Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 16  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

جمہوریت کا طرزہی تبدیل ہوگیا

فرحینہ جبین (شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی) پیر 08 جولائی 2019
جمہوریت کا طرزہی تبدیل ہوگیا

رواں سال ایک نئی صدا بلند ہوئی ۔ ۔ تبدیلی کی صدا ! اس صدا نے ہزاروں دلوں میں امیدیں اور امنگیں پیدا کی ۔ غریب کو روٹی کی آس نظر آئ ، بے روزگار کو روزگار نظرآیا ،طلبہ کو اسکالر شپ نظر آئ ، کسان کو خوشحالی نظر آئ الغرض سب نے اپنی بساط کے مطابق اپنی چاہتوں کو ایک نئی منزل دی مگر ابھی کچھ وقت ہی گزرا ہے نہ جانے تبدیلی کو کس کی نظر لگ گئی ۔ اس نے اپنے تیور ہی بدل ڈالے ہیں ۔ اب تو اس کے رنگ ڈھنگ ہی بدل گئے ہیں ۔

اس تبدیلی کی شکل میں رُونما ہونے والی جمہوریت نے بھی سعودی چادر اوڑھ لی ہے ۔ اس نے عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے ۔ مہنگائ نے چند مہینوں میں ہی عوام کو پسپا کردیا ہے ۔ ایل پی جی تو مزے سے آسمانوں کی سیر کررہی ہے ۔ حیران کن بات تو یہ کے وہ غریب عوام جو اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے روپیہ روپیہ جوڑ کر ان کے ہاتھ پیلے کرتے تھے ۔ اب حکومت نےان سے اُن خوابوں کی تعبیر کو مزید مہنگا کرکے اس خواب کو مزید بوجھ تلے دبا دیا ہے ۔

سادہ زندگی کا درس دینے والے وزیراعظم نے ٹیکسوں کو ایسا درس دیا ہے کے اب زندگی کے ہر قدم پرغریب کو ٹیکس دینا ہے ۔ شادی کرنے پر بیس ہزار ٹیکس بھلا یہ کسی ترقی پذیر اسلامی ملک کو زیب دیتا ہے ۔ جہاں کی عوام تعلیم حاصل نہیں کرسکتی صرف اس سوچ فکر میں کے بہن کی شادی ہے ۔ فیس نہیں جمع کرواسکتا اب غریب عوام یہ سوچ کر شادی نہیں کرسکتی کے بیس ہزار نہیں ہے شادی کیسے کرے ؟؟؟؟ وزیراعظم تو بہت بڑے بڑے دعوے کررہے تھے کے پہلے مرحلے میں ہم ملک کا مستقبل بدل دینگے ، ٹیکس ، مہنگائ ، لوڈشیڈنگ کی شرح میں کمی کا اعلان کرے ۔

بقول وزیراعظم کے میرٹ ہماری پہلی ترجیح ہوگی ۔ میرٹ پر کام ہوگا !!! کیسا میرٹ ؟؟؟ کہاں ہے میرٹ ؟؟؟ دوستوں اور احباب کو وزارتوں میں منصب کردینا یہ کیسا میرٹ ہے ؟ اگر میرٹ پر کام ہوتا تو ملک میں موجود اعلیٰ تعلیم یافتہ ، اعزاز یافتہ نوجوان جن کا حوصلہ پختہ اور پرعزم ہے ۔ ان کو وزارتوں پر منصب کیا جاتا اور میرٹ کی عظیم تاریخ رقم کی جاتی ۔ ملک میں ایسے نو نہار ہیرے موجود ہیں ۔ جن کو میرٹ کی بنیاد پر وزارتوں پر فائز کر کے تبدیلی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں : دودھ کی پیداوار‘ پاکستان کا پانچواں نمبر

پاکستان میں تبدیلی لانی ہے ۔ تو پاکستان میں سے ہی ایسے ہونہار افراد کو منتخب کیا جائے جو گھر (ملک) کے حالات سے واقف کار ہیں ۔ جو لوگ گھر (ملک) سے دور رہتے ہیں ۔ ساری زندگی دوسرے ممالک میں رہتے ہیں ۔ جن کا سارا بزنز باہر مما لک میں ، ساری پراپرٹی باہر مما لک میں وہ افراد پاکستان کی معاشی ، اقتصادی اور سیاسی صورتحال کو بہتر طورپر نہیں سمجھسکتے ۔ یہ تبدیلی نہیں تبدیلی کے ساتھ دھاندلی ہے ۔ میرٹ نہیں میرٹ کی دھچیاں اڑائی جارہی ہیں ۔

لوٹی ہوئی دولت کو ملک میں لانے کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں کیا جارہا ۔ ڈیم فنڈ کے لئے کرپٹ حکمرانوں سے مدد کیوں نہیں مانگی جارہی ہے ؟؟؟ جن کی اربوں کھربوں کی دولت باہر ہے ۔ ان پر پانچ پانچ لاکھ کے مچلکے لگانا کہاں کا انصاف ہے !!! ڈیم ہمارے ملک کی اشد ضرورتوں میں سے ہے ۔ کالا باغ ڈیم پر سیاست سے منسلک سیاسی لوگوں کی رائے کو اہمیت دینا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ کالاباغ ڈیم پر ایک سائنسی ٹیم کیوں تحقیق کے لئے نہیں بنائی جاتی ہے؟؟؟ ڈیم کے فوائد اور نقصانات کو ایک سائنسی اور انجینئرز کی ٹیم ہی بتاسکتی ہے۔

ہم بیرون ممالک سے قرضہ لینے تو چلے جاتے ہیں ۔ کیا ہم بیرون ممالک سے ایک ٹیم کو نہیں بلواسکتے جواس بات کی نشاندہی کرسکے کے کالاباغ ڈیم بننا چاہیے یا نہیں ؟؟؟ وہ سیاست دان جن کے تعلیمی قصے سوشل میڈیا پر وائرل ہیں ۔ جن کی ڈگریاں ہی جعلی ہوتی ہیں ۔ ان کو سائنسی معلومات کا کیا علم ہوتا ہوگا ؟؟؟ ہم اتنے کمزور ہیں کے ہمارے ماتحت کرپٹ لوگوں کورہائی مل جاتی ہے اور ملک میں معاشی اور اقتصادی صورتحال کے لئے کوئی جےآئی ٹی نہیں بنائی جاتی ہے۔

تبدیلی کا پہیہ چل تو پڑا ہے ۔ دعاگوہی رہےگے کے یہ راستہ ایک ایسی تبدیلی کا ہی ہو جس کو وزیراعظم نے قوم سے پہلے خطاب میں عوام کوسہانے خواب دکھاکر دیاتھا ۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، غریب عوام پر ٹیکس پر ٹیکس، حکومتی اداروں کی خستہ حالی، پرائیوٹ اداروں کی ہٹ دھرمی، سو (100) دن میں ان سب پرعمل درآمد ناممکن نظرآرہاہے۔ تبدیلی کےچراغ تلے جمہوریت اندھیرے میں نظرآرہی ہے۔

(171 بار دیکھا گیا)

تبصرے