Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 18 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

1500 سال قدیم مندر،ماہرین آثار قدیمہ کی دوڑیں

تحریر:مختاراحمد جمعه 06  ستمبر 2019
1500 سال قدیم مندر،ماہرین آثار قدیمہ کی دوڑیں

سولجر بازار کے علاقے میں 1500سال قدیم پنچ مکھی ہنو مان مندر کے بارے میں قومی اخبار میں بلاگ شائع ہوا ابتداءمیں لوگوں کے لئے اس بات پر یقین کر نا قطعی طور پرمشکل تھا اور ماہرین آثار قدیمہ کی بھی را ئے پڑھنے والوں سے یکسر مختلف نہیں تھی ا ن کا بھی یہ کہنا تھا کہ یہ مندر 1500 سال قدیم تو نہیں لیکن ڈھائی سے 300سال پرا نا ہے لیکن کچھ ماہرین کا ماننا یہ تھا کہ جس طرح سندھ کے صوفی بزرگ حضرت عبداللہ شاہ غازی کی درگاہ کی تعمیر کو 1290 برس گزر چکے ہیں ٹھیک اسی طرح یہ مندر بھی 1500سال پرا نا ہے جس کا ذکر بعض انگریز ماہرین آثار قدیمہ کر چکے ہیں

اس حوالے سے مندر سے جڑے گدی نشین کا بھی دعوی یہی تھا کہ یہ مندر 15سو سال قدیم ہے اور یہ دنیا کا وہ واحد مندر ہے جہاں ایک سادھو کی عبادت پر ہنو مان جی زمین کی ساتویں تہہ سے سفر کر تے ہوئے یہاں تک پہنچے اور انہوں نے اس سادھو کو خواب میں آکر کہا کہ وہ مندر کی موجودہ جگہ سے 7مٹھی مٹی نکا لے اور جیسے ہی اس سادھونے مٹی نکا لی تو ہندو دھرم کے مطابق پنچ مکھی ہنو مان کا ظہور ہوا اور اس وقت سے ان کی مورتی مندر میں اسی مقام پر موجود ہے جس کی ناصرف پاکستان بلکہ بھارت اور دنیا بھر سے آنے والے لوگ پوجا کررہے ہیں

اس مندر کے بارے میں ہندو برادری کا دعوی ہے کہ جو بھی شخص پتھروں سے بنے اس مندر کا 7,9,21,51بار طواف کر لے تو اس کی ساری پریشانیاں ختم ہو جا تی ہیںیہ مندر جو کہ ایک قدیم تاریخ رکھتا ہے وہاں صرف ہنو مان جی کی ہی مورتی نصب نہیں بلکہ مندر کے اندر شیراںوالی ماتا جی ،مری ماتا سمیت دیگر بھگوانوں اور اوتاروں کی مورتیاں موجود ہیں مگر ان میں رادھے کرشن کی مورتی جو کہ چندن کی لکڑی سے تیار کی گئی تھی آج بھی صدیاں گزر جا نے کے با وجود اسی حالت میںموجود ہے

یہ مندر اندر سے تو زیادہ بڑا نہیں جس کے تنگ ہو نے کے بارے میں برادری کے لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ جس جگہ مندر موجود ہے یہ جگہ ماضی میںخاصی وسیع تھی مگر قیام پاکستان سے قبل اس پر لوگوں نے قبضہ کر رکھا تھا جس کا مقدمہ سپریم کورٹ میں دائر تھا جس پر سپریم کورٹ نے ہندو برادری کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے قبضہ کی ہو ئی جگہ جس پر کئی خاندان آباد تھے واگزار کراکر مندر کی انتظامیہ کے حوالے کر دی جس کے بعد انتظا میہ نے فوری طور پر بنا ئے ہو ئے گھر مسمار کر دئے اور خا لی ہو نے والی جگہ کو استعمال کے قابل بنا نے کے لئے کھدائی شروع کر دی اورابھی اس جگہ کی کھدائی چند فٹ سے زیادہ نہیں ہو ئی تھی کہ اچا نک زیر زمین صدیوں سے دبی مورتیاں دریافت ہو نا شروع ہو گئیں اور صرف 3روز کی کھدائی پر ناصرف زمین کے اندر سے زینے ،پختہ فرش دریافت ہو ئے بلکہ ہنو مان جی ،درگا ما تا سمیت مختلف بھگوانوں کی شبیہہ کے ساتھ ساتھ شیولنگ ،کڑاہی ،سکے ،سندور ،گاﺅ ماتا ،ٹھیکریاں ،ہڈیاں و دیگر قدیم نوادرات دریافت کئے جس کے بارے میں کئی جنموں سے مندر کے گدی نشین خاندان کے مہا راج شری رام ناتھ کا کہنا یہ ہے کہ کیو نکہ3 ستمبرگنیش مہا راج جی کا جنم دن ہے جسے دنیا بھر میں جوش و خروش سے منا یا گیا

ایسے میں مندر کے احاطے میں کھدائی کے دوران بھگوانوں اور اوتاروں کی مورتیاں ملنا ناصرف ہمارے لئے ایک انعام ہی نہیںبلکہ ایک جیتا جاگتا معجزہ ہے جس کے لئے ہندو برادری بھگوان کی شکر گزار ہے مندر کے احاطے کی کھدائی کے دوران ملنے والے قدیم نوادرات کی خبر اچانک جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس کے بعد نجی چینلز نے بھر پور کوریج دی جس پر فوری طور پر محکمہ نوادرات کے ڈائریکٹر جنرل منظور کناسرو نے بھی محکمے کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر محمد شاہ بخاری کی سر برا ہی میں ایک 2 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جنہوں نے جس کے بعد ملنے والی نوادرات پر با قاعدہ طور پر تحقیق کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت اس مندر کی قدامت کے حوالے سے چشم کشا انکشافات سامنے آنے کے امکا نات ہیں مگر اس حوالے سے بعض ماہرین آثار قدیمہ اب بھی اس بات پر شاکی ہیںاور یہ ماننے کو تیار نہیں کہ اس مندر کی قدامت 1500سال ہے ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ مندرزیاہ سے زیادہ ڈھائی سے 300سال پرا نی ہے

دریافت ہو نے والی نوادرات جن میں گنیش مہاراج جی ،درگا مائی ،شیو لنگ مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے مہاراج کی استھیاں جو کہ یادگار کے طور پر چھوٹی چھوٹی مٹکیوں میں زمین کے اندر دفن تھی کے بارے میں بھی ان کے اسی قسم کے خیالات ہیں ان کا کہنا یہ ہے کہ دنیا میںسب سے بہترین مورتیاں گندھارا تہذیب سے ملی ہیں جو کہ کچھ اس طرح بنی ہو ئی ہیں کہ ان میں انسانی رگیں بھی نمایاں نظر آتی ہیں جبکہ مندر سے دریافت ہو نے والے یہ نوادرات ہندو دھرم کے آخری ادوار کی ہیں اور جنہیں کسی طور پر بھی مورتیاں نہیں کہا جا سکتا کیونکہ انہیں پتھر کی پلیٹوں پر ابھار کے ذریعے ظاہر کیا گیا ہے جس سے اس بات کا پتا چلتا ہے کہ دریافت شدہ نوادرات ڈھائی سے 300سال سے زیادہ قدیم نہیں مگر اس کے با وجود گنیش مہاراج کے جنم دن پر عرصہ درا ز سے زمین کے اندر دبی مورتیاں ،شیولنگ ،مٹکیاں ،سندور ،کوئلہ ،فرش ،کچی دیوار دریافت ہو نے پر ہندو دھرم سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے انجانی خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہوں نے با قاعدہ طور پر اس کی پوجا پاٹ شروع کر دی ہے اب یہ تو محکمہ نوادرات کی تحقیق ثابت کرے گی کہ ملنے والے نوادرات 1500سال پرا نے ہیں یا پھر اس کی قدامت کم ہے ۔

(249 بار دیکھا گیا)

تبصرے