Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 22  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

کراچی کے بے روزگار نوجوانوں کیلئے نوکریاں بند

صابر علی جمعه 05 جولائی 2019
کراچی کے بے روزگار نوجوانوں کیلئے نوکریاں بند

کراچی …حکومت سندھ نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی خالی اسامیوں پر بھرتی سے میئر کراچی کو روک دیا۔اس طرح کراچی کے بے روزگار نوجوانوں پر ملازمین کے دروازے جو پہلے ہی ایک طویل عرصے سے بند تھے‘ حکومت سندھ نے تازہ احکامات کے ذریعے ایک بار پھر صرف کراچی کے بے روزگار نوجوانوں پر ملازمت کے دروازے بند کردیئے۔

واضح رہے کہ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن حکومت نے 8 مئی 2019ء کو سرکاری محکموں میں گریڈ ایک تا 4 تک اسامیوں کا اختیار متعلقہ محکموں کے سربراہوں کو دیا تھا‘ اس خط کے حوالے سے 28 مئی 2019ء کو لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ نے ایک خط کے ذریعے سندھ بھر کے بلدیاتی اداروں کو بجٹ میں موجود خالی اسامیوں پر تقرری کا اختیار دیا تھا‘ جس کے بعد بلدیاتی اداروں نے اخبارات میں اشتہار شائع کرایااور خالی اسامیوں کے لئے امیدواروں سے درخواستیں طلب کیں۔

اس حوالے سے بلدیہ عظمیٰ کراچی میں بھی 1132 آسامیوں کے لئے اشتہار دیا گیا تھا تاہم 24 جون 2019ء کو ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ سندھ نے ایک خط کے ذریعے صرف بلدیہ عظمیٰ کراچی سمیت کراچی کے تمام بلدیاتی اداروں خصوصاً ضلعی بلدیات کو مطلع کیا کہ وہ خط منسوخ کیا جاتا ہے جس کے تحت گریڈ ایک تا 4 کی خالی اسامیوں پر تقرری کی اجازت دی گئی تھی جبکہ کراچی کو چھوڑ کر پورے سندھ کے بلدیاتی اداروں میں ان اسامیوں پر بھرتی کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : کراچی کا امن خطرے میں

میئر کراچی وسیم اختر نے حکومت سندھ کے اس اقدام کو بلاجواز اور کراچی دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میزانیہ میں موجود اسامیاں جو برسوں سے خالی ہیں اور بلدیاتی اداروں کی ضرورت بھی ہے‘ ان اسامیوں پر بھرتی کے لئے تمام تر قانونی تقاضے پورے کرلئے گئے تھے اور بے روزگار نوجوانوں سے درخواستیں بھی موصول ہوگئی تھیں‘ تاہم اچانک حکومت سندھ نے صرف کراچی کے بلدیاتی اداروں کے لئے بھرتی کا اجازت نامہ منسوخ کیا گیا ہے جبکہ سندھ کے دوسرے ڈویژن کے بلدیاتی اداروں سمیت سندھ کے تمام سرکاری اداروں میں ان اسامیوں پر تقرری کی اجازت برقرار ہے

صرف کراچی کے نوجوانوں پر سرکاری ملازمت کے دروازے بند کرنا‘ کراچی کے نوجوانوں کا معاشی قتل کے مترادف ہے‘ حکومت سندھ کے اس اقدام سے کراچی کے عوام اور بے روزگار نوجوانوں کی محرومیوں اور نفرتوں میں اضافہ ہوگا

حکومت کے اس غلط فیصلے کی وجہ سے کراچی کے 1132 نوجوان صرف کے ایم سی میں سرکاری ملازمت سے محروم رہیں گے۔ میئر کراچی نے کہا کہ اگر اس حکم کو منسوخ کرنا پالیسی تھی تو پورے سندھ کے بلدیاتی اداروں میں اس پر عمل ہونا چاہئے‘ سندھ حکومت صرف اپنے کارکنوں کو تو ملازمتیں دے رہی ہے مگر کراچی کے نوجوانوں کو ان کے حق سے محروم کردیا گیا ہے جو کھلی کراچی دشمنی اور زیادتی ہے۔

(362 بار دیکھا گیا)

تبصرے