Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 22 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کراچی، روشنیوں سے غلاظت کے ڈھیرتک۔۔!!

تحریر: مختار احمد جمعه 06  ستمبر 2019
کراچی، روشنیوں سے غلاظت کے ڈھیرتک۔۔!!

شہر کراچی ماں کی وہ ٹھنڈی آغوش ہے جس نے مختلف اقوام اور مذاہب کے لوگوں کو ناصرف اپنی گود میں پناہ دی بلکہ اپنی شفقت ،محبت کے سائے تلے انہیں پروان چڑھاکر ایک تناور درخت کا روپ دیا ان اقوام میں عرب،مغل ،ترخان ،کلہوڑو ،تالپوربھی شامل ہیں جنہیں اس شہرنے ناصرف حاکمیت دی بلکہ ان کے لئے ترقی کے مختلف دروازے کھول دئے مگر جس شہر نے ان اقوام کو عزت ،شہرت ،دولت عطا کی اس شہر کو انہوں نے کچھ نہیں دیا۔

یہی وجہ تھی کہ یہ شہر عرصہ دراز تک پسماندہ بستی کے مناظر پیش کر تا رہا جس کی برطانوی فوج کے قبضے سے پہلے فوج میں شامل کیپٹن نیل نے اپنے دورے کے بعد کچھ اس طرح رقم طراز ہواکہ شہر کراچی انتہا ئی گندہ اور پسماندہ شہر ہے جس کی آبادی لگ بھگ 10 ہزار ہے جہاں ہندو کی اکثر یت ہے جو کہ انتہا ئی غیر مہذب اور ناشائستہ ہیں لوگوں نے یہاں رہائش کے لئے مٹی کے لوندوں ،کچی اینٹوں سے چھوٹے چھوٹے گھر بنا رکھے ہیں جبکہ فصیل شہر کے اندر کچھ جھگیاں بھی موجود ہیں شہر میں نکاسی آب کا کو ئی بندوبست نہیں لوگ اپنے گھروں کا کوڑا کرکٹ گھروں سے باہر پھینک دیتے ہیں اور یہاںتک کے غلیظ پا نی کے نکاس کا بھی سرے سے کو ئی انتظام نہیں جس کے سبب پورا شہر گندے پا نی کے جوہڑوں کے مناظر پیش کر رہا ہو تا ہے اور ناگوار سی بو فضا کو مکدر کر رہی ہو تی ہے صفائی کے لئے کسی قسم کا کوئی ادارہ نہیں جس کے پیش نظر صفائی کا کام چیل ،کوے اور کبوتر انجام دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : 1500 سال قدیم مندر،ماہرین آثار قدیمہ کی دوڑیں

تنگ وتاریک گلیوں میں چھوٹی چھوٹی دکانیں قائم ہیں جن سے ہلدی اور سرسوں کے تیل کی بو آب و ہوا کو متاثر کر رہی ہو تی ہے شہر کے اندر مرد لمبے اور تناور ہیں جبکہ خواتین پستہ قد ہیں جو کہ شوخ رنگ کے کپڑے زیب تن کر تے ہیں جن میں سڑی ہو ئی مچھلی کی بو بسی ہو ئی ہو تی ہے جس کی وجہ سے ان کے ساتھ لمحہ بھر رہنا عذاب سے کم نہیں ہو تا اس انگریز کیپٹن کے دورے اور تبصرے کے بعد ہی انگریز فوجیوں نے سندھ پر یلغار کی اور قبضہ کر لیا انگریز جنہوں نے سندھ پر 1839 میں قبضہ کیا تھا کم و بیش 1947تک 108سال تک اس خطے میں حکمرا نی کی مگر انہوں نے ماضی کے گندے شہر کو ایک ترقی یافتہ شہر بنا نے میں اہم کردار ادا کیا ۔

جنرل سر چارلیس نیپئر جو کہ پہلے چیف کمشنر تھا انہوں نے سندھ پر قبضے کے بعد اسے سندھ کا پہلا گورنر مقرر کیا اور اس نے کراچی جو کہ ماضی میں مختلف ناموں سے جا نا اور ما نا جا تا تھا سخت جدو جہد کے بعد ترقی کی جا نب گامزن کیا اور اپنی 4سالہ گورنری کے دوران اس نے ناصرف اس شہر کی بندرگاہ کو جدید بنا یا بلکہ سڑکیں ،ریلوے ،فراہمی آب ،نکاسی آب،صحت و تعلیم کی سہولیات کی فرا ہمی میںنمایاں کردار ادا کیا یہی وجہ تھی کہ جب وہ گورنری کے منصب سے سبکدوش ہوا تو اہلیان کراچی کی جا نب سے اس کی خدمت کے اعتراف کے طور پر ناصرف کیماڑی پر ایک استقبالیہ دیا گیا بلکہ اس کا ایک قدآور مجسمہ بھی کیماڑی پر ہی نصب کیا گیا جسے قیام پاکستان کے بعد ہٹادیا گیا ۔

اس کے بعد سندھ کے انتظا مات گورنر کے بجا ئے کمشنروں کے سپرد کئے گئے اور قیام پاکستان سے قبل تک لاتعداد کمشنرجن میں1847-1850: رچرڈ کیتھ پرنگل 1851-1859: ہنری بارٹل ایڈورڈ فریئر 1859-1862: جوناتھن ڈنکن انوریٹریٹی ,،1862-1867: سیموئیل مین فیلڈ،1867-1868: ولیم ہنری ہیلوک،1867-1877: ولیم لاکیئر میریویتھر ،1877-1879: فرانسس ڈیوس میل ویل،1879-1887: ہنری نیپئر بروس ایرسکائن،1887-1889: چارلس بریڈلی پرچرڈ،1889-1891: آرتھر چارلس ٹریور،1891-1900: ہنری ایوان مورچیسن جیمز،1900-1902: رابرٹ گیلس،1902-1903: الیگزینڈر کمین،1903-1904: ہورس چارلس مولز،1904-1905: جان ولیم پٹ مائر میکنزی،1905-1912: آرتھر ڈیالوال ینگ ہسبینڈ،1912-1916: ولیم ہنری لوکاس،1916-1920: ہنری اسٹیولے لارنس،1920-1925: جین لوئس ریو،1925-1926: پارٹریک رابرٹ کیڈل،1926-1929: والٹر فرینک ہڈسن،1929-1931: جارج آرتھر تھامس،1931-1935: ریمنڈ ایولین گبسن،1935-1936: گاڈفری فرڈینینڈو اسٹراٹفورڈ کولنزنے سندھ کے پہلے گو رنرسر چارلیس نیپئر کے نقش قدم پر چلتے ہو ئے اپنی دن رات کی جدو جہد سے شہر کو ناصرف بے پناہ ترقی دی بلکہ شہر کے اندر تجارت کو فروغ دینے کے لئے چیمبر آف کامرس ،بجلی ،ڈاک ،ٹرانسپورٹ سمیت متعدد نظام کو روشناس کرا یا اور پھر 1936میں جب سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کر نے کی تحریک زوروں پر تھی اور سندھ اور ایک صوبے کا درجہ دے دیا گیا تو ایک بار پھر انگریزوں نے کمشنر کے بجا ئے سندھ میں گورنر وں کی تعیناتی شروع کر دی اور کم و بیش 3گورنرزجن میں1936-1941: سر لانسلوٹ گراہم، 1 اپریل 1936 سے 31 مارچ 1941 ،1941-1946: سر ہیو ڈا¶ ،1946-1947: سر فرانسس موڈی نے سندھ کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا اور سندھ بلخصوص شہر کراچی کی ترقی انہیں لوگوں کی مرہون منت رہی۔

یہ بھی پڑھیں : کراچی کا تا ریخی ویٹر نری اسپتال

یہی وجہ تھی کہ جن انگریز گورنرز ،کمشنرز نے شہر کراچی کی ترقی میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا شہر کے واسیوں نے ان کے ناموں کے مجسموں کے علاوہ مختلف شاہراہوں اور سڑکوں کو ان کے نام سے موسوم کر رکھا ہے اور آج بھی شہر کراچی کی مختلف شاہراہیں اور سڑکیں انہیں کے نام سے جا نی پہنچانی جاتی ہیںلیکن جب قیام پاکستان کے بعد شہر کی ترقی کا سلسلہ کچھ عرصے تک رک گیا لیکن جب صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان نے بی ڈی ممبرزکے نام پر بلدیاتی نظام کو روشناس کرا یا جسے جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویزمشرف کے دور میں مزید تقویت ملی تو شہر کراچی کی ترقی کا پہیہ ایک بار پھر آگے کی جا نب چل پڑا لیکن جیسے ہی فو جی ادوار کا خاتمہ ہوا اور جمہوریت کے سائے میں بلدیاتی نظام پنپنے لگی تو حسب دستور ہو نے والی نا اہلیوں ،کرپشن اقربا پروری نے شہر کو پیچھے کی جا نب دھکیل دیا جس کی وجہ سے وہ شہر جسے دنیا بھر میں ایک نمایاں مقام حاصل تھا اور اسے عروس البلاد کراچی، روشنیوں کے شہر کے نام سے جا نا اور ما نا جا نے لگا تھا ایک بار پھر ماضی کی طرح ایک گندے شہر میں تبدیل ہو چکا ہے۔

جہاں ماضی کی طرح اس وقت شہر کی سڑکیں اور گلیاں گندے پا نی کے جوہڑ میں تبدیل ہو چکی ہے جبکہ پورا شہر کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے جس کی وجہ کسی ایک حکو مت یا ایک شخص کی نا اہلی نہیں بلکہ پورے سسٹم کی نا اہلی ہے جہاں ماضی میں صفائی ستھرا ئی کر نے والے کنڈی مینوں اور بھنگیوں کے منصب پر جہاں صرف ہندو اور کرسچن کو ملازمتیں فرا ہم کی جا تی تھیں سیاسی ورکرز کی تقرریاں کی گئیں جو گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں وصول کر رہے ہیں اور ٹیکس دینے والے شہری جن کے ٹیکسوں سے انہیں تنخواہیں دی جاتی ہیں از خود بھنگی ،کنڈی مینوں ،سویپرز کا کام کر نے پر مجبور ہیں جس کی وجہ سے روشنیوں کا شہر ماضی کی طرح پھر سے اندھے شہر میں تبدیل ہو چکا ہے جبکہ شہر کی صفائی ستھرائی کا کام بجا ئے بلدیہ کے ملازمین کے چیل ،کوے ،کتے اور افغانی باشندے انجام دے رہے ہیں جو کہ ایک المیے سے کم نہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حوالے سے حکو مت سندھ فوری طور پربلدیہ عظمی اور زیڈ ایم سیز میں کام کر نے والے ملازمین کی مکمل طور پر چھان بین کرے اور گھوسٹ ملازمین کی جگہ ایماندار ملازمین کی تعیناتی کو یقینی بنا ئے تا کہ شہر کراچی ایک بار پھر ترقیوں اور روشنیوں کی سمت گامزن ہو سکے۔

(173 بار دیکھا گیا)

تبصرے