Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 09 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

محکمہ اینٹی کرپشن بھی نیب کے” نشانے “ پر

قومی نیوز جمعه 13  ستمبر 2019
محکمہ اینٹی کرپشن بھی نیب کے” نشانے “ پر

کراچی (قومی اخبارنیوز) قومی احتساب بیورو (نیب) نے سندھ حکومت کے خلاف تحقیقات میں رکاوٹ بننے پر محکمہ اینٹی کرپشن کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں

نیب نے سیاسی بنیاد پر بھرتی کیے گئے سب انسپکٹر زکی تفصیلات طلب کر لیں۔ ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سندھ حکومت کے خلاف تحقیقات تیز ہونے اور مختلف اداروں میں کارروائیوں کے دوران سندھ میں محکمہ اینٹی کرپشن بھی فعال ہو گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی احتساب بیورو(نیب) کراچی نے محکمہ اینٹی کرپشن میں 12 -2011 ءمیں سیاسی بنیاد پر بھرتی ہونے والے 18 سب انسپکٹرز کے ریکارڈ کے ساتھ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے افسران کو طلب کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :

کراچی کو بچاﺅ،اسلام آباد یا راولپنڈی کو آگے آنا ہوگا، وسیم اختر

کراچی، روشنیوں سے غلاظت کے ڈھیرتک۔۔!!

کرنٹ لگنے کی ذمہ دار کے الیکٹرک ہے

محکمہ اینٹی کرپشن میں سب انسپکٹر سطح کے افسران کی تعیناتی سروس کمیشن کے تحت ہوتی ہے لیکن یہ بھرتیاں براہ راست کی گئیں جس میں قواعدوضوابط کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔

18افسران محکمہ اینٹی کرپشن کے مختلف حصوں میں تعینات رہے ہیں اور ان افسران کی مدد سے سندھ حکومت کے خلاف جب بھی وفاقی اداروں یا نیب کی جانب سے تحقیقات کی رفتار تیز ہوتی ہے توکے ڈی اے ،ایس بی سی اے ،فنانس ڈیپارٹمنٹ ،محکمہ صحت ،واٹر بورڈ اور محکمہ بلدیات کے دیگر شعبوں کا ریکارڈ پہلے ہی ضبط کرلیا جاتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مختلف محکموں میں تعینات کرپٹ افسرا ن نے تحقیقات کی بھنک پڑنے کے بعد محکمہ اینٹی کرپشن کے راشی افسران کو استعمال کر کے مصنوعی کارروائیوں اورچھاپوں کے ذریعے خود کو بچانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے

اس کام کے لیے محکمہ اینٹی کرپشن کے انسپکٹروں اور مخبروں کو لاکھوں روپے دئیے جاتے ہیں تاکہ مذکورہ انکوائریوں کو صرف مصنوعی اور دکھاوے کی تحقیقات تک ہی محدود رکھا جاسکے ،ان پر نہ تو مقدمات قائم ہوں اور نہ ہی ان میں باقاعدہ گرفتاریاں عمل میں لائی جا سکیں اور بعد ازاں طویل عرصے تک انہیں انکوائریوں میں رکھنے کے بعد ملوث افراد کو کلین چٹ دے دی جائے۔

اس تمام کارروائی کا مقصد صرف اور صرف کرپشن کا ریکارڈ نیب کی پہنچ سے دور رکھنا ہوتا ہے اور غلط تحقیقات کے ذریعے حقائق کو مسخ کر کے مستقبل میں بھی ہونے والی کسی بھی تحقیقات کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

متعدد ایسے حقائق سامنے آنے کے بعد نیب حکام نے اینٹی کرپشن کے ایسے عناصر کے خلاف بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ان کی سرگرمیوں سے اعلیٰ حکام کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے

فیصلے کی روشنی میں ابتدائی طور پر ایسے افسران کے خلاف تحقیقات شروع کی گئی ہیں جو ادارے میں سیاسی بنیا د پر بھرتی ہوئے اور ان افسران کے سندھ حکومت میں مختلف سیاسی رہنمائوں سے قریبی مراسم بھی ہیں اور یہ ہی افسران زیادہ تر ان کارروائیوں میں ملوث پائے گئے ہیں جہاں نیب یا کسی دوسرے وفاقی ادارے کو کوئی کارروائی کرنا ہوتی ہے۔

(1098 بار دیکھا گیا)

تبصرے