Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 22 اکتوبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بھارت پاکستانی نمک بیچ کراربوں ڈالر کمارہاہے

قومی نیوز جمعه 12 جولائی 2019
بھارت پاکستانی نمک بیچ کراربوں ڈالر کمارہاہے

لاہور…بھارت نے حال ہی میں پاکستان سے درآمد کی جانے والی تمام مصنوعات پر ٹیکس لگا دیئے ہیں‘ ا س ضمن میں ا س نے تقاضوں کا خیال رکھتے ہوئے نمک پرٹیکس میں چھوٹ دے رکھی ہے‘ نمک بھارت میں ایک اہم ضرورت ہے اور یہ پاکستان کی نسبت بھارت میں مہنگا ہے‘ پاکستان کے عوام کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ بھارت کو سبق سکھانے کیلئے پاکستان بھارت کو نمک ایکسپورٹ کرنا بند کردے‘ کیونکہ کھیوڑہ کان سے حاصل ہونے والا نمک بھارت کی ایک اہم ضرورت ہے۔

اسے دلچسپ امر کہیں یا ستم ظریفی بھارت پاکستان کی کھیوڑہ مائن کا وہی نمک اس پر اپنے نام پر برانڈ لگا کر دوسرے ملکو ں کوبیچتا ہے۔ پاکستانی نمک بھارت سے اسرائیل جاپہنچتا ہے‘ جہاں اسے اس کی پیکنگ کرکے پوری دنیا میں فروخت کیا جاتاہے۔

بھارت اس نمک کی فروخت سے اربوں ڈالر کما رہا ہے۔ جبکہ پاکستان کو صرف چند کروڑ روپے حاصل ہوتے ہیں۔ بھارت نے پاکستان کے نمک کو دوسرے ملکوں کو فروخت کرنے کیلئے اس کابرانڈ نام ’’ہمالین سالٹ ‘‘ (ہمالائی نمک) رکھا ہواہے۔

پاکستان کی کھیوڑہ کی کان ’’پنک ہما لین سالٹ‘‘ کی پیدا وار کیلئے مشہور ہیں۔ہمارا نمک ابھی بھی کوڑیوں کے بھائو انڈیا جاتا ہے اور اس نمک کی اتنی قیمت بھی وصول نہیں کی جاتی جتنا کہ نمک اندرو ن ملک ترسیل پر ہی لاگت آجاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مودی کا پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے پھر انکار

اب انڈیا یہ نمک ہم سے ڈھیلوں کی شکل میں لیتا ہے اور کرتا کیاہے صرف اس کو کرش کر کے پیستا ہے اور پیک کردیتا ہے اور انتہائی مہنگے داموں پوری دنیا کو سپلائی کررہا ہے۔ ہمارا ملک یہاں قرضوں فاقوں میں اٹا پڑا ہے اور ہم کیسے بے فکری سے معاہدہ معاہد ہ کرتے ہوئے خاموشی بیٹھے ہیں۔

کیاہم خود نمک کو کرش کرکے پیک نہیں کرسکتے؟ دنیا بھر میں کہیں بھی پنک سالٹ موجود نہیں اورکھیوڑہ جیساذائقہ دنیابھر میں موجود نہیں تو کیا ہم اس انڈسٹری کو نہیں اٹھا سکتے؟ اب بات آگئی معاہدہ کی تو ہمیں یہ کرنا چاہیے کہ ہم انڈیا کو سپلائی دیتے رہیں۔

لیکن ہم صرف ان کی ضرورت کیلئے ناکہ اتنا کہ وہ اسے پوری دنیا میں بیچے دنیا بھر کو اپنا نمک ہم خود براہ راست فروخت کریں اور حاصل ہونے والی آمدنی سے اپنے قرضے اتاریں اب دوسرا اسٹیپ یہ ہے کہ ہم بھی انڈیا کی طرح ڈھٹائی پہ اتر آئیںاور انڈیا کو سپلائی کم سے کم کردیں۔

جیسے ان کے پاس ہماراپانی روکنے کے ایک سو بہانے ہیں۔ اسی طرح ہم بھی ایک سو ایک بہانہ جانتے ہیںکیونکہ سپلائی کم دی جارہی ہے۔

(283 بار دیکھا گیا)

تبصرے