Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 24  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

زمین کا ماحول بچانے کیلئے صرف 12 سال رہ گئے

ویب ڈیسک جمعرات 25 جولائی 2019
زمین کا ماحول بچانے کیلئے صرف 12 سال رہ گئے

کراچی … ماحولیات کے موضوع پر کام کرنے والے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ماحولیات کو بچانے اور زمین کا ماحول مکمل طور پر تباہ ہونے سے بچانے کیلئے انسانوں کے پاس صرف 12 سال کا وقت رہ گیا ہے۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آ ئندہ 18 ماہ اس بات کا تعین کریں گے کہ ہمیں کس سمت میں جانا ہے کیونکہ اس عرصہ کے دوران ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ عالمی سطح پر بڑھنے والی حدت اور دیگر ماحولیاتی چیلنجز سے کیسے نمٹنا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال ماحولیاتی تبدیلی پر بین الاقوامی حکومتوں کے پینل (آ ئی پی سی سی) نے بتایا تھا کہ رواں صدی میں زمین کا درجہ حرارت ڈیڑھ ڈگری تک کنٹرول میں رکھنا ہوگا اور ساتھ ہی ماحول دشمن کاربن ڈائی آ کسائیڈ گیس کے اخراج کو 2030ء تک 45 فیصد تک کم کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : ننھی پاکستانی کوہِ پیما کا نیا عالمی ریکارڈ

لیکن اب ماہرین کہتے ہیں کہ 2020ء کو ڈیڈلائن سمجھتے ہوئے یہ حتمی طور پر طے کرلیا جائے کہ ہم آ خر کیا چاہتے ہیں، سیاسی طور پر ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن کی مدد سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری ماحول دشمن گیسوں کے اخراج کو کنٹرول کیا جاسکے۔

پوسٹ ڈیم کلائمٹ انسٹی ٹیوٹ کے بانی اور ڈائریکٹر ہانس جوشم شیلن ہوبر کا کہنا ہے کہ اگر اقدامات نہ کیے گئے تو 2020ء تک زمین جان لیوا حد تک زخمی ہو چکی ہوگی۔

حال ہی میں کامن ویلتھ وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے برطانیہ کے شہزادہ چارلس کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ آئندہ 18 ماہ کے دوران ہم ماحول کو قابل برداشت حد تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور ساتھ ہی قدرت کے توازن کو بھی برقرار رکھنے کی جدوجہد کریں گے کیونکہ اسی میں ہماری بقا ہے۔

اس سلسلے میں ماحولیات کے موضوع پر 23 ستمبر کو نیویارک میں اہم اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ صرف وہی ممالک کانفرنس میں شرکت کریں جو سنجیدگی سے سمجھتے ہیں کہ وہ کاربن کے اخراج کو نمایاں حد تک کنٹرول کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد چلی کے شہر سنتیاگو میں بھی اہم کانفرنس ہوگی جس میں آ گے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

(175 بار دیکھا گیا)

تبصرے