Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
منگل 16 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

آڈیو ویڈیو سے جڑا شخص ملوث اور قابل سزا کہلائے گا

ویب ڈیسک منگل 09 جولائی 2019
آڈیو ویڈیو سے جڑا شخص ملوث اور قابل سزا کہلائے گا

کراچی…اٹارنی جنرل پاکستان انور منصور خان نے کہا ہے کہ کسی کو بتائے بغیر اس کی ویڈیو بنانا جرم ہے، ویڈیو بنانے اور نشر کرنے پر تین سال سزا اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہے بغیر اجازت ویڈیو بنانے اور نشر کرنے میں شریک تمام لوگوں پر بھی سزا کا اطلاق ہوتا ہے۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت کے جج کی ویڈیو کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے، ویڈیو کا معاملہ حکومت اٹھا سکتی ہے، جج بھی اٹھا سکتے ہیں، فیصلے کے وقت اس ویڈیو کا کوئی معاملہ نہیں تھا، تاہم ہائی کورٹ کے جج بھی سزا کے فیصلے کو جانچیں گے،اس سوال پر کہ جیسے مسلم لیگ نون دعویٰ کر رہی ہے تو کیا یہ مقدمہ دوبارہ چلے گا ؟

انور منصور خان نے کہا کہ اس کے اندر ایوڈینس مکمل کر دیا گیا تھا اس میں وہ اپیل میں موجود ہیں اپلیٹ فورم کے بیسز کے اوپر اگر اپیل میں جج صاحب کہتے ہیں کہ یہ ری ٹرائل کا کیس ہے تو اس صورت میں تو ری ٹرائل ہوگا خود سے ری ٹرائل کی طرف نہیں جایا جاسکتا

یہ بھی پڑھیں : مایوس افغانیوں کے پاکستانیوں پر حملے

جہاں تک جسٹس ملک قیوم کے ویڈیو کیس کا تعلق ہے تو پہلے سائبر لائزہمارے پاس نہیں تھے اس لئے ان کے خلاف ایکشن بھی نہیں لیا گیا تھا سائبر لائز میں واضح ہے کہ جو شخص بناتا ہے جس کے کہنے پر بنائی گئی ہے وہ شخص جس کے پاس ٹرانسمٹ ہوئی ہے اور اس نے کسی اور کو ٹرانسمٹ کی ہے اس کے سامنے پبلک میں لے کر ا?ئے ہیں وہ سب شامل ہیں ان سائبر کرائم میں۔

سائبر قوانین کے تحت ویڈیو سے جڑا ہر شخص ملوث کہلائے گا، ویڈیو بنانے کا کہنے والے اور نشر کرنے والے پر بھی سائبر قوانین لاگو ہوں گے، ویڈیو جس کے سامنے بنی ہو اس کا بھی سامنے ہونا ضروری ہے۔

(143 بار دیکھا گیا)

تبصرے