Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 24  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

آئندہ کرنٹ لگنے سے اموات بڑھ سکتی ہیں

ویب ڈیسک جمعه 02  اگست 2019
آئندہ کرنٹ لگنے سے اموات بڑھ سکتی ہیں

کراچی … کرنٹ لگنے سے لوگوں کی حفاظت کیلئے حکومتوں اور ادارے کی جانب سے کوئی لائحہ عمل وضع نہیں کیا گیا، بارش کے نتیجے میں کرنٹ لگنے سے لوگ کیوں مرتے ہیں صاحب اقتدار کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے،برقی تنصیبات سے شہریوں کو دور رہنے کا صرف روایتی بیان کافی نہیں ہے، کوئی عملی اقدام نہ کیا گیا تو آ ئندہ کرنٹ لگنے سے اموات بڑھ سکتی ہیں

تفصیلات کے مطابق کراچی میں بارش سے شاید لوگوں کا اتنا نقصان نہیں ہوا لیکن کرنٹ لگنے سے 6بچوں سمیت 19افراد کی ہلاکت نے پورے شہر کو سوگوار بنا دیا ہے، اتنا بڑا جانی نقصان ہونے کے باوجود وفاقی، صوبائی اور کے الیکٹرک کی جانب سے ہر بارش میں ہونے والے اس جانی نقصان سے لوگوں کو محفوظ رکھنے کیلئے کوئی لائحہ عمل سامنے نہ آ سکا۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں وفاقی حکومت اور نہ ہی بجلی سپلائی کرنے والے ادارے نے کوئی اقدام کیا۔ کے الیکٹرک کی جانب سے روایتی بیان کہ شہری تاروں، کھمبوں اور تنصیبات سے دور رہیں لیکن کرنٹ کھمبوں میں کیوں آ تا ہے یا بارش اور ہوا میں اتنی بڑی تعداد میں تارکیوں گر جاتے ہیں جس سے کرنٹ لگ کر ہر بڑی بارش میں اوسطًا دس سیپندرہ لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یہ سب کے الیکٹرک کے ساتھ تمام اداروں اور صاحب اقتدار لوگوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے اب بھی کوئی فوری اقدام نہ کیا گیا تو آ ئندہ کرنٹ سے اموات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سندھ حکومت نے کراچی ڈبودیا

نارتھ ناظم آ باد میں گزشتہ روز کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والے دو بچوں احمد اور عابر جو کہ آ پس میں دوست بھی تھے، بدھ کو سپردخاک کر دیا گیا۔ علاقے میں اس دلخراش واقعے پر ہر آ نکھ اشکبار تھی اور جنازے کے شرکاء بجلی کی ترسیل کے نظام کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اہل محلہ نے بتایا کہ احمد کو نعتیں پڑھنے کا شوق تھا جبکہ عابر فٹ بالر بننا چاہتا تھا، دونوں سائیکل پر تھے کہ پول سے کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گئے

دریں اثنا کے الیکٹرک کے ترجمان نے کہا کہ مون سون بارشوں کے پیش نظر خاطر خواہ انتظامات کئے گئے، ریپڈ ٹیموں کو 24گھنٹے الرٹ رکھا گیا، احتیاطی تدابیر کے طور پر شہریوں سے کہا گیا کہ وہ پول اور تاروں سے دور رہیں، کرنٹ لگنے کے حادثات انتہائی افسوسناک ہیں، ہماری لواحقین سے دلی ہمدردی ہے تاہم ان واقعات کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، ضابطے کے مطابق جانچ کا عمل بھی جاری ہے۔

(576 بار دیکھا گیا)

تبصرے