Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
بدھ 18  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کراچی کا تا ریخی ویٹر نری اسپتال

تحریر: مختار احمد منگل 03  ستمبر 2019
کراچی کا تا ریخی ویٹر نری اسپتال

دنیا کے بڑے اور بین الاقوامی شہر کراچی میں ایک وہ وقت تھا جب بلندو با لا عمارتوںکے بجائے ایک مٹی اور پتھروں کی فصیل کے اندر آڑے تر چھے او نچے نیچے ایسے گھر وںکی بھرما ر تھی جس میں تا زہ ہوا کی آمددرفت کے لئے سرے سے کوئی کھڑکی مو جو د نہیں تھی بلکہ تا زہ ہوا کی گھر تک رسائی کے لئے تمام مکانات کی چھتوں پر با د گیر بنے ہو تے تھے او ریہ با دگیر بیک وقت گھر میں تا زہ ہوا کی رسا ئی کے ساتھ سا تھ رو شنی مہیا کرنے کا کا م بھی کرتے تھے

شہرکے اندر سڑکوں کا کوئی تصورنہیں تھا اور نہ ہی پا نی ، بجلی سیور یج کامو ثر بندو بست یہی وجہ تھی کہ فصیل شہر کے اندر دا خل ہو تے ہی نہ صرف ایک نا گوا رسی بو نا ک کے نتھنوں کو ٹکرا تی تھی سرشام پو رے شہر میں شہر خموشاں جیسی خاموشی چھا جا تی اور لوگ جا نور وں کے خوف سے گھروںمیں دبک جاتے شہر کراچی کا نظم ونسق 240 روپے ما ہوا ر تنخوا ہ اور گھوڑا الائونس کے عوض گورنر ہا ئو س کے پا س تھا بعض با ر یہ انتظا ما ت ایک گورنر کے ذمے ہو تے جبکہ بعض اوقات سول اور فوجی معاملات سنبھال نے کے لیے بیک وقت دو دو گور نر مقرر کیے جا تے تھے جس میں سول گورنر کی ذمہ دا ریوں میں امن عا مہ کا قیام ، حکو مت کے نافذکر دہ قوانین پر عملدر آ مد ، ٹیکس کی وصولیابی، مقد ما ت کے فیصلے کر وا نا اور سز ائیں تجویز کر نا ہو تا تھا جبکہ ملٹری گورنر ملٹری کے تما م تر انتظامات سنبھالنا ہو تا تھا ۔

اس زمانے میں پو رے کرا چی کی حفا ظت کے لئے4 ہزارفوجی اہلکا ر مو جود تھے جو کہ دن اور را ت کے اوقات میں میں گھو ڑے اور خچر پر سوار ہو کر پو رے شہر کی نگرا نی کر تے تھے جبکہ شہر کے عام لوگ بھی کسی قسم کی ٹرا نسپورٹ نہ ہو نے کے با عث خچر ، گھوڑوں ، او نٹ اور بیل گا ڑیوں کو بطور سواری اور با ر برا دری کے لئے استعمال کر تے تھے اور کیونکہ اس وقت افغا نستا ن ، سطی ایشیاء ، پنجاب ، سندھ سے برا ستہ بندر گا ہ تجا رت زوروں پر تھی لہٰذا با ربرا دری میں کام آنے وا لے جا نوروں پر آمدن کا12 فیصد ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا جبکہ اسی طرح جھرک تا کرا چی برا ستہ سیہون جا نے وا لے اونٹ جس کا کرا یہ 10سے 7روپے وصول کیا جا تا تھا جبکہ ایک خطیر رقم بطور ٹیکس وصول کیا جا تا تھا اور جا نوروں کے سا تھ رتی برا بر زیا دتی پر جانوروںکے ما لکا ن کے خلاف بھر پور قانونی کا روائی عمل میں لائی جا تی تھی ہندو مہا جن،پارسیوں اور مسلما نوںنے پو رے شہر میں جا نوروں کی پیا س بجھانے کے لئے جگہ جگہ نا دیں اور پیائو بنا رکھے تھے جہا ں سے جا نور نہ صرف پیا س بجھا تے تھے بلکہ ان کہ مالکا ن جنہیں جا نوروں کو چارہ ڈال کر درخت کی ٹھنڈ ی چھا ئو ں میں سستانے کا مو قع فرا ہم کر تے تھے

یہ تالپوروں کا دور تھا اور پھر جب انگریزوں نے کرا چی پر قبضہ کیا تو گھروں میں پا لتو جا نوروں کی تعدا د میں بے پنا ہ اضافہ ہوامگر حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اس وقت تک جا نوروں کو علا ج معالجے کی کو ئی سہو لت حاصل نہیں تھی جسے دیکھتے ہوئے1892میں جا نوروں کا ایک ہسپتا ل ایک کرا ئے کی عما رت میں قا ئم کیا گے کیونکہ با ربرا دری سمیت لوگوں کو منزل مقصود کے لئے مکمل کے طور پر جا نوروں پر انحصار کیا جا تا تھا اور انگریزوں کی آمد کے بعد پا لتو جانوروں کی تعدا د میں بے پنا ہ اضافہ ہو چکا تھا لہٰذا ہسپتا ل کی جگہ چھوٹی پڑنے لگی جس کی بنیا د پر ایک انگریزکلکٹر نے 1895ء میں ایم اے جناح روڈ پر پرانی اسمبلی جہا ں آج این جے وی اسکول قائم ہے کہ عین سامنے لگ بھگ ڈیڑھ ایکٹر پر ایک کشادہ ہسپتال قا ئم کیا

اسپتال میں جا نوروں کے علاج معالجے کے لئے مختلف وارڈزآپریشن تھیٹراور ڈاکٹر سمیت دیگر ملا زمین کی رہا ئش کے لئے 10کوار ٹرز صرف 12ہزار روپے میں تعمیر کر کے ہسپتا ل کو جا نوروں کے لئے کھول دیا گیا اور ہسپتا ل کا نام اسی انگریز کلیکٹر کے نام پر مسٹر کرا فورڈ ویٹر نری ہسپتال رکھا گیا اور کیونکہ ایم جناح روڈ اور اس کے ارد گرد کے علاقے جہاں انگریزوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی لہٰذا ہسپتال میں ہر وقت جا نوروں کا رش لگنے لگا اور صرف 1896میں اس ہسپتال میں ایک سال کے دوران 828جا نوروں کا جن میں بلی ، کتے، بیل اور اونٹ گھوڑے شامل تھے کا مفت کیا گیا دیکھتے دیکھتے جا نوروں کا یہ ہسپتال اچھے اور قابل ڈاکٹر کے با عث شہرہ آفا ق کی بلندیوں کو چھونے لگا اور لوگ دور درا ز سے جا نوروں کے علا ج کے لئے ہسپتال کا رخ کرنے لگے اور پھر جب بار برا دری اور لوگوں کو سفری سہولت مہیا کرنے کے لئے شہر میں ٹرامیںچلنے لگیںاور ایندھن سے چلنے والے انجن کی بدولت اس ہسپتال کی افا دیت ختم ہوگئی اور انگریزوں کی کرا چی سے واپسی کے بعد اس ہسپتال کی اہمیت مکمل طور پر ختم ہو گئی

آج بھی یہ ہسپتا ل اپنی پرا نی شان و شوکت کے سا تھ مو جو د ہے مگر جا نوروںکی تعداد میں انتہا ئی کمی اور شہر کی اہم شا ہرا ہ ٹریفک کے اژدھا م کی وجہ سے اس کی ضرورت قطعی طور پر ختم نہیںہو ئی ہے اور اب بھی یہاںجانوروں کا علاج معالجہ کیا جا رہا ہے مگر ان جانوروں میں گھروں میں پلنے والے بلی ،کتے ،بکرے گائیں بھینسیں شامل ہیںاب بھی یہ ہسپتال مکمل طور پر فعال ہے اور یہاں صرف پالتو جانوروں کا علاج ہی نہیں بلکہ ضرورت پڑنے پرآپریشن بھی کیا جا تا ہے اسی لئے اس ہسپتال کے اندر ایک وسیع العریض آپریشن تھیٹر موجود ہے گو کہ اب ہسپتال میں ماضی کی یادگار کے طورپرکچھ زیادہ چیزیں محفوظ نہیں مگر اس میں قائم صدیوں پہلے قائم کیا جا نے والاآپریشن تھیٹر اب بھی موجود ہے ۔

(140 بار دیکھا گیا)

تبصرے