Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 19  اگست 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ایک کروڑ سے زائدموبائل فون بلاک

ویب ڈیسک جمعرات 18 جولائی 2019
ایک کروڑ سے زائدموبائل فون بلاک

اسلام آباد … ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ایک کروڑ سے زائد فون ٹیکس ادا نہ کرنے کی وجہ سے بلاک کردیئے گئے ہیں ‘ چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا‘ اجلاس میں سینیٹر میرکبیر شاہی کے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کام کرنے والے ملازمین کی تفصیلات کے بارے میں اُٹھائے جانے والے سوال‘ مالا کنڈ میں یوفون سروس کی عدم موجودگی پر رپورٹ کے علاوہ ملک میں ٹیکس جمع نہ کروانے کی وجہ سے بلاک ہونے والے موبائل فون کی تعداد اور تفصیلات پر غور کیا گیا۔

چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کے بارے میں سوشل میڈیا پر غلط اور بے بنیاد خبروں کے شائع ہونے کی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ سینیٹر رحمن ملک نے کہا کہ اس کی روک تھام کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے معاملے کی جلد تحقیق کرانے کی یقین دہانی کرائی۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان 1992 کی تاریخ دہراسکتا ہے، وقاریونس

کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کل ملازمین کی تعداد5319 ہے۔ سینیٹر میر کبیر شاہی نے صوبہ بلوچستان کے لئے کوٹہ کے کم ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ قانون کے تقاضے پورے ہورہے ہیں جبکہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی ضرورت ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان الیکٹرانک ایکٹ سیکشن 22 کے تحت ایسی ویب سائٹس کو بلاک کیا جاسکتا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کی طرف سے 8 لاکھ ویب سائٹس بلاک کی جاچکی ہیں۔ سینیٹر کلثوم پروین نے ایسے جرائم میں ملوث لوگوں کو سخت سزائیں دینے اور ایسے کیسز کی بروقت کارروائی شروع کرنے کی ہدایات دیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ تقریباً 10 ملین موبائل فون ٹیکس نہ ادا کرنے کی وجہ سے بلاک کئے جاچکے ہیں۔ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز آشوک کمار‘ عبدالرحمن ملک‘ غوث محمد خالد نیازی‘ محمد طاہر بزنجو‘ ثناء جمالی‘ فدا محمد‘ میاں محمد عتیق شیخ‘ فیصل جاوید‘ کلثوم پروین‘ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی‘ چیئرمین پی ٹی اے‘ سیکریٹری برائے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

(224 بار دیکھا گیا)

تبصرے