Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
پیر 22 جولائی 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

ہر قسم کے کاروبار کے لیے رجسٹریشن لازمی

ویب ڈیسک منگل 02 جولائی 2019
ہر قسم کے کاروبار کے لیے رجسٹریشن لازمی

اسلام آباد… ملک بھر میں آج سے ریڑھی لگانے سے لے کر ہر قسم کے کاروبار کے لیے رجسٹریشن لازمی قرار دیدی گئی ہے جبکہ رجسٹریشن نادرا سہولت مراکز پر ہوگی۔

بجٹ کے نفاذ کے بعد پیر سے ٹیکسٹائل، لیدر، اسپورٹس اشیا، کارپٹس، سیمنٹ ، اینٹیں،سگریٹ، سریا سمیت دیگر اسٹیل مصنوعات، گھی، کوگنگ آئل،مشروبات و منرل واٹر،میک اپ کا سامان، جوسز،سی این جی،چینی، برانڈڈ اشیا، فرون اشیاء ،پینٹس، وارنش، الیکٹرک و ہوم اپلائنسز، لبریکنٹ آئل،اسٹوریج بیٹریاں، سیمنٹ،ایل این جی،ہیرے جواہرات، سونا چاندی، گاڑیاں، ماربل، ٹرانسپورٹ کرائے اور تمام درآمدی اشیاء مہنگی کردی گئی ہیں جبکہ کیپٹل گین ٹیکس کیلئے جائیداد کا ہولڈنگ پیریڈ جوپہلے 3 سال تھا بڑھا دیا ہے۔

پہلے 3 سال بعد پراپرٹی کی فروخت پر کیپٹل گین ٹیکس سے چھوٹ تھی‘ اب یہ مدت تعمیر شدہ جائیداد کیلئے 5 سال اور پلاٹ کیلئے دس سال کردی گئی ہے۔سُپر ٹیکس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔بینکوں کیلئے آمدنی کا فارمولا لاگو کردیا گیا ہے۔ایک لاکھ ماہانہ تنخواہ والوں پراڑھائی ہزار روپے ماہانہ ٹیکس عائد کردیا گیاہے۔

80 لاکھ سے اوپر والی پراپرٹی انکم پر ٹیکس 20 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کردیا گیا ہے۔ٹرانسپورٹ سروسز پر ٹیکس کی شرح 2 سے بڑھا کر 4 فیصد کردی گئی ہے۔ مقامی رائیلٹی پر 15فیصد ٹیکس عائد کردیا ہے جبکہ یکم جولائی سے ایکٹو ٹیکس پئیر لسٹ میں آنے کے لئے دیر سے گوشوارے جمع کروانے پر ایک ہزار سے20 ہزار روپے جرمانے دینا ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں : پراپرٹی کی قیمتیں مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہونگی

نان فائلرز کے لئے جائیداد و گاڑیاں خریدنے پر پابندی ختم کردی گئی ہے تاہم انہیں جائیداد یا گاڑی خریدنے کے 45 دن میں ریٹرن جمع کروانا ہوگی۔ ریٹرن جمع نہ کروانے پر ایف بی آر از خود ٹیکس کا تعین کرکے ریکوری کا نوٹس جاری کرے گا۔عدم ادائیگی پر پراسیکیوشن ہوگی جس میں بھاری جرمانے اور ایک سال سے 3 سال تک کی قید ہوسکے گی۔

رواں مالی سال کے بجٹ میں آرمی چیف، صدر پاکستان، وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان سمیت دیگر تمام مراعات یافتہ طبقے کو انکم ٹیکس سے چھوٹ برقرار رکھی گئی ہے اور مراعات یافتہ طبقے کے لئے ٹیکس سے متعلق دوسرے شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق امپورٹڈ شہد، مشروب ٹن میں پیک سبزیاں اور پھل پر ٹیکس بڑھا کر 10 فیصد،امپورٹڈ آٹا، میدہ، مکئی اور اسپغول پر ٹیکس بڑھا کر 10 فی صد اور پان پر ٹیکس 400 روپے فی کلو کردیا گیا،امپورٹڈ کوکا پائونڈر، چاکلیٹ پیسٹ اور چینی پر ٹیکس 20 فیصد کردیا گیا، امپورٹڈ بسکٹ، کیک، پیسٹری اور ڈبل روٹی پر ٹیکس 20 فیصد،امپورٹڈ بادام، میوہ جات اور روسٹڈ ڈرائی فروٹ پر ٹیکس 20 فیصد،امپورٹڈ ٹماٹر پیسٹ، سرکہ میں ڈوبی سبزیوں پر بھی ڈیوٹی 20 فیصد اضافہ کر دیا گیا۔

امپورٹڈ کافی کے مختلف برانڈز پر ڈیوٹی 15 فیصد کردی گئی،امپورٹڈ آئس کریم، کریم اور کوکا کریم پر ڈیوٹی 20 فیصد کردی گئی،امپورٹڈ سگار، تمباکو اور پائپ کے تمباکو پر ڈیوٹی 35 فیصد کردی گئی،امپورٹڈ پینٹ، وارنش اور اینے ملز پر ڈیوٹی 10 فیصد کردی گئی،امپورٹڈ شیونگ کے سامان پر ڈیوٹی 50 فیصد کردی گئی،رنگ گورا کرنیکی امپورٹڈ کریم اور صابن پر ڈیوٹی 50 فیصد اورامپوٹڈ وال پیپرز، کھڑکیوں کیلئے بلائنڈز اور شیٹس پر ڈیوٹی 30 فیصد کر دی گئی۔

(202 بار دیکھا گیا)

تبصرے