Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 12 نومبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مہنگے دودھ میں کراچی تمام بڑے شہروں میں سرفہرست

قومی نیوز منگل 27  اگست 2019
مہنگے دودھ میں کراچی تمام بڑے شہروں میں سرفہرست

کراچی(قومی اخبارنیوز) بڑے شہروں کے مقابلے کراچی میں دودھ سب سے مہنگا، کوئی پرائس میکنزم نہیں،شہر قائد میں 110روپے فی لیٹر، فیصل آباد میں 105،لاہور ،پشاور و حیدر آ باد میں100،پنجاب کے گاﺅں دیہات میں80روپے فی لیٹر دودھ کی نئی قیمت وصول کی جانے لگی۔

کراچی میں دودھ فروشوں نے کمشنر کراچی کے احکامات ہوا میں اڑا دئیے ، من مانی قیمت پر دودھ کی فروخت جاری،جس کے باعث دودھ کی قیمت 110 روپے اب دکانداروں نے تحریر کرکے اویزاں کردی ہیں تاہم بعض دکاندار کی جانب سے تحریر نہ کرنے اور صارف سے 110 روپے فی لیٹر طلب کرنے پر صارفین اور دکانداروں کے در میان بحث، تکرار اور جھگڑے ہوئے

یہ بھی پڑھیں : کراچی میں کل گرج چمک کےساتھ بارش کی پیش گوئی

کئی مقامات سے لڑائی کی اطلاعات بھی ملی ہیں ، صارفین 110روپے ادا کرنے کو تیار نہیں جبکہ دکاندار 110 روپے سے کم لینے کو تیار نہیں تاہم کمشنر کراچی کی جانب سے منافع خور دودھ فروشوں کے خلاف اتوار سے شروع کیا جانے والا کریک ڈاون مطلوبہ نتائج فراہم نہ کرسکا۔

کمشنر کراچی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کریک ڈاﺅن کے نتیجے میں4دودھ دفروشوںکو گرفتار کرکے جیل کی سزا دی ہے ، اس دوران ایک لاکھ 62ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

حکومت سندھ حال ہی میں محکمہ پرائس کنٹرول کو وزارت کا درجہ دے کربنگل خان مہر کو مشیر کا درجہ دے کر وزیر کے اختیارات دئیے ہیں ،اس سے قبل اسماعیل راہو پرائس کنٹرول کو وزیر تھے
رمضان المبارک کے دوران کراچی اسماعیل راہو ، وقار مہدی اور افتخار شلوانی کے حوالے کیا گیا تھا کہ جو پرائس چینکنگ کے فرائض انجام دے رہے تھے

اب دودھ کی قیمت کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت نے کمشنر کراچی کو ذمہ داری سونپی ہے ، کمشنر کراچی نے دودھ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے دودھ فروشوں کے خلاف مہنگا دودھ فروخت کرنے پر کریک ڈاﺅن شروع کیا گیا لیکن ہزاروں ڈیری فارمرز نے کمشنر کے احکامات کو ہوا میں اڑا دئیے

یہ بھی پڑھیں : ادارے ناکام،کراچی آلائشوں کاشہربن گیا

کراچی میں دودھ کی دو لاکھ سے زائد دکانیں ہیں جن کو کنٹرول کرنا انتہائی مشکل کام ہے جبکہ کمشنر کراچی جو ڈائر یکٹر جنرل آ ف پرائسر کا عہدہ رکھتے ہیں ان کو قیمت مقرر کرنے کا اختیار ہے لیکن عملدرآ مد کرانے کے اختیارات نہیں

کراچی میں اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت سندھ کا کوئی منظم اور مظبوط میکنزم نہیں ، سندھ فوڈ اتھارٹی بھی اشیائے خوردو نوش کے معیار کو چیک کرنے تک محدود ہے

کراچی میں کوئی ایسا ادارہ اس وقت نہیں جو پرائس کنٹرول کرنے کا ذمہ دار ہو، مقامی انتظامیہ کے افسران نے دودھ کی قیمت چیک کرتے وقت چالان پر کوئی بھی دفعہ لگا کر چالان کرتے ہیں

دودھ مہنگا فروخت کرنے پر کوئی دفعہ نہیں لگتی ، قانون کمزور ہونے کے باعث منافع خور ہمیشہ سے مانی کرتے رہے ہیں تاہم پیر کو کمشنر کراچی افتخار شلوانی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق اتوار کو سرکاری نرخ کی خلاف ورزی پر دودھ فروشوں کے خلاف شروع کیا گیا کریک ڈاﺅن پیر کو بھی جاری رہا۔

(833 بار دیکھا گیا)

تبصرے