Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 22 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

منی چینجرز کےخلاف ”تاریخی“ کریک ڈاﺅن

قومی نیوز هفته 31  اگست 2019
منی چینجرز کےخلاف ”تاریخی“ کریک ڈاﺅن

کراچی(قومی اخبار نیوز) منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کے خلاف ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائی کی تیاری کی جارہی ہے۔

حوالہ ہنڈی اور منی لانڈرنگ میں ملوث کرنسی ایکسچینج کمپنیوں کی برانچوں اور فرنچائز کے لائسنس منسوخ کردیئے جائیں گے۔

اسٹیٹ بینک کے ایکس چینج پالیسی ڈپارٹمنٹ نے وفاقی وزارت داخلہ کے سیکریٹری کو خط لکھ کر ایف آئی اے سے ملک بھر کی 28 کرنسی ایکس چینج کمپنیوں کی 38 برانچوں اور فرنچائز کے خلاف درج ہونے والے مقدمات‘ عدالتوں میں پیش کردہ چالان‘ تحقیقات میں ہونے والی پیشرفت کے حوالے سے تفصیلات طلب کرلی ہیں

یہ بھی پڑھیں : ایل ڈی اے کی کرپشن کا ملبہ ایم ڈی اے پر ڈال دیاگیا

ان ایکس چینج کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کے لئے کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔ اسٹےٹ بینک کی جانب سے خط موصول ہونے کے بعد ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر کے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کے آفس سے ڈائریکٹر لاہور‘ ڈائریکٹر کراچی‘ ڈائریکٹر کوئٹہ‘ ڈائریکٹر پشاور‘ ڈائریکٹر اسلام آباد سے ترجیحی بنیادوں پر مذکورہ اس ریکارڈ کو اسٹیٹ بینک حکام کے حوالے کیا جاسکے۔

کرنسی ایکس چینج کمپنیوں کے حوالے سے ریکارڈ ایف آئی اے کے تمام صوبائی دفاتر سے 24 ستمبر تک طلب کیا گیا ہے۔ ذرائع کے بقول یہ فیصلہ وفاقی وزارت داخلہ‘ وزارت خزانہ اور حساس اداروں کی ان رپورٹس کی روشنی میں کیا گیا ہے جن کے مطابق ملک میں حوالہ ہنڈی اور منی لانڈرنگ کا سب سے بڑا ذرائع کرنسی ڈےلرز اور کمپنیاں ہیں

یہ بھی پڑھیں : مہنگے دودھ میں کراچی تمام بڑے شہروں میں سرفہرست

ان کے ذریعے سیاستدان‘ بیورو کریٹس اور تاجر اربوں روپے بیرون ملک منتقل کررہے ہیں‘ کچھ عرصہ قبل ملک میں ڈالرز کی قیمت میں یکدم اضافے اور اوپن مارکیٹ میں ڈالرز غائب ہوجانے کے بعد وزیراعظم ہاﺅس میں ہونے والے اجلاس میں اسٹےٹ بینک‘ ایف آئی اے‘ ایس ای سی پی‘ ایف پی آر اور حساس ادارے کے نمائندوں کے ساتھ ایکس چینج کمپنیوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی

حکومتی اداروں کی جانب سے بعض ایکس چینج کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کے علاوہ اوپن مارکیٹ میں غیر ملکی کرنسی کی خریدو فروخت میں ان کی اجارہ داری ختم کرنے کے لئے نجی بینکوں کو غیر ملکی کرنسی کی خریدو فروخت کا کام سونپا گیا ہے۔

(2334 بار دیکھا گیا)

تبصرے