Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 16 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

بھارتی مسلمان نام اور حلیہ بدلنے پر مجبور

ویب ڈیسک بدھ 10 جولائی 2019
بھارتی مسلمان نام اور حلیہ بدلنے پر مجبور

ممبئی …بھارت میں بڑھتی انتہا پسندی‘ اقلیتوں سے ناروا سلوک‘ ہجوم کے ہاتھوں تشدد سے ہلاکت کے بڑھتے واقعات کی وجہ سے اپنی جان و مال کے تحفظ کی خاطر بھارتی مسلمان اپنا نام اور حلیہ بدلنے پر مجبور ہورہے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ ہجومی حملوں میں مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے جو اپنے لباس‘ شناخت‘ حلیے اور ناموں سے بآسانی پہچان لئے جاتے ہیں۔

بھارتی بلاگرز نے بھی تسلیم کیا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی انتہا پسند ہندو‘ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا پرچار کررہے ہیں‘ کسی ثبوت کے بغیر مسلمانوں پر گئوکشی اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام لگارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : بے وقت بانگ دینے پر فرانسیسی مرغا گرفتار

منظم انداز میں روزانہ ایسی ویڈیو پھیلائی جاتی ہیں جس سے ایسے تاثر کو تقویت دی جاسکے۔ ہیومن رائٹس رپورٹ کے مطابق 2015ء سے 2018ء تک ہجومی حملوں میں 57 مسلمانوں کی جان لی جاچکی ہے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش میں 25 مسلمانوں کو ہجومی حملے میں تشدد کا نشانہ بنانے‘ بے غزت کرنے اور زبردستی جے شری رام کے نعرے لگوانے سے بھی مسلمانوں میں خوف پھیلا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے علاوہ اقوام متحدہ اور امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی حالیہ رپورٹ میں بھارت میں مذہبی آزادی کے فقدان اور اقلیتوں سے ناروا سلوک کی مذمت کی گئی ہے جبکہ واشنگٹن ٹائمز اور ٹیلیگراف انڈیا نے بھی اس موضوع پر قلم اُٹھایا ہے۔

اخبارات کے مطابق ہجومی حملوں کے خوف نے بھارتی مسلمانوں میں دہشت کا ماحول پیدا کردیا ہے۔

(545 بار دیکھا گیا)

تبصرے