Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعه 06 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

چین کی مسلح افواج مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوگئیں

قومی نیوز اتوار 14 جولائی 2019
چین کی مسلح افواج مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوگئیں

نئی دہلی… تبت کے رہنما دلائی لاما کی سالگرہ کی سالانہ تقریبات رکوانے کیلئے چینی فوجی مقبوضہ کشمیر کے علاقے لداخ میں داخل ہو گئے ۔غیرملکی میڈیا کے مطابق چینی فوجی تقریب کے دوران تبت کے پرچم لہرانے پر مشتعل ہوئے اور پیپلزلبریشن آ رمی کے اہلکار چھ جولائی کو لداخ کے سیکٹر دم چوک میں گھس آ ئے۔

سیکیورٹی حکام نے جمعہ کو تصدیق کی کہ لداخ کے سرحدی گائوں کوئل میں چینی فوجی گاڑیوں سمیت داخل ہوئے اور یہاں مقیم تبتی مہاجرین کی طرف سے پرچم لہرائے جانے پر احتجاج ریکارڈ کرایا اور 40منٹ بعد واپس چلے گئے۔

یہ بھی پڑھیں : ڈوزیئر پر پاکستان کے سوالات مودی کیلئے پھندابن گئے

نیوز18 کے مطابق ایک اور موقف یہ سامنے آ یا ہے کہ سادہ لباس میں ملبوس چینی باشندوں نے ایل او سی عبور نہیں کی لیکن وہیں پر بینرز لہرائے جن پر لکھا تھا کہ بکھرے ہوئے تبت پر تمام سرگرمیاں بند کریں۔ ذرائع کے حوالے سے موقف اپنایا گیا کہ چھ جولائی کو دو گاڑیوں پر 11 چینی باشندے اس وقت پہنچے جب لداخ کے گائوں میں دیہاتی دلائی لامہ کی سالگرہ منارہے تھے، انہوں نے بینرز لہرائے اور تیس سے چالیس منٹ بعد واپس چلے گئے لیکن ایل او سی کراس نہیں کی۔

ادھر اکنامک ٹائمز نے لکھا کہ ’’دلائی لامہ کی سالگرہ کے موقع پر چینی افواج بھارت کی حدود میں 6 کلومیٹرتک اندر آ گئیں جنہوں نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کرلی، مقامی لوگوں نے بھی یہی بتایا لیکن حکومتی ذرائع نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی افواج ایل او سی پر اپنی حدود میں موجود رہیں‘۔

اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے ایک مقامی شخص نے بتایا کہ ہم اس دن دلائی لامہ کی 84ویں سالگرہ منا رہے تھے جب چینی افواج دم چوک کے علاقے میں چھ کلومیٹرتک اندر آ گئیں، وہ سادہ لباس میں ملبوس تھے اور گاڑیوں میں سادہ کپڑوں میں ملبوس ہو کر پہنچے تھے اور مبینہ طورپر چینی پرچم بھی لہرایاجو بعد میں مقامی لوگوں نے اکھیڑ دیا، انہوں نے مزید بتایا کہ چینی افواج علاقے کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے دوبارہ 7 جولائی کو بھی آ ئیں ، وہ کئی سالوں سے سالگرہ مناتے آ رہے ہیں لیکن اس سے قبل چینی افواج کی طرف سے ایسا کوئی قدم دیکھنے میں نہیں آ یا تھا۔

(602 بار دیکھا گیا)

تبصرے