Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 24  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کے الیکٹرک نے 2یونٹس بند کرکے بحران بڑھایا

ویب ڈیسک جمعرات 01  اگست 2019
کے الیکٹرک نے 2یونٹس بند کرکے بحران بڑھایا

کراچی … کے الیکٹرک کے بوسیدہ نظام سے انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت بھی سامنے آگئی۔اضافی منافع کمانے کی خاطر 300 میگاواٹ کے 2 جنریشن یونٹس بند کرکے بحران بڑھایا گیا۔ بجلی کمپنی نے غیر ملکی چیف جنریشن سنکلر کے احکامات پر خراب موسم کے بہانے پر بدترین لوڈشیڈنگ کرکے نہ صرف شہریوں کو اذیت میں مبتلا کیا گیا بلکہ لاکھوں روپے بھی بچائے۔

ذرائع نے بتایا کہ برسات ہوتے ہی کے الیکٹرک کے غیر ملکی چیف جنریشن و ٹرانسمیشن افسر ڈیل سنکلر نے بذریعہ ایل میل ڈی سی ڈپارٹمنٹ کو احکامات جاری کئے کہ بن قاسم یونٹ ون کے 150 میگاواٹ کے 2 یونٹ بند کردیئے جائیں تاکہ بوقت ضرورت اسے استعمال میں لایا جاسکے۔

ذرائع نے بتایا کہ دونوں یونٹس آپریشنل تھے‘ ان میں کوئی خرابی نہیں تھی تاہم انہیں محض پیسے بچانے کے لئے اسٹینڈ بائی پر ڈالا گیا اور مسلسل 3 روز تک شہریوں کو اذیت میں مبتلا رکھنے کے بعد بھی 300 میگاواٹ کے یونٹس چلانے سے گریز کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے جنریشن مزید کم ہوگئی ہے‘ نتیجتاً شارٹ فال کی وجہ سے نولوڈشیڈ زونز میں بھی گھنٹوں لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ لوڈشیڈنگ سے متاثرہ علاقوں میں کہیں 20 تو کہیں 36 گھنٹے لوڈشیڈنگ کی گئی۔ شہر میں لوڈ مینجمنٹ کے نام پر لگاتار 2 دن تک لوڈشیڈنگ کی جاتی رہی اور وجوہات میں بجلی بندش کو کے الیکٹرک نے مقامی فالٹ قرار دیا، بارش کے دوران 1260 اور 1280 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے پیداواری یونٹس ٹرپ ہونے اور مرمت کے لئے بند رکھے جانے سے بچنے والی رقم اس کے علاوہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : نمکین پانی سے بجلی پیدا کرنے کا تجربہ

ذرائع نے بتایا کہ برسات کے بعد بجلی بریک ڈائون کے باعث صدر‘ گزری‘ گارڈن‘ کلفٹن‘ ڈیفنس‘ لائنز ایریا‘ لیاقت آباد‘ ناظم آباد‘ لیاری‘ قیوم آباد‘ اختر کالونی‘ محمود آباد‘ ملیر‘ شاہ فیصل‘ کورنگی اور لانڈھی سمیت شہر کے 100 فیصد رہائشی علاقوں میں لوڈ مینجمنٹ کے نام پر بجلی بند کی گئی۔

فالٹ نہ ہونے کے باوجود پورے شہر کو لوڈمینجمنٹ سسٹم پر منتقل کیا گیا اور لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے ابتدائی 5 گھنٹوں میں نولوڈ شیڈ زونز میں بجلی بحال کرنا شروع کی گئی اور لوڈشیڈنگ والے علاقوں میں لوڈ مینجمنٹ کرنے میں پہلے 10 اور بیشتر علاقوں میں 24 گھنٹے گزرنے کے بعد بجلی بحال کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف جنریشن کی جانب سے ای میل آنے کے بعد ہی دونوں یونٹس سے بجلی کی پیداوار شروع کی جائے گی تاہم بدھ کی رات گئے تک مذکورہ احکامات موصول نہیں ہوئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں پیداواری یونٹس آپریشنل ہونے کے بعد ہی لوڈشیڈنگ میں کمی آسکے گی‘ بصورت دیگر لوڈشیڈنگ والے علاقے 10 سے 12 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کا سامنا کریں گے جبکہ نولوڈ شیڈ زون میں 3 سے 4 گھنٹے بجلی بندش کی اذیت جھیلنا پڑے گی۔

(433 بار دیکھا گیا)

تبصرے