Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
اتوار 22  ستمبر 2019
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

مریم کا مستقبل وقت بتائے گا،وزیراعظم

ویب ڈیسک منگل 02 جولائی 2019
مریم کا مستقبل وقت بتائے گا،وزیراعظم

کراچی…وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ ایسا ہو ا ہے کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں ایک مہینہ گزر گیا جلد ہی ڈالر کی حقیقی قیمت کا پتہ چل جائے گا،آئی ایم ایف کے ساتھ ڈالر کی قیمت کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی ، نواز شریف کے ساتھ این آ ر او نہیں ہو سکتا پلی بارگین کریں رقم دیں جہاں چاہیں چلے جائیں علاج کرائیں ، آ صف علی زرداری کو تکلیف ہے تو وہ بھی پلی بارگین کریں

جیل کی یہ اے بی کلاس کیا ہے منی لانڈرنگ میں پکڑے جانے والوں کو عام قیدیوں کے ساتھ رکھا جائے، مریم کا مستقبل وقت بتائے گا بلاول کی کوئی حیثیت نہیں اور مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے ، آ رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، ڈالر کے محفوظ ذخائر استعمال کرنے سے روپے پر دبائو بڑھا

زرمبادلہ ذخائر سارے ادھر چلے گئے،سالانہ دس ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے تجارتی عدم توازن بھی خسارے کی وجہ ہے ،سیاسی قیادت کا جینا اور مرنا پاکستان میں ہوتا تو آ ج ملک کا یہ حال نہ ہوتاحکومت گرانے کی باتیں کرنے والوں کو ملک کی کوئی فکر نہیں ان کی تو عیدیں بھی باہر گزرتی ہیں ہم پانچ سال پورے کریں گے ، ذہنیت بدل رہے ہیں ، تمام صنعتوں کو منافع بخش بنائیں گے۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادوں نے دو ممالک سے رابطہ کیا اور ان کے والد کو سہولت فراہم کرنے کے لیے مداخلت کی درخواست کی،انہوں نے ان ممالک کا نام لیے بغیر کہا کہ ان ممالک کے پیغام پہنچایا لیکن مداخلت سے انکار کیا اور مجھے بتایا کہ وہ ملکی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں : کراچی سمندر میں دھنس سکتاہے

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سویڈن یا چائنا کی اکانومی ملی ہوتی توبات دوسری تھی ہم لوگو ں کو بتا سکتے ہیں کہ اکانومی صحیح ڈائریکشن میں جا رہی ہے ہمیں ریکارڈ فسکل ڈیفیسٹ ملا ، سب سے بڑا کرنٹ اکائونٹ خسارہ ملا ، ڈالر مْلک میں اندر آ رہے تھے اور جو باہر جا رہے تھے ان میں ساڑھے انیس ارب ڈالر کا خسارہ تھا جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے اِس سے روپے پر پریشر پڑ گیا۔ پچھلی حکومت نے بلند شرح سود پر 14 ارب ڈالر کے کمرشل لون لیے ہوئے تھے سود زیادہ دینا تھا

اگر ہم نہ دیتے تو مْلک ڈیفالٹ کر جاتا اور آ پ اندازہ ہی نہیں لگا سکتے کہ پاکستان کے حالات کیا ہونے تھے سابقہ حکومت نے روپے کو مصنوعی طور پر اوپر رکھنے کے لیے اور ڈالر کو نیچا رکھنے کے لییانہوں نے ایک سال میں سات ارب ڈالر خرچ کیے ، فارن ایکسچینج اْدھر چلے گئے جب ہم آ ئے صرف دو ہفتے کے فارن ایکسچینج رہ گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یو اے ای ، سعودی عربیہ، چائنا اور اب آ کر قطر مدد نہ کرتے تو ابھی تک ہم ڈیفالٹ کر چکے ہوتے ہمارے پاس تو پیسے نہیں تھے دس مہینے میں دس ارب ڈالر ہم دے چکے ہیں جب ڈالر دیتے ہیں باہر تو پھرروپے پر پریشر تھا،لیکن ایک اور چیز بھی ہے جو اِس میں نظر نہیں آ تی، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال دس ارب ڈالر کا پیسہ منی لانڈر ہوکر باہر جاتا ہے منی لانڈرنگ پر قابو پا جاتے تو ہمارا اتنا بڑا خسار ہ نہ ہوتا، دو چیزوں کی وجہ سے روپیہ پریشر پڑا ہے منی لارڈنگ اور ہمارا امپورٹ ایکسپورٹ کا گیپ۔

اس کی وجہ سے آ ئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ رہا ہے انشااللہ حالات مستحکم ہو جائیں گیآ ئی ایم ایف کیساتھ 3 تاریخ کو میٹنگ ہے جیسے ہی آ ئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہوتا ہے یہ جو بھی افراتفری پڑی ہے یہ ختم ہو جائے گی اس سوال پر کہ بعض لوگوں کے مطابق آ ئی ایم ایف کے ساتھ حکومت کا خاموش معاہدہ ہوا ہے کہ رواں سال کے آ خر تک ڈالر 185 کا ہو جائے گا؟ عمران خان نے کہا کہ سابق حکمرانوں اور پاکستان کے انٹریسٹ متضاد ہیں۔

(261 بار دیکھا گیا)

تبصرے