Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 15 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ورلڈ کپ ٹرافی پر ’’اوور تھرو ‘‘کاداغ بھی لگ گیا

قومی نیوز بدھ 17 جولائی 2019
ورلڈ کپ ٹرافی پر ’’اوور تھرو ‘‘کاداغ بھی لگ گیا

لندن… ورلڈ کپ کرکٹ فائنل میں امپائرنگ کے معیار پر دنیا بھر میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ سابق آ سٹریلین امپائر سائمن ٹوفل کہتے ہیں کہ اوور تھرو پر انگلینڈ کو چھ رنز دے دیئے گئے قوانین کے مطابق انگلینڈ کو پانچ رنز ملنے چاہیے تھے۔

کیوں کہ جس وقت گیند پھینکی گئی تھی اس وقت بیٹسمین دوسرا رن لینے کے لئے بھاگے نہیں تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے کہنہ مشق امپائر علیم ڈار کو نظر انداز کرکے جنوبی افریقا کے ایراسمس اور سری لنکا کے دھرماسینا کو فائنل کے لیے آ ن فیلڈ امپائرز مقرر کیا گیا۔

انہی امپائر نے آ سٹریلیا اور انگلینڈ کا سیمی فائنل بھی سپروائز کیا تھا۔ جس میں بھی متنازع فیصلے دیے گئے تھے۔ یاد رہے کہ فائنل کے آ خری اوور میں جب دونوں ٹیموں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ جاری تھا۔ بین اسٹوکس رن لینے کے لئے بھاگے اور گیند ان کے بیٹ سے ٹکرا کر بائونڈری لائن پار کر گئی۔

یہ بھی پڑھیں : کرکٹ میں ایک بار پھراکھاڑ پچھاڑ کی باتیں

ایم سی سی کی امپائرز کمیٹی کے رکن ٹوفل کا ایم سی سی کے قوانین کی کتاب کے قانون 19.8 کاحوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ فاش غلطی تھی۔ اضافی رن کی وجہ سے میچ سپر اوور میں چلا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دھرماسینا اور ماریاس اراسمس بہترین امپائر ہیں۔

لیکن مشکل یہ ہے کہ امپائرز کو دیکھنا ہوتا ہے کہ بیٹسمین نے رنز مکمل کیا ہے یا نہیں، کب گیند پکڑی گئی اور کب پھینکی گئی اور اس موقع پر بیٹسمین کہاں تھے۔

سیمی فائنل میں دھرماسینا کا جیسن رائے کو غلط آ ئوٹ دینا ہو یا فائنل مقابلے میں اراسمس کا راس ٹیلر کے خلاف فیصلہ، سابق کھلاڑی اور عام مداح ورلڈ کپ میں امپائرنگ کے معیار پر تنقید کرتے نظر آ ئے۔ ورلڈ کپ فائنل میں علیم ڈار کو ریزرو امپائر رکھا گیا تھا۔

(1 بار دیکھا گیا)

تبصرے