کئے جا نے والا وعدہ وفا نہ ہو سکاانہوں نے کہا کہ ہمیں آج بھی اپنے والد کی خدمات کے اعتراف میں کچھ بھی نہیں چاہئے لیکن حنیف آزاد کا پورا خاندان اس بات کا خواہش مند ہے کہ ان کی جدو جہد کے اعتراف میں ان سڑکوں جو کہ آج بھی انگریزوں کے نام سے منسوب ہیں کو ان کے نام سے موسوم کیا جا ئے اور مزار قائد پر کھڑی وہ سفید رنگ کی پیکارڈ جو کہ انہیں اپنے تعلقات اور جدوجہد سے مرمت کرائی تھی اس کے شوکیس پر بطور ڈرائیور ان کا نام اور تصویر لگا ئی جا ئے تا کہ آنے والی نسلوں کو قائد اعظم کے ساتھ ساتھ ان کی ملازمت جوکہ ایک قابل فخر بات تھی کے بارے میں بھی آگا ہی حاصل ہو سکے ۔

(436 بار دیکھا گیا)

تبصرے