Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 20 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

چیف سلیکٹر انضمام الحق نے عہدہ چھوڑ دیا

قومی نیوز جمعرات 18 جولائی 2019
چیف سلیکٹر انضمام الحق نے عہدہ چھوڑ دیا

لاہور… پی سی بی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ انضمام الحق نے چیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت30جولائی تک ذمے داری ادا کروں گا، توسیع نہیں لینا چاہتا۔ ورلڈ کپ میں ہماری کار کردگی اچھی رہی، قسمت ساتھ دیتی تو ہم فاتح ہوتے، پی سی بی کوئی اور ذمہ داری دے تو تیار ہوں۔

فی الحال کسی عہدے کی پیشکش نہیں ہوئی۔ کام میں مجھے فری ہینڈ دینے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کا مشکور ہوں۔ وہ بدھ کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ سابق کپتان نے کہا کہ ذمہ داری ایمانداری سے نبھائی، کسی کرکٹر کو جان بوجھ کر اس کے حق سے محروم نہیں کیا تاہم بطور انسان کوئی غلطی ہوگئی ہو تو معذرت خواہ ہوں۔

بطور چیف سلیکٹر اپنی کارکردگی سے مطمئن ہوں ،میرے دور میں قومی ٹیم ٹی ٹوئنٹی نمبر ون رہی جبکہ ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم کی پرفارمنس میں پہلے سے بہتری آ ئی ، گزشتہ تین سالوں میں تینوں فارمیٹ کی ٹیموں میں پندرہ سے زائد کھلاڑیوں کو شامل کیا اور ان میں سے کئی کھلاڑی مستقبل کا اثاثہ ثابت ہوں گے، ورلڈ کپ میں ٹیم کی پرفارمنس سے مطمئن ہوں، بدقسمتی سے رن ریٹ کی وجہ سے سیمی فائنل میں نہ پہنچ سکے ،ہمارے پاس رن ریٹ کا اندازہ لگانے کا میٹر نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں : آ ئی پی ایل جنوبی افریقا کو لے ڈوبی

فائنل کھیلنے والی دونوں ٹیموں کو پاکستان نے ہرایا، ماہرین نے پاکستان کو فیورٹس میں شامل کیا تھا۔ اپنے بھتیجے امام الحق کی سلیکشن کے بارے میں انضمام الحق نے کہاکہ کھلاڑی اپنی رشتہ داری سے نہیں بلکہ پرفارمنس سے منتخب ہوتا ہے ، اچھی پرفارمنس کے بعد ہیڈ کوچ اور بیٹنگ کوچ امام الحق کی سلیکشن کے حق میں تھے، میرے چیف سلیکٹر بننے سے پہلے بھی امام الحق انڈر 19کرکٹ ٹیم کا نائب کپتان اپنی پرفارمنس پر بنا، اس نے ورلڈ کپ میں بھی اچھی پرفارمنس دکھائی ، وہ پہلا پاکستانی اوپنر ہے جس کا رن اوسط اتنے میچز کھیلنے کے باوجود 50 سے زائد ہے۔

امام الحق سمیت کسی بھی کرکٹر کو کپتانی کے بارے میں سوچنے کی بجائے اپنے کھیل کی طرف فوکس کرنا چاہئے، بطور چیف سلیکٹر فخر زمان، شاداب، امام الحق اور بابر اعظم سمیت کئی نوجوان کھلاڑیوں کو ڈیبیو کروایا۔ انہوں نے کہا کہ شعیب ملک کو اچھی پرفارمنس پر ورلڈ کپ میں موقع دیا، اگر وہ اچھا کھلاڑی نہ ہوتا تو اتنے سال پاکستان کیلیے نہ کھیلتا ،شعیب ملک اور محمد حفیظ کے مستقبل کا فیصلہ نئی سلیکشن کمیٹی کرے گی۔

پی سی بی کسی کو بھی کپتان مقرر کرے تو اسے طویل المدت کیلئے کپتان بنائے کیونکہ طویل عرصے تک بنائے جانے والے کپتان پراعتماد ہوتے ہیں اور ان کی ٹیمیں زیادہ جیتتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرکٹر سے زیادہ مشکل کام کپتان کا اور سب سے مشکل کام چیف سلیکٹر کا ہوتا ہے، بطور کرکٹر اور کپتان فرسٹریشن کو ختم کیا جاسکتا ہے لیکن بطور چیف سلیکٹر فرسٹریشن کو ختم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ کپتان اور ہیڈ کوچ سے مشورہ کے بعد پندرہ رکنی اسکواڈ منتخب کرنا سلیکشن کمیٹی کا کام ہوتا ہے لیکن پندرہ میں سے گیارہ کھلاڑیوں کو کھلانے کا اختیار ہیڈ کوچ اور کپتان کو ہوتا ہے۔

(53 بار دیکھا گیا)

تبصرے