Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
هفته 14 دسمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مہنگائی جان کو آئی،گاہکوں کے تیور بگڑنے لگے

قومی نیوز جمعه 05 جولائی 2019
مہنگائی جان کو آئی،گاہکوں کے تیور بگڑنے لگے

کراچی …بڑھتی قیمتوں پر گاہکوں نے دکانداروں کو سخت سنانا شروع کردیں‘ دکانداروں کو گلہ ہے کہ مہنگی اشیاء مول لے کر کم نفع پر بیچنے پر مجبور ہیں‘ اس کے باوجود گاہکوں کے بگڑتے تیور کا سامنا ہے۔ دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ تنخواہیں نہیں قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ چینی 50 سے بڑھ کر 75 روپے کلو‘ آٹا 35 سے 50 روپے فی کلو جا پہنچا ہے تو چاولوں کی ہر کوالٹی پر بھی فی کلو کم سے کم 20 روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ ہم نے قیمتیں کب طے کی ہیں‘ منڈی سے جس بھائو پر لیتے ہیں‘ آگے اسی تناسب سے خوردہ نرخ پر فروخت کرتے ہیں۔ شہر کی قدیم شہاب مارکیٹ کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ ہمارے گاہک 30 سے 40 سال پرانے ہیں‘ برسوں کی ریت ہے کہ ہم سے ادھار مول لیتے ہیں اور تنخواہ ملنے پر حساب چکاتے ہیں لیکن اس بار یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ جس کے ذمہ 10 ہزار چڑھ گئے ہیں‘ 9 ہزار تھما رہا ہے جسے دیکھ اس کا ہاتھ تنگ نظر آرہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران نے اسرائیل کو تباہ کرنیکی دھمکی دے دی

گاہک پورا ادھار چکانے کے دعوے پر مزید ادھار مانگ رہا ہے۔ سارا ملک اسی فلسفے پر عمل کرتا نظر آرہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس برس نئے کپڑے نہیں بنائے‘ شام کو باہر کھانے کے لئے نکلنا بھی ترک کردیا ہے‘ پکوان تو گھر میں ہی بنتا ہے مگر اس میں اب پانی زیادہ کردیا جاتا ہے۔ شہریوں کو تاسف ہے کہ گھر کے بڑے تو روکھی سوکھی پر اکتفا کرسکتے ہیں مگر بچوں کو تو بستر پر بھوکا نہیں سلایا جاسکتا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ امید تھی کہ جیل جانے والوں سے لوٹ کا مال نکلے گا‘ ملک کا مقدر سنورے گا مگر جیل جانے والے اب بھی آسودہ ہیں اور پاکستان کا شہری جیل سے باہر رہ کر بھی تکلیف جھیل رہا ہے۔

دوسری طرف آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پاکستان کے لئے 6 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی منظوری کے بعد شرائط جاری کردی گئی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ڈالر آزاد ہوگا‘ بجلی گیس کی قیمتوں میں حکومتی مداخلت نہیں ہوگی‘ ٹیکس آمدنی میں اضافہ‘ گردشی قرضوں کا خاتمہ‘ واجبات کی وصولیاں یقینی بنائی جائیں گی تاہم ملک میں مہنگائی بڑھے گی‘ بجلی گیس کی قیمتوں میں حکومتی مداخلت نہیں ہوگی۔

(436 بار دیکھا گیا)

تبصرے