Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 13 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کراچی کو بچاﺅ،اسلام آباد یا راولپنڈی کو آگے آنا ہوگا، وسیم اختر

قومی نیوز اتوار 08  ستمبر 2019
کراچی کو بچاﺅ،اسلام آباد یا راولپنڈی کو آگے آنا ہوگا، وسیم اختر

کراچی(رپورٹOصابر علی) میئر کراچی وسیم اختر کراچی کی آواز بن گئے‘ حالیہ بارشوں میں کے الیکٹرک کی غفلت کے سبب کراچی میں جاں بحق ہونے والے بچوں کے ورثاءکو انصاف دلانے کیلئے کے الیکٹرک کے خلاف کھلی عدالت میں اجتماعی مقدمہ چلانے کا مطالبہ کردیا

انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم (پاکستان) کا ڈپٹی کنوینر ہوں‘ میرے پارٹی کے رہنماﺅں سے کوئی اختلافات نہیں ہیں‘ میری پارٹی میرے ساتھ کھڑی ہے

کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس اور میڈیا سے گفتگومیں میئر کراچی نے کراچی میں ہونے والی 40 ہلاکتوں میں سے 19 جاں بحق ہونے والوں کی ذمہ داری کے الیکٹرک پر ڈالنے کا خیر مقدم کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے نیپرا کو مبارکباد دی اور کہا کہ نیپرا نے کراچی میں ہونے والی ان ہلاکتوں کا سنجیدہ نوٹس لیاہے اور کے الیکٹرک کو ذمہ دار قرار دیاہے‘ یہ کراچی کے عوام کا مسئلہ تھا

کراچی کے عوام نے ان ہلاکتوں کا ذمہ دار کے الیکٹرک کو قرار دیا تھا‘ میںخود کے الیکٹرک کے خلاف مقدمہ درج کرانے تھانے پہنچا تھا‘ انہوںنے کہا کہ اب یہ مقدمہ پورے شہر کا مقدمہ بن چکا ہے‘ میری عدالت سے درخواست ہے کہ کھلی عدالت میں اس مقدمہ کو چلاتے ہوئے تمام فریقوں اور جس جس نے کے الیکٹرک کے خلاف عدالت میں اپیل کی ہے۔سب کو عدالت میں بلائیں ‘ انہوںنے کہا کہ اس حوالے سے جب تک ذمہ داری کا تعین نہیں کیا جائے گا‘ نظام میں بہتری نہیں آئے گی

یہ بھی پڑھیں : امریکا نے بھارتی کو پہلی دھمکی دے دی

واضح رہے کہ کے الیکٹرک کی غفلت کے سبب جاں بحق ہونے والے بچوں کیلئے کراچی کے ایک نوجوان ظفر عباس نے مسلسل آواز اٹھانے کا بیڑا اٹھایا تھا‘ لیکن کے الیکٹرک نے ایک سازش کے تحت اس آواز کوبند کردیا‘ تاہم اب میئر کراچی ایک مرتبہ پھر اس حوالے سے کراچی کی آواز بن کر سامنے آئے ہیں‘ ایک سوال کے جواب میں کراچی میں صفائی کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آرہی ہے

کیا آپ ا س حوالے سے آرمی چیف یا فوج سے مدد کی درخواست کریں گے‘ وسیم اختر نے کہا کہ اس ملک کے جو بڑے ہیں انہیں کراچی کی صورتحال اور مسائل کے حل کیلئے بیٹھنا ہوگا‘ کراچی کے مسائل کے حل کیلئے کوئی اسلام آباد سے آئے یا پنڈی سے آئے ‘ کسی کو تو آنا پڑے گا‘ انہوںنے کہا کہ کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے

آخر کراچی کا پیسہ کراچی پر کیوں نہیں خرچ کیا جاتا ‘ موٹر وہیکل ٹیکس کراچی پر کیوں نہیں لگایا جاتامیئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کیا کراچی کے لوگ اسی طرح کے الیکٹرک کی غفلت کے سبب مرتے رہیں گے اور کے الیکٹرک کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا‘ انہوںنے کہا کہ اب نیپرا نے کے الیکٹرک کو ذمہ دار قرار دیا ہے‘ لیکن صرف ذمہ دار قرار دینے سے کچھ نہیں ہوگا‘ لوگوں کو انصاف ملنا چاہیے‘ ان کی داد رسی ہونا چاہیے ۔

میئر کراچی کے کہا کہ کراچی تباہ ہوچکا ہے‘ شہر کا انفرااسٹرکچر برباد ہوگیاہے‘ لیکن کراچی کے مسائل پر لوگ صرف بیلم گیم کررہے ہیں‘ شام کو ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر ایک دوسر ے پر الزامات عائد کئے جاتے ہیں‘ کراچی او رکراچی کے شہریوں کی تکالیف و پریشانی کا کسی کو احساس نہیں ہے‘ وفاقی اور سندھ حکومت بھی کراچی کے مسائل کو حل کرنے میں سنجید ہ کوششیں نہیں کررہی ہیں

یہ بھی پڑھیں‌: پاکستان نے اپاچی ہیلی کاپٹر کا بھی توڑ نکال لیا

کراچی میں ایمر جنسی لگا کر کام کرنے کی ضرورت ہے‘ انہوںنے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے جن میں ہم بھی شامل تھے‘ کچھ نہیں کیا‘ ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں جن کے گھروں کے چراغ گل ہوئے ہیں‘ میں ان کے گھروں پر گیاہوں‘ ان کے والدین سے ملاہوں‘ ان پر کیا بیت رہی ہے‘ ا س کا کسی کو کوئی احساس نہیں ہے‘ لو گ جنازے اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہیں‘ لوگوں نے عید کی نماز پڑھ کر اپنے بچوں کی نماز جنازہ پڑھی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ مجھے عدالت کے حکم پر سندھ حکومت نے نالے صاف کرنے کیلئے 50 کروڑ روپے دیئے تھے‘ میں نے ایک سال میں 50 کروڑ خرچ کئے اورنالے صاف کئے‘ جبکہ وفاقی وزیر علی زیدی نے 10 ‘15 دن میں 6 کروڑ خرچ کرکے چند نالے صاف کئے ‘ نالے صاف کرنا حل نہیں ہے

حکومت سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کو اربوں روپے دیتی ہے‘ وہ ڈی ایم سیز کو صفائی کیلئے دلائے جائیں۔ میئرکراچی وسیم اختر نے کہا کہ ہمارا نظام اس قدر خراب ہوچکا ہے کہ اب یہ عدالت کے احکامات سے ہی ٹھیک ہوگا‘ اب تک جو کام ہوئے ہیں‘ وہ عدالت کے احکامات کے ذریعے ہی ہوئے ہیں۔

(917 بار دیکھا گیا)

تبصرے